پاکستان کو بخش دیں

اظہر سید

یہ کیا ہو رہا ہے کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم کردہ ملک میں شرابیوں، بدکاروں اور جواریوں کو مسلط کرنے کی سازش ہو رہی ہے؟ ریحام خان کے الزامات غلط ہو سکتے ہیں مگر خدا کیلئے کوئی ادارہ تحقیقات تو کرے ۔ اگر یہ الزامات سچے ہوئے تو کیا پھر 1971 کی کہانی دوہرائی جائے گی جب اداکارہ ترانہ قومی ترانہ بن گئی تھی؟ جب ریاست کا سربراہ شراب کے نشے میں رہتا تھا، جب شراب کے نشے میں روسی صدر کو پاکستانی صدر مغلظات بکتا تھا ۔ اس ملک پر رحم کریں ریحام خان نے جو الزامات عائد کئے ہیں اور جن پر کئے ہیں بیشتر کردار پاکستان میں موجود ہیں کوئی بابا رحمتے کیوں سو موٹو نوٹس نہیں لیتا ۔کیا نظریہ کی بنیاد پر بننے والے پاکستان کا وزیراعظم ایسے شخص کو بنانے جا رہے ہیں جس کی وفاداریاں مشکوک ہیں جو فرینڈز اف اسرائیل نامی اسلام اور مسلمان دشمن یہودی تنظیم کے سرکردہ راہنما اور اپنے سابقہ سالے کی میر لندن کے انتخابات میں الیکشن مہم چلاتا تھا ۔ کیا ایسے شخص کیلئے ریاستی اداروں کو پوری دنیا کے سامنے تماشا بنایا جا رہا ہے جو غیر قانونی تعلق کے بعد اپنی بیٹی کے وجود سے انکار کرتا ہے لیکن اس کی سابقہ بیوی جمائما اسے سوتیلی بیٹی کے طور پر اپنائے ہوئے ہے ۔ہم حیران ہیں یہ کس طرح کے علما و مشایخ ہیں جو کسی کے اشارے پر عمران خان کی حمایت کر رہے ہیں ۔اس سارے کھیل کی نگرانی کون کر رہا ہے ۔
پناما کا تماشا نواز شریف کیلے تھا یا سی پیک کیلئے تھا۔ سی پیک پر کام بند ہو چکا ہے اور نواز شریف فارغ، فیصلے کہاں پر ہو رہے ہیں اور کیا مشاورت سے ہو رہے ہیں یا اس مرتبہ بھی کارگل جیسے فیصلے کئے جا رہے ہیں، کارگل کے کھیل میں شامل کھلاڑیوں میں جنرل شاہد عزیز تھے ،جنرل گلزار کیانی تھے ،جنرل ضیا الدین بٹ تھے ،سب نے کھیل شروع کرنے والے چند کھلاڑیوں کی نشاندہی کی تھی اور کمانڈو جنرل مشرف جس اجلاس کاذکر کرتا تھا اس کے شرکا اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف، راجہ ظفرالحق، سرتاج عزیز سب جھوٹ کا پول کھول چکے ہیں یہ سارے جنرل اور سارے سیاستدان جھوٹے اور جنرل مشرف اور اس کے تین ساتھی جنرل سچے ۔کیا بات ہے ۔ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں لکھ دیا ”بھارت نے اوور ریکشن دکھایا ”اور فارغ ہو گیا جو پہاڑی چوٹیاں بھارت کو مل گئیں ان کا کیا ؟ جو نوجوان افسران اور جوان شہید ہو گئے ان کا کیا ۔وہ پہاڑی چوٹیاں جو بھارت کے ساتھ جنگ کی صورت میں ایک ڈھال بننی تھی ان کا کیا ؟
کیا اب پھر کوئی کارگل جیسی صورتحال ہے کیا مستقبل میں پھر چند جنرل حقائق بیان کریں گے ،کیا مستقبل میں پھر چند سیاستدان کوئی پول کھولیں گے ،کیا مستقبل میں پھر کوئی کتاب لکھی جائے گی ”نواز شریف نے اوور ریکشن دکھایا ”
پوری دنیا پاکستانی کے انتخابات پر نظریں لگائے ہوئے ہے ،بین القوامی میڈیا جو کچھ کہہ رہا ہے کیا کسی کی اس پر نظر ہے ۔کیا یہ ممکن ہے کہ ماضی کی طرح کسی کو نواز شریف بنا کر کسی پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ چوری کر لیا جائے ۔نہیں اب یہ ممکن نہیں، اس وقت سوشل میڈیا نہیں ہوتا تھا اس لئے بینظر بھٹو کا مینڈیٹ چوری کر لیا جاتا تھا،اس وقت مذاحمت پنجاب سے نہیں ہوتی تھی ۔ پہلے آواز سندھ،خیبر پختوںخواہ اور بلوچستان سے اٹھتی تھی، پنجاب خاموش رہتا تھا ۔ پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ گیا ، اب آواز پنجاب سے اٹھ رہی ہے ۔ پہلے بینظر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو تھے،عدلیہ کے فیصلوں کو خالی پیٹوں ہضم کر لیا جاتا تھا،اب عدلیہ کے فیصلوں پر آواز اٹھ رہی ہے،اب الیکشن سے قبل اداروں کے متعلق آواز اٹھ رہی ہے ،اب الیکشن سے قبل نیب کے کردار پر اواز اٹھ رہی ہے،نجی میڈیا پر قابو پانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے، بلند ہونے والی آوازوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، کونسی آواز خاموش کی جائے گی ۔
جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کا ہدف سی پیک ہے،اس کا ہدف خود پاکستان کی افواج ہیں ۔جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کا ہدف پاکستان کا ایٹمی پرواگرم ہے اور اس کا ہدف خود پاکستان ہے ۔
عالم اسلام میں صرف ایک فوج بچی ہے جو پروفیشنل بھی ہے اور ایٹمی صلاحیت کی حامل بھی، جب تک یہ فوج موجود ہے پاکستان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، جب تک اس فوج کو عوام کی حمایت حاصل ہے پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدیں محفوظ ہیں تو یہ کن لوگوں کے فیصلے ہیں جن کی وجہ سے اداروں پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں ۔ آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے براہ راست الزام عائد کر دیا ہے ،اس سے قبل سپریم کورٹ کے جسٹس فیض عیسیٰ سوالات اٹھا چکے ہیں، کیا یہ سب کچھ اس شخص کیلئے کیا جا رہا ہے جو کہتا تھا ،”سپریم کورٹ کے ججوں کو دس ارب روپیہ رشوت کی پیشکش کی گئی ” اور کسی سپریم کورٹ نے اس کا سوموٹو ایکشن نہیں لیا ۔ کیا یہ سب کچھ اس شخص کیلئے کیا جا رہا ہے جو کہتا تھا ”چینی صدر سی پیک پر دستخط کیلئے نہیں آ رہا ” جو کہتا تھا ”عوام بجلی اور گیس کے بل اور ٹیکس دینے سے انکار کر دیں جو کرنسی نوٹوں پر سیاسی نعرے لکھنے کے احکامات دیتا تھا ۔کیا پاکستانی معیشت کو کسی عالمی سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔کیا پاکستان کے حصص بازار میں کسی سازش کے تحت ویرانیاں مسلط کی گئی ہیں ۔ کس آئین اور قانون میں لکھا ہے نگران حکومت روپیہ کی قیمت میں کمی جیسے اہم ترین معاشی فیصلے کرے ۔اگر آئی ایم ایف پرواگرام کیلئے پیشگی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں تو عام انتخابات میں ایک ہفتہ رہ گیا ہے کیوں منتخب حکومت کا انتطار نہیں کیا گیا ۔کیا دال میں کچھ کالا ہے یا ساری دال ہی کالی ہے ۔
پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کیا جا رہا ہے ۔ہمالہ جیسی دوستی والا چین برکس کانفرنس میں حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے ۔ترکی سعودی عرب اور چین عالمی ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور یہاں مستقبل کے وزیر خزانہ کی حمایت کا اعلان وہ شخصیت کر رہی ہے جو عالمی پابندیوں کی زد میں ہے اور مستقبل کے ممکنہ وزیر خزانہ نے عالمی ٹاسک فورس کے اجلاس میں پیش رفت کی رپورٹ پیش کرنا ہے کہ پاکستان انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے فلاں فلاں اقدامات کر چکا ہے ۔ واہ بھئی واہ ۔پتہ نہیں ملک دشمنی ہو رہی ہے یا حب الوطنی کے مظاہرے ہیں، جن لوگوں کے نام شیڈول فور سے نکال کر الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی اور جنہوں نے لیبک بنائی، ملی مسلم لیگ بنائی عالمی برادری کو سب خبر ہے ۔پتہ پتہ جانتا ہے گل نہ جانے بے خبر ہے یا خود ہی سب کچھ کر رہا ہے ۔
حالات اب بھی سنبھالے جا سکتے ہیں ،چینیوں کا اعتماد اب بھی بحال کیا جا سکتا ہے ۔پاک فوج کے خلاف ملک دشمن قوتوں کی تمام سازشیں اب بھی الٹی کی جا سکتی ہیں ،حصص بازار میں اب بھی سرمایہ کار واپس آ سکتے ہیں، شرط صرف اتنی ہے انا کے بت توڑ دئے جائیں اور قومی یکجہتی کیلئے نیا اپریشن شروع کیا جائے ۔اپریشن رد الفساد بھی کامیاب ہوا، اپریشن ضرب عضب بھی کامیاب ہوا،کراچی کو بھی مافیا سے نجات مل گئی ۔ پوری قوم پیچھے کھڑی تھی،اب ایک اور اپریشن شروع کیا جائے، قومی یکجہتی اپریشن ۔میڈیا میں پالتو بنائے گئے لوگوں کی تشریف پر زور دار لات مار دی جائے اور نئے لوگوں کے زریعے، اینکرز کے زریعے قومی یکجہتی اپریشن کا آغاز کیا جائے ۔کسی کو 2018 کا نواز شریف نہ بنایا جائے اور نہ کسی کو بھٹو ،اداروں کو مضبوط کیا جائے اور تمام ادارے آئین اور قانون کے تحت دئیے گئے مینڈیٹ کے مطابق ریاست کے تحفظ اور بقا کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔

متعلقہ مضامین