جج کا گوگل فیصلہ

مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی کیلئے امیدوار حنیف عباسی کو عمرقید کی سزا دینے والے فیصلے میں جج نے گوگل کے سرچ انجن سے بھی مدد کی ہے ۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ایفی ڈرین کے کیمیائی نام اور تجزیے کیلئے یہ عدالت مہارت رکھتی ہے اور نہ اس کیس میں کوئی ماہر کیمیا دان عدالت کی معاونت کیلئے پیش ہوا ۔ جج نے لکھا ہے کہ اس وجہ سے عدالت نے گوگل کو ذریعہ بنایا اور ایک ویب سائٹ پر اس حوالے سے موجود معلومات سے استفادہ کیا ۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ گوگل کو اس فیصلے میں بطور ذریعہ یا سورس لکھا گیا ہے جبکہ وہ ایک سرچ انجن ہے ۔

متعلقہ مضامین