جسٹس شوکت صدیقی اور پنڈی والے

محمد کامران خان

 

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا تعلق تو راولپنڈی سے ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ راولپنڈی والوں سے ان کی کبھی نہیں بنی ۔بطور طالب علم، بطور وکیل، بطور سیاستدان اور اب بطور جج ، صدیقی صاحب کا ٹریک ریکارڈ یہ بات ثابت کرتا ہے کہ انھوں نے تھیوکریسی کے لیے جدوجہد کی،ایک مذہبی جماعت کے سرگرم رکن رہے،ہمیشہ دائیں بازو کی طرف جھکاو رہا، مذہبی پیمانہ ہر وقت ساتھ رکھا ۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان کے شہر راولپنڈی والے کوئی سیکولر یا بے دین لوگ تھے جس کی وجہ سے صدیقی صاحب کے اپنے شہر والوں سے تعلقات خراب ہوئے ۔ وجہ بس یہ تھی جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا تعلق اس مکتبہ فکر سے ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر کسی بھی معاملے میں سمجھوتے کی گنجائش نہیں چھوڑی جاتی اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر انتہائی اقدامات سے گریز نہیں کیا جاتا۔ عمومی اصطلاح میں ایسے نظریئے کے حامل افراد کو ملا کہاجاتا ہے ۔اور صدیقی صاحب مانیں یا نہ مانیں وہ ملا ہیں ۔صدیقی صاحب کا قصور یہ بھی ہے کہ انہوں نے بعض دنیاوی معاملات کو بھی دین کے ترازو میں تولنے کی کوشش کی۔ اس پیمانے سے جو نتائج ملے وہ کئی لوگوں کو ناراض کر گئے ا س میں شوکت صدیقی صاحب کے اپنے شہر والے بھی شامل تھے، جن سے انہوں نے اس وقت سینگھ پھنسا رکھے ہیں ۔

کچھ سال پہلے راولپنڈی کچہری میں شوکت عزیز صدیقی کا چیمبر بہت شہرت اختیار کر گیا تھا ۔ صدیقی صاحب ملنسار اور خوش گفتار انسان ہیں ان کے ساتھ کام کرنے والے وکلاء اور جونیئرز اب بھی اس بات کی گواہی دیتے نہیں تھکتے ۔ایک دہائی پہلے وہ لاہور ہائی کورٹ بار (راولپنڈی بنچ) کے صدر بھی منتخب ہوئے ۔ یہ وہ وقت تھا جب افتخار محمد چوہدری معزول تھے اور ان کی بحالی کے لیے وکلاء سڑکوں پر تھے۔ اس وکلاء تحریک میں شوکت عزیز صدیقی نے بھر پور کردار ادا کیا ۔ افتخار چوہدری بحال بھی ہو گئے ۔ پھر انہیں کی عدالت میں شوکت عزیز صدیقی بطور وکیل بھی پیش ہوتے رہے۔ مشہور زمانہ لاپتہ افراد کا مقدمہ بھی صدیقی صاحب نے سپریم کورٹ میں لڑا۔ لاپتہ افراد کا کیس سپریم کورٹ کی کمزوری تھی کیونکہ جو مدعا علیہان تھے ان پر عدالت کا بس نہیں چلتا تھا ۔ صدیقی صاحب ججوں کی اسی کمزوری کو پکڑتے ۔ ججوں سے جھگڑا کرتے ۔اور انصاف کی دہائی دیتے ہوئے کمرہ عدالت سے نکل جاتے۔راقم نے خود جسٹس افتخار چوہدری ، جسٹس خلیل الرحمان رمدے اور جسٹس جاوید اقبال کی عدالتوں میں مختلف مواقع پر شوکت عزیز کو لاپتہ افراد کے معاملے پر جھگڑتے ہوئے دیکھا ۔ صدیقی صاحب کاشکوہ ہوا کرتا تھا کہ جج مقتدر حلقوں کے خلاف ایکشن نہیں لیتے ۔آج بھی بطور جج ان کا یہی گلہ ہے ۔وہ ان نا انصافیوں اور مداخلتوں کا ذمہ دار کسی اور کو ٹہراتے ہیں ۔

خیر افتخار محمد چوہدری نے اپنی بحالی میں شوکت عزیز صاحب کے کردار کے اعتراف میں انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کر دیا ۔ یہ تقرر ایک سال کے لیے ہوتا ہے اور ایک سال بعد اگر رپورٹ ٹھیک ہو تو پھر ایڈیشنل جج کو مستقل جج بنا دیا جاتا ہے ۔ صدیقی صاحب کا ایک سال پورا ہوا تو انکی رپورٹ جوڈیشل کمیشن میں پھر زیر بحث آئی۔ خطرہ پیدا ہوا کہ صدیقی صاحب کے اپنے شہر والے ہی غلط رپورٹ نہ دے دیں اور صدیقی صاحب کے مستقل تقرر کا معاملہ کھٹائی میں پڑ جائے۔ اس دوران کچھ حساس نوعیت کے مقدمات بھی ان کی عدالت میں زیر سماعت رہے۔ لیکن رپورٹ ٹھیک رہی اور صدیقی صاحب مستقل جج بنا دیئے گئے ۔ اس کے بعد صدیقی صاحب نے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کا بھر پور استعمال کیا ۔ اور دوسرے ججوں کے لیے مثال بنے کہ مشکل فیصلے مشکل حالات میں کیسے آسانی سے کیے جاتے ہیں ۔ جنرل پرویز مشرف کو جیل بھجوایا۔گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر سوشل میڈیا کا قبلہ درست کیا۔ویلنٹائن ڈے پر میڈیا کی خر مست کوریج کو روکا اور بتایا کہ یہ ہماری تہذیب نہیں ہے ۔ناموس رسالت کے نام پر راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم فیض آباد میں دھرنا ہوا تو صدیقی صاحب نے ہی اس دھرنا کو ختم کرنے کا حکم دیا کیونکہ شہریوں کا راستہ روکنا کسی طور قابل قبول نہ تھا ۔دھرنے والوں نے صدیقی صاحب کا حکم نہ مانا تو پھر فوج نے اپنا کردار ادا کیا اور ان کی مداخلت پر ایک معاہدے کے نتیجے میں دھرنا ختم کر دیا گیا ۔ صدیقی صاحب کو فوج کی یہ مداخلت بلکل پسند نہ آئی، ان کا ماننا تھا کہ فوج کا کیا کام کہ وہ دھرنے والوں سے مذاکرات کرے اور انہیں کسی معاہدے پر آمادہ کرے ۔ اس کیس میں صدیقی صاحب نے فوج کے خلاف سخت ریمارکس بھی دئیے۔ یہ بات کہنا غلط ہو گی کہ صدیقی صاحب مذہب کے معاملے میں ماوراء قانون فیصلے کرتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو فیض آباد دھرنا ختم کرانے کا حکم کبھی نہ آتا ۔ جب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کا ٹرائل ہو رہا تھا تو ایک تصویر منظر عام پر آئی جس میں بظاہر شوکت عزیز صدیقی ممتاز قادری کا بوسہ لے رہے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بوسہ لینے والا وکیل شوکت عزیز صدیقی نہیں تھے بلکہ ان سے مشابہت رکھنے والا کوئی اور وکیل تھا ۔ شوکت عزیز صدیقی خود بھی اس تصویر کی وضاحت کر چکے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ ممتاز قادری کے فعل سے اختلاف کر رہے تھے ۔ جب ممتاز قادری کی سزا کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں آئی تو شوکت عزیز صدیقی اس بنچ کا حصہ تھے جس نے ممتاز قادری کے خلاف دہشت گردی کی دفعات ختم کی تھیں ۔لال مسجد کے امام مولانا عبداالعزیز کو ضمانت دلوانے والے وکیل بھی شوکت عزیز صدیقی ہی تھے ۔اپنے دیگر فیصلوں اور ریمارکس کے ذریعے بھی صدیقی صاحب نے اپنے آپ کو سچا عاشق رسول ثابت کیا ۔ اور اسی نسبت کے سہارے انہوں نے ہر  بااثر اور طاقتور فریق کو آنکھیں دکھائیں ۔ان کے خلاف اختیارات کے نا جائز استعمال کا ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التواء ہے ۔ الزام ہے کہ صدیقی صاحب نے جج بننے کے بعد اسلام آباد کے مہنگے سیکٹر میں من پسند سرکاری گھر الاٹ کروایا اور سرکاری خزانے سے اس کی تزئین و آرائش پر لاکھوں روپے خرچ کروائے۔ اس ریفرنس کی سماعت صدیقی صاحب ہی کی فرمائش پر کھلی عدالت میں ہو گی۔ ورنہ اس سے پہلے ججوں کے خلاف ریفرنس کی سماعتیں بند کمروں میں ہوا کرتی تھیں ۔شاید صدیقی صاحب کو اداراک ہو گیا ہے کہ مقتدر حلقے اب انہیں جج کے منصب پر نہیں دیکھنا چاہتے ۔ ان کے بقول چیف جسٹس کو اپروچ کر کے من پسند بنچ بنوا کر من پسند فیصلے کروائے جا رہے ہیں اگر واقعی ایسا ہے تو پھر جسٹس صدیقی اپنے آپ کو فارغ سمجھیں کیونکہ جو طاقتیں دیگر مقدمات میں مرضی کے فیصلے لے سکتی ہیں ان کے لیے صدیقی صاحب کے خلاف فیصلہ لینا تو کوئی مشکل کام نہ ہو گا ۔

محمد کامران خان سینئر صحافی ہیں اور ایک طویل عرصے تک سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں ۔ آج کل اسلام آباد میں ایک نجی ٹی وی چینل سے بطور بیورو چیف منسلک ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے