فوج مداخلت کیوں کرتی ہے؟

آخری قسط

"کیا کوئی ایسا جائز آئینی راستہ ہے جس پر چل کر فوج کے مفادات کا تحفظ بھی ہوتا رہے اور سویلین بالادستی بھی قائم رہے؟ پچھلی قسط اس سوال پر ختم کی تھی ۔

آئین پر مکمل عمل ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر تمام اداروں اور شہریوں کے مفادات کا تحفظ ممکن ہے ۔ آئین پر مکمل عملدرامد کا مطلب سول بالادستی ہے اور اسے فوج اپنے مفادات کے خلاف سمجھتی ہے ۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہماری فوج کے مفادات اتنے پھیل چکے ہیں کہ ہمارا موجودہ آئینی فریم ورک ان کیلئے ناکافی ہے ۔

اس مسئلے کا حل آئینی ترمیم نہیں ہے، بہت کر کے دیکھ چکے ۔ ہر ترمیم بھی کچھ عرصے بعد ان کیلئے ناکافی ہو جاتی ہے ۔

تو پھر حل کیا ہے؟

حل یہ ہے کہ بتدریج فوج کے مفادات سکیڑنے کا اہتمام کیا جائے ۔ مگر یہ اہتمام جو بھی اکیلے کرنا چاہے گا، وہ اڈیالہ جیل میں بغیر بستر کے فرش پر پڑا دکھائی دے گا ۔

یہ اہتمام فرد نہیں صرف قوم کر سکتی ہے ۔ قوم کو میسر واحد راستہ پولنگ سٹیشن سے ہو کر گزرتا ہے ۔ ہمارا ووٹ طے کرے گا کہ ہمارا انتخاب جمہوریت اور سویلین بالادستی کی علمبردار سیاسی قوتیں ہیں یا کٹھ پتلیاں؟

آج جبکہ عام انتخابات میں فقط سات دن باقی ہیں، عوام کی رائے پر اثرانداز ہونے کیلئے ہر فریق اپنا پورا زور لگا چکا ہے ۔ بدقسمتی سے ایک جانب ملک کا طاقتور ترین ادارہ ہے، جو عدلیہ، انتظامیہ اور میڈیا کو ہمنوا بنا کر سٹیٹس کو کی نئی محافظ جماعت کو تبدیلی کے نعرے کے ساتھ فتحیاب دیکھنا چاہتا ہے ۔ اور دوسری جانب لہو لہان اے این پی ہے ۔ تتربتر ایم کیو ایم ہے ۔ بدترین دباؤ کا شکار پیپلز پارٹی ہے- زخم کھاتی مگر سینہ تان کے کھڑی مسلم لیگ نواز ہے-

اب تک آزمائے جانے والے تمام ہتھکنڈے پچیس جولائی کو ایک غیرمعمولی ٹرن آؤٹ کے سامنے بے بس اور بےاثر ہو سکتے ہیں۔ اگلے پانچ سال ہم اس کھینچاتانی کے متحمل نہیں ہو سکتے جو پچھلے دس سال سے بھگتتے چلے آ رہے ہیں۔ صرف ایک طاقتور پارلیمنٹ ہمیں بچا سکتی ہے ۔

اپنے ووٹ کو عزت دیجئے ۔

یہ تحریر محمد اشفاق کی فیس بک سے ان کی اجازت سے حاصل کی گئی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے