سینٹ اجلاس میں انتخابی عمل پر تحفظات

سینٹ کے اجلاس میں پولنگ ڈے کے پلان پر  سینیٹرز نے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔

سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ اگر مخصوص فوجی افسران کو الیکشن کے دن میجسٹریٹ کے اختیارات دیے گئے ہیں تو الیکشن کے دن پریزائیڈنگ آفسر کا نقطہ نظر مانے جائے گا یا میجسٹریٹ کے اختیارات والے نامزد فوجی افسر کا۔ کیا کوئی خصوصی عدالتیں بنائی جا رہی ہیں؟ کیا ہم پھر ملٹری کورٹ بنا رہے ہیں؟ میجسٹریٹ کو امن و امان سے متعلق معاملہ بھیجا جائے گا یا پولنگ سے متعلق۔ فوجیوں کو مجسٹریٹ کے اختیاراتقانون کے مطابق نہیں دیے گئے۔ اس سے صرف مسائل بڑھیں گے۔
رضا ربانی نے کہا کہ وزیر قانون علی ظفر نے کہا ہے کہ الیکشن میں فوج کو امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے تعینات کیا گیا ہے۔ فوج کو میجسٹریٹ کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ مجسٹریٹ کے اختیارات ساری فوج کو نہیں بعض نامزد فوجی افسران اور سول ارمڈ فورسز افسران کو دیے گئے ہیں۔ جن فوجی افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیے گئے ہیں ان کی لسٹ سینیٹ سیکریٹریٹ میں پیش کر دوں گا۔ وزیر قانون نے کہا کہ میڈیا کی سنسر شپ پر یقین نہیں رکھتے، میڈیا پرکوئی پابندی نہیں، اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔
سینیٹر رضا ربانی نے کہا نگراں حکومت مکمل طور پر جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن آئین کے تحت زمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔ رضا ربانی نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کیا یہ حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن نے بینک ملازمین کو طلب کیا ہے اور انھیں پولنگ اسٹاف میں شامل کیا ہے اس کا کیا کرائیٹریا ہے؟ الیکشن کمیشن نے جو فوج طلب کی ہے اس کے ٹرمز آف ریفرنس واضح طور پر سامنے آنے چاہیے۔ الیکشن کمیشن نے اب اعلان کیا ہے کہ دو فوجی پولنگ اسٹینشن کے اندر ، دو باہر موجود ہوں گے۔ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ فوجی صرف باہر تعینات ہوں گے۔ کیا وجوہات ہیں کہ فوجی پولنگ اسٹیشن کے اندر بھی تعینات کیے جائیں گیے ، اور پولنگ اسٹیشن کے ان کا کیا کردار ہو گا۔ رضا ربانی نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ یا نیکٹا سے ان امیداروں کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیٕں جن کا تعلق کلعدم تنظمیوں سے ہے؟ قانون اور آئین کی کس شق کے تحت الیکشن کمیشن نے کلعدم تنظمیوں کے امیداروں کو اجازت دی کہ وہ الیکشن میں حصہ لیں۔ حیرانی ہوئی کہ نگراں وزیر داخلہ پنجاب نے کچھ کلعدم تنظمیوں کے ممبران کے ساتھ اجلاس کیا اور کہا کہ میں یقینی بناؤں گا کہ ان کے نام فورتھ شیڈیول سے نکالے جائیں۔ اگر یہ کرنا تھا تو پھر ہم نے فورتھ شیڈیول ، نیپ بنایا کیوں تھا۔ رضا ربانی نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کو یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ احتساب کو سیاسی ایجنڈا چلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ دو بڑی سیاسی جماعتوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ اگر انجینیرڈ الیکشن ہوئے ، ٹیسٹ ٹیوب بچے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ، عوام کی رائے کو نظر انداز کیا گیا تو وفاق پر سنگین اثرات پڑیں گے۔
قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ہم نیپ کا کیسے دفاع کریں گے اگر کلعدم تنظمیوں کے پانچ نمائندے بھی اس ایوان میں بیٹھ گئے ۔ ہم کس کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا چاہ رہے ہیں۔ ہم روشن خیالی ہونے پر ہر گز معزرت نہیں کریں گے۔ میں نے ہمیشہ بھارتیوں کو کہا کہ ہم انتہا پسندوں کو منتخب کر کے ایوانوں میں نہیں لاتے۔ پاکستان نے ہمیشہ انتہا پسندوں کو مسترد کیا ہے۔ لیکن اب ہم ہاکستان کو کس طوفان کی طرف لیکر جا رہے ہیں۔ کلعدم تنظمیوں کے امیداروں کو کیسے عوام مسترد کرے گی ، ان پر دباو ہو گا۔ ہمیں یہاں ڈرامے دھمکانے کی کوشش ہو گی۔ کلعدم تنظمیوں کے تین لوگ ایوان میں آ گئے تو ہم ایک دوسرے کا منہ دیکھیں گے۔ مسلح افواج کہتی ہے کہ ہم نے میجسٹریٹ کے اختیارات نہیں مانگے۔ الیکشن کے دن پولنگ اسٹیشن پر کس کا حکم چلے گا۔
سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ دہشت گردوں کو پارلیمنٹرین بنایا جا رہا ہے اور پارلیمنٹرینز کو دہشت گرد بنایا جا رہا ہے۔ خدانخواستہ ہم کل ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں چلے گیے۔ تو ذمہ دار وہ ہوں گے جو دہشت گردوں کو پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹرین کو جیل بھیج رہے ہیں۔ عدالتوں نے کہا فیصلوں میں کہیں نہیں لکھا کہ نواز شریف نے 300 ارب کی کرپشن کی ہے، لہذا جو لوگ کہ رہے ہیں کہ عدالت نے کہا ہے نواز شریف نے تین سو ارب کی کرپشن کی ، کیا وہ توہین عدالت نہیں کر رہے۔ کیا اس غلط بیانی سے عدالت کو توہین محسوس نہیں ہو رہی۔ اس توہین عدالت کا کون اور کب نوٹس لے گا۔
پرویز رشید نے مزید کہا کہ ایک بین الاقومی جریدے کو انٹرویو میں وزیر اعلی پنجاب حسن عسکری نے کہا کہ الیکشن میں ن لیگ کی سیٹیں کم اور پی ٹی آئی کی زیادہ ہوں گی۔ حسن عسکری کون ہوتے ہیں کہنے والے کہ پی ٹی آئی حکومت بنائے گی اور ن لیگ کم سیٹیں لے گی۔ حسن عسکری کا منصب انھیں اجازت نہیں دیتا کہ وہ الیکشن سے متعلق پیشن گوئیاں کریں۔ حسن عسکری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔
سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اس الیکشن میں پنجاب کی نگراں حکومت فریق اوّل ہے۔ نگراں حکومت نے سیاسی کارکنان پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ خود کیا یا کسی کے کہنے پر۔ لیکن جب میں نے اپنے اوپر بنائے گئے مقدمات دیکھے تو میں باقی کارکنان پر بنائے گئے کیسز کا غم ہی جیسے بھول گیا۔ لیکن ان مقدمات سے انھیں ہر گز فائدہ نہیں ہوا ہے۔ بلکہ لوگوں میں مزید غصہ پیدا ہوا ہے۔ نگراں حکومت میں عقل کی کمی ہے۔ اگر انھوں نے مرضی کے نتائج برآمد کرنا چاہا، تو رد عمل جیتنے والوں کے خلاف نہیں بلکہ ان کے خلاف ہو گا جو یہ عمل کروائیں گے۔ یہ نقصان ایک ادارے کا نہیں پاکستان کا ہو گا۔
سینیٹر رحمان نے الیکشن انتظامات سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کی رپورٹ پیش کی تو سینیٹر جاوید عباسی نے اعتراض اٹھا دیا۔ جاوید عباسی نے کہا کہ رپورٹ میں الیکشن کمیشن اور فوج کی تعریف سے متعلق ایک قرارداد لگائی گئی ہے ۔ حالانکہ قائمہ کمیٹی میں ہم نے یہ قرارداد پیش ہونے نہیں دی تھی۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ میں کسی کو سلیوٹ نہیں کرتی، جو ہمارے ماتحت ہیں ہم انھیں سلیوٹ نہیں کر سکتے۔ میں اس قراداد کی ہرگز حمایت نہیں کر سکتی جس میں ماتحت اداروں کو سیلوٹ کیا گیا ہے۔ ہم کیسے الیکشن عمل کی تعریف کر سکتے ہیں۔ میں نے یہ قرارداد منظور کر لی تو اپنے لیڈر نواز شریف کو کیا منہ دکھاوں گی۔

متعلقہ مضامین