خدا خیر کرے

میاں کاشان

مادر وطن میں کچھ ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں کہ دل کانپ اٹھتا ہے اور اسی دھڑکتے دل سے اور پریشانی کیساتھ یہ تحریر پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔ یقینا بہت سے احباب کو ناگوار گزرے گی ان سے پیشگی معذرت ۔ اب وہ قبول بھی کر لیں تو نوازش ہوگی۔ اٹھارہ جولائی بروز بدھ اسلام آباد ہائیکورٹ میں لا پتہ افراد کے ایک کیس کی سماعت کے دوران محترم جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے کچھ زیادہ ہی سچ گوئی اور دلیری کا مظاہرہ فرما دیا۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ عدالت میں ایک کاروباری شخصیت کو مبینہ طور خفیہ ادارے کی جانب سے اٹھائے جانے کا معاملہ زیر سماعت تھا۔ سماعت کے دوران اس خفیہ ادارے کے حکام ، پولیس کے اعلیٰ افسر اغواء ہونیوالا شخص اور اسکا بھائی بھی عدالت میں موجود تھے۔ اغواء ہونیوالے شخص نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ خود غائب ہوا تھا جبکہ اس کے بھائی نے بیان دیا کہ اسے خفیہ ادارے کے اہلکار اٹھا لے گئے تھے۔ جس پر معزز جج صاحب بھی اپنی بپتا سناتے ہوئے پھٹ پڑے کہ یہ ادارے والے عدلیہ، ایگزیکٹوز اور سب کے کاموں میں مداخلت کر رہے ہیں ، اپنی مرضی کا بنچ بنوانے کیلیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ ججز کے فون ٹیپ کیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے ان اداروں کی جانب سے اپنی آئنی ذمہ داری ادا کرنے کی بجائے دوسرے امور میں ملوث ہونے کا بھی ذکر کیا۔ معز جج صاحب نے اپنے تحریری حکمنامے میں ان اداروں کو محض اپنی آئینی ذمہ داریوں تک محدود رہنے ، اپنی روش بدلنے ، بصورت دیگر ریاست میں پیدا ہونے والے معاشرتی بگاڑ کا بھی ذکر کیا ۔ معزز جج صاحب نے عدالت میں موجود پولیس کے اعلیٰ افسر کی ان اداروں کے سامنے بے بسی اور کمزوری کو بھی ہدف تنقید بنایا اور اپنے تحریری حکم کی نقول قانون اور دفاع کی وزارتوں کو بھی بھجوانے کا حکم دیا۔
اس ساری کارروائی کا علم جب بندہ کو ہوا تو بندہ کے ذہن میں گزشتہ برس کے آخر میں ایک مذہبی جماعت کے کارکنوں کی جانب سے جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کو یرغمال بنائے جانے کا معاملہ تازہ ہوگیا۔ جب انہی جج صاحب کی جانب سے دھرنا ختم کروانے کے معاملے میں عسکری حکام کے کردار اور معاہدے کی دستاویز پر انکے دستخط کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔ اس وقت بھی انہی جج صاحب نے تمام اداروں کو محض اپنے آئینی کرداروں تک محدود رہنے کی ہی بات کی تھی۔ پھر دیکھنے والوں نے یہ بھی دیکھا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کے خلاف ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھجوایا گیا۔ جس پر جسٹس صدیقی نے درخوست کی کہ انکے خلاف ریفرنس کی سماعت کو اوپن رکھا جائے۔ یہ ریفرنس کیوں بھیجا گیا شاید سمجھنے والے خود ہی سمجھ جائیں گے۔ لیکن میں اب اٹھارہ جولائی کو ہونیوالی سماعت کے بعد سے شدید پریشان اور اللہ پاک سے جسٹس صدیقی صاحب کو اپنے حفظ و امان میں رکھنے کیلیے دعا گو ہوں۔ میرے ملک میں ایسے بہت کم لوگ ہیں جو آئین اور قانون سے ہٹ کر ہونیوالے کسی بھی اقدام پر نہ صرف احتجاج کرتے ہیں بلکہ کھل کر ایسے اقدامات کے خلاف اظہار رائے کی جسارت بھی رکھتے ہیں۔ انہی میں سے ایک محترمہ عاصمہ جہانگیر بھی تھیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ من حیث القوم ہم سب کا یہ گمان ہے کہ ہم دوسروں کا کام ان سے بہتر کر سکتے ہیں اور اسی زعم میں ہم اپنی ذمہ داریوں کو بھلا بیٹھتے ہیں۔ جناب محترم چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب سے بھی معذرت کیساتھ کہ حضور جس دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کو آپ نے اپنی زندگی کا مقصد قرار دیا ہے تو جناب عرض کر دوں کہ اسی نام نہاد ڈیم کا پہلا افتتاح سابق سپہ سالار پاکستان محترم سید مشرف صاحب، پھر دوسرا افتتاح پیپلز پارٹی کے دور میں اور تیسرا افتتاح تاحیات نااہل سابق وزیر اعظم نوازشریف نے بھی کیا تھا۔ جناب ن لیگ کے دور حکومت میں سرکاری دستاویزات کے مطابق اس ڈیم کیلیے اراضی کی خریداری بھی مکمل ہوچکی ہے۔ گزارش صرف اتنی سی ہے کہ اگر میرے وطن میں بسنے والے حاکم ومحکوم اس بات کا ادراک کر لیں کہ یہ ایک آئینی ریاست ہے اور اس میں موجود تمام آئینی ادارے صرف اپنی آئینی ذمہ داریوں تک ہی محدود رہیں اور ہر فرد اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو ہی ادا کرے تو دوسروں کے حقوق بھی محفوظ رہیں گے اور معاشرتی بگاڑ بھی پیدا نہیں ہوگا۔ بصورت دیگر جب ہم اپنی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر دوسروں کے معاملات میں مداخلت کریں گے تو محض پھر یہ دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ خدا ہی خیر کرے ۔

متعلقہ مضامین