الیکشن میں میڈیا پروپیگنڈہ جاری

پاکستان میں عام انتخابات کیلئے پولنگ سے ایک دن قبل الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈہ عروج پر پہنچ گیا ہے ۔ پاکستان کے چار ٹی وی چینلز پر ن لیگ سے وابستہ سیاسی کارکن اور رہنما یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ ان قوتوں کے کنٹرول میں ہیں جنہوں نے نواز شریف کو جیل میں ڈالا ہے اور اے آر وائے، 92 نیوز اور بول نیوز انہی کی وجہ سے جعلی خبریں نشر کر رہے ہیں ۔ الیکشن سے ایک روز قبل ہی اے آر وائے اور 92 نیوز نے نواز شریف کی ڈیل کے حوالے سے غلط خبر نشر کی جس پر سوشل میڈیا کے سرگرم صارفین نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔

اے آر وائے اور 92 نیوز کے علاوہ بول نیوز پر یہ الزام کافی عرصے سے لگتا رہا ہے ۔ ن لیگ سے وابستہ سیاسی کارکن کہتے ہیں کہ 24 نیوز بھی اس مہم میں شامل ہے اور اب دنیا نیوز پر بھی مقتدر طاقتوں کا دباؤ ہے جس کی وجہ سے ان چینلز سے نشر کردہ مواد بھی تعصب اور پروپیگنڈے سے آلودہ ہے ۔

پاکستان میں ٹی وی چینلز سے نشر مواد اور خبروں پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق میڈیا سخت دباؤ کا شکار ہے اور الیکٹرانک میڈیا مقتدر حلقوں کا بڑا نشانہ ہے ۔ مبصرین کے بقول جیو نیوز کی نشریات مختلف علاقوں میں روک کر بہت سے چینل مالکان کو واضح پیغام دیا گیا تھا جس کے بعد پالیسی میں واضح تبدیلی آئی ہے ۔ ان مبصرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کے ٹی وی چینلز میں سے ایک دو ہی ایسے رہ گئے ہیں جو کسی دباؤ کے بغیر آزادانہ کام کر رہے ہیں یا ان کی نشریات ناظرین کی بڑی تعداد تک نہیں پہنچ پا رہیں اس لئے ان کی پالیسی بڑی حد تک آزاد ہے ۔ مبصرین کے مطابق ان چینلز میں ڈان نیوز اور وقت نیوز شامل ہیں ۔

 

متعلقہ مضامین