ایوان بالا میں دھاندلی کی بازگشت

پارلیمان کے ایوان بالا سینٹ میں ارکان نے الیکشن میں دھاندلی پر گرما گرم بحث میں حصہ لیا ہے ۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ اگر انتخابات کا نتیجہ عوام کے جزبات کی ترجمانی نہیں کرے گا، اور بیلٹ بکس اگر خالی کرسیوں کی نمائندگی کرے گا تو عوام کا غصہ الیکشن جیتنے والوں کے خلاف نہیں، الیکشن جتوانے والوں کے خلاف ہوگا ۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ پاکستان میں انتخابات کی تاریخ سبق آموز ہے ، لیکن اس سے سبق سیکھنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔ 2013 کے الیکشن کے عمل اور پولنگ ڈے پر کسی نے انگلی نہیں اٹھائی تھی ، بعد میں انتخابی دھاندلی کا نام لیکر جو سیاست کی گئی وہ بے نقاب ہو چکی ہے ۔ عام انتخابات ۲۰۱۸ کو مسلم لیگ ن جس طرح بیان کر رہی ہے اسے بے شک نظر انداز کر دیں ، کیونکہ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں۔ لیکن نیو یارک ٹائمز ،وال اسٹریٹ جنرل ، اکانمسٹ مسلم لیگ ن کا اخبار نہیں ہے ۔ الیکشن کے بارے میں جو انھوں نے کہ دیا اس کے بعد مسلم لیگ ن کی شکایات معمولی نظر آتی ہیں ۔ جو انتخابات کی منظر کشی ان اخبارات نے کی ہے ، ہماری باتیں تو اس کے برابر بھی نہیں ۔ ہماری منہ میں زبان ہے لیکن ہم احتیاط سے کام لے رہے ہیں ۔ پرویز رشید نے کہا کہ آپ نے الیکشن میں جو مداخلت کرنا تھی وہ کر لی ،قوت بازو سے جماعتوں کی جوڑ توڑ کر لی ، میڈیا ٹرائل کر لیا۔ لیکن دنیا الزام لگانے والوں کو ستر سالوں میں اتنا جان گئی ہے کہ وہ جو بھی کہیں اس پر یقین نہیں کرتی ۔ آج آپ جس کو بند کر رہے ہیں لوگ اس کے جلسوں میں آ رہے ہیں ۔ اور جس کو اپ جلسے کرنے کی کھلی اجازت دے رہے ہیں لوگ اس کی جلسوں میں نہیں جا رہے ۔ انھوں نے کہا کہ انتخابات کا نتیجہ اگر عوام کے جزبات کی ترجمانی نہیں کرے گا ، اور بیلٹ بکس سے اگر خالی کرسیوں کی نمائندگی کرے گا ۔ تو عوام کا غصہ الیکشن جیتنے والوں کے خلاف نہیں ، الیکشن جیتوانے والوں کے خلاف ہو گا ۔ پرویز رشید نے کہا کہ مسلم لیگ ن وہ آخری جماعت ہو گی جو چاہے کہ عوام کا غصہ الیکشن جیتوانے والوں کے خلاف ہو ۔ اب آپ احتیاط کریں ۔ آپ نے جتنا کرنا تھا اس پر اکتفا کر لیں ۔ جو آپ نے کرنا تھا آپ کر چکے ، جتنا ہم نے برداشت کرنا تھا ہم کر چکے ۔ 25 جولائی کے الیکشن کو چھوڑا جائے، مداخلت نہ کریں . ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بنانے رائل برٹش آرمی کی کسی بٹالین نے بغاوت نہیں کی تھی۔ مسلم لیگ نے پاکستان کو بنانے کا پرچم بلند کیا تھا ۔ پاکستان برچھی نہیں ووٹ کی پرچی پر بنا تھا ۔ پرچی کے تقدس کو مجروع نہ ہونے دیا جائے ۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ انصاف کا قتل شرمناک ہے ۔ جو سلوک سابقہ وزیر اعظم کے ساتھ کیا جا رہا وہ شرمناک ہے ۔ ایسا سلوک زلفقار علی بھٹو کے ساتھ بھی کیا گیا تھا ۔ یہ سلوک ایک گندی سوچ کی عکاسی کرتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ نگراں نظام حکومت تباہ ہو چکا ہے، وہ کہیں دکھائی نہیں دے رہا ۔ میں تجویز کروں گا کہ ہم جب حکومت میں آئیں تو نگراں حکومت کو ختم کرنے سے متعلق ترمیم کریں ۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں اور نگراں حکومت صرف ان کو آگے پیش کر رہی ہے ۔ بین الاقوامی اخبارات کے مضامین میں پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے ۔ ایک استعمال کیا گیا فارمولا استعمال کیا جا رہا ہے ، جو ناکام کو چکا ہے ۔ سال 1986 میں جنرل حمید گل نے کہا کہ آئی جے آئی حکومت بنا لے گی ، پیپلز پارٹی حکومت نہیں بنا سکے گی ۔ لیکن لوگوں نے فیصلہ کیا اور بے نظیر بھٹو اقتدار میں آ گئیں ۔ مشاہد حسین سید نے پرویز رشید کی جانب دیکھتے ہوئے کہا کہ اوکاڑہ سے ایک ویڈیو آئی ہے جس میں محکمہ زراعت کے لوگ دباو ڈال رہے تھے ، اور امیداروں کو جیپ لینے پر آمادہ کر رہے تھے ۔ جیپ تو پنکچر ہو چکی ہے ، اس پر وقت ضائع نہ کریں۔ اگر کوئی اہلکار اپنے حلف کی خلاف ورزی کرے گا ، الیکشن میں مداخلت کرے گا اور دباو ڈالے گا ، تو ہم اسے بے نقاب کریں گے ۔ اس کا نام سامنے لائیں گے چاہے وہ محمکہ زراعت سے ہو یا اطلاعات و نشریات سے ۔ انھوں نے کہا کہ جو آپ نے کرنا تھا کر لیا، اگر الیکشن ڈے پر اگر بیلٹ بکس کے ساتھ ٹیمپرنگ کی گئی تو اس کا رد عمل آئے گا . لوگ فیصلہ کر چکے ہیں ، ایک طرف خالی کرسیاں ہیں اور ایک طرف جمع غفیر.
سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ بین الاقوامی ادارے کہ رہے ہیں کہ ملک میں فری اینڈ فئیر الیکشن منعقد ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ۔ الیکشن کمیشن کیوں اداروں کو متنازع بنانے کی جانب دھکیل رہی ہے۔الیکشن کمیشن نے آرمی کو وہ اختیارات کیوں دیے جن کی ضرورت نہیں تھی۔ الیکشن نتائج کی ترسیل میں فوج تعینات کرنے کی کیوں ضرورت پڑی ۔ پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوج تعینات کرنے ، یا اسے میجسٹریٹ کے اختیارات دینے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ الیکشن کمیشن کا برا فیصلہ ہے ۔
سینیٹر آصف کرمانی نے کہا کہ الیکشن خوف و حراس کے ماحول میں ہو رہے ہیں ۔ گھر سے نکلنے والے کسی امیدوار کو خیر خیریت کی گارنٹی نہیں ہے ، لیکن نگران حکومت خاموش ہے ۔ ہمارے ملک میں کیوں نگراں حکومت کی ضرورت پڑتی ہے، ملکی تاریخ میں کونسی نگراں حکومتوں نے اچھا کام کیا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب عمر کے اس حصے میں ہیں جس میں نہ کچھ دکھائی دیتا ہے نہ سنائی۔ اللہ کرے الیکشن ہو ، مجھے تو یہ فراڈ الیکشن لگ رہا ہے ۔ جو عوام ووٹ ڈالے گی معلوم نہیں اسکے ووٹ کی گنتی ہو گی یا نہیں ، لیکن جس نے ووٹ گننے ہیں وہ بتائے گا کہ ووٹ کس کو ملے ہیں۔ آصف کرمانی نے کہا کہ ایک لابی ملک میں حقیقی جمہوریت کی بجائی کنٹرولڈ جمہوریت لانا چاہتے ہے۔ ہم ملک میں کنٹرولڈ جمہوریت نہیں آنے دیں گے ، جو قربانی دینی پڑی ، دیں گے ۔ کسی مائی کے لال نے الیکشن چوری کرنی کی کوشش کی ، تو جو کنٹرولڈ جمہوریت چاہتے ہیں انھیں عوام کے غیر و غضب سے پناہ نہیں ملے گی۔
سینیٹر رانا مقبول نے کہا کہ نواز شریف مرد آہن ہے وہ ڈٹا رہتا ہے ۔ وزیر اعلی عسکری تو عسکری کے ساتھ ہیں تاہم وہ دوسروں کے لئے مشکل پیدا نہ کریں۔
سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے پوسٹرز کون اتار رہا ہے ، کون امیداروں پر مقدمے بنا رہا ہے سب جانتے ہیں ۔ یہ واضح ہے کہ یہ انجینیرڈ الیکشن ہے ۔ شاہد خاقان عباسی ، راجہ ظفر الحق پر دہشت گردی کے پرچے درج کیے گئے ۔ پنجاب پولیس کے بقول ایک دہشت گرد ملک کا حکمران رہا ۔ کلعدم تنظمیوں کو الیکشن میں حصہ لینے دیا جا رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ میں الیکشن انجینیرنگ کے منصوبہ سازوں کو وارننگ دوں گی کہ انتخابات کے بعد دیکھیں گے کہ کیسے کسی کی حکومت کھڑی ہوتی ہے
پی ٹی آئی کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ن لیگ کون ہوتی ہے یہ کہنے والی کہ وہ الیکشن کے نتائج کو نہیں مانے گی ۔ یہاں ایوان میں کھڑے ہو کر دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ہم الیکشن کے بعد دیکھ لیں گے۔ اداروں کو کھلم کھلا دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ اگر قبل از انتخابات دھاندلی ہو رہی ہے تو اپ اس کا ثبوت لائیں ۔ کیا پانامہ پیپرز فوج کی سازش تھی؟
ایم کیو ایم کے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ کسی ادارے پر الزام لگے چاہے وہ فوج ہے یا الیکشن کمیشن ، عدالت یا پارلیمنٹ ۔ وہ اپنے اوپر لگے الزام کا دفاع کریں اور اپنے صاف ہاتھ دکھائیں۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر چوہدری سرور نے کہا کہ ایک بین الاقوامی ایجنڈا ہے کہ ہمارا اداروں کو بدنام کیا جائے ۔ پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے کہ الیکشن انجینیرڈ ہو رہے ہیں ۔ الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو گا۔
سوائے سینیٹر رحمان ملک کے پیپلز پارٹی کے سینٹرز ایوان سے غیر حاضر رہے ۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمان بھی اجلاس میں شریک نہ ہوئیں ۔

متعلقہ مضامین