پولنگ اسٹیشنز پر رش تھا مگر

صحافی کو تاریخ بنتے دیکھنے کا موقع بڑے واقعات کی رپورٹنگ کرتے ہوئے ملتا ہے اور عام انتخابات میں بطور مبصر پولنگ کے عمل کا جائزہ لینا اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔

اسلام آباد کے تین قومی حلقوں اور راولپنڈی میں دو قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کے حلقے کے درجن بھر پولنگ اسٹیشنز میں چند گھنٹے گزارے ۔ لگ بھگ پندرہ پریذائڈنگ افسران اور پولنگ اسٹاف کے علاوہ بیس پولنگ ایجنٹوں سے گفتگو کا موقع ملا ۔

اسلام آباد کا جی سکس پولنگ اسٹیشن گھر سے پچاس گز کے فاصلے پر تھا ۔ ناکے پر کھڑے پولیس والے نے کہا کہ موبائل فون اندر نہیں لے کر جا سکتے ۔ الیکشن کمیشن کے کارڈ بھی کام نہ آیا ۔ کہنے لگا کہ ٹی وی والا بڑا کیمرہ لے کر جا سکتے ہیں ۔ قریب کھڑی پولیس موبائل کی طرف اشارہ کیا کہ ایس ایچ او سے بات کر لیں ۔ تھانیدار بے چارہ قریب موجود فوج کی تین گاڑیوں کی وجہ سے گھبرایا ہوا تھا ۔ کوئی ہدایت نامہ نہ دکھا سکا ۔ پوچھا کہ کس نے روکا ہے؟ بولا کہ سر وائرلیس چلی ہے ۔ کس نے چلائی ہے؟ کہا کہ پوچھ کر بتاتا ہوں اور پھر گاڑی کے ڈرائیور نے آہستہ سے نکلنے میں عافیت سمجھی ۔ شاید ایس ایچ او نے کہا ہوگا ۔

مجبورا سامنے کھڑے سپاہی نے کہا کہ سر، فون مجھے دیدیں، آپ ہو کر آ جائیں ۔ پولنگ اسٹیشن کے اندر عالمی میڈیا کے نمائندے کیمروں کے ساتھ موجود تھے، کہنے لگے کہ ہمیں پولنگ بوتھ کے اندر کی ویڈیو نہیں بنانے دے رہے ۔ فوجی جوان کہہ رہا ہے کہ برآمدے سے ہی بنا لیں ۔ چونکہ ہمارے پاس کیمرے نہیں تھے تو کمرے کے اندر گئے ۔ 32 امیدواروں کے صرف سات پولنگ ایجنٹ بیٹھے ہوئے تھے ۔ پولنگ کا عمل خوش اسلوبی سے جاری تھا ۔ پریزائڈنگ افسر خوش اسلوبی سے ملا۔ مکمل مطمئن تھا، پولنگ ایجنٹ بھی مطمئن تھے۔ ووٹرز زیادہ تر نوجوان تھے ۔

ایک پولنگ اسٹیشن کے اندر چار پولنگ بوتھ تھے جن میں تحریک انصاف کے ایجنٹ سب میں موجود تھے، ن لیگ کے دو میں جبکہ ایم ایم اے کے تین پولنگ ایجنٹ تھے ۔ پریذائڈنگ افسر نے کہا کہ یہ پہلے سے معلوم نہیں ہوتا کہ اتنے کمروں میں الگ الگ بوتھ بنائے جائیں گے  اس لئے امیدواروں نے زیادہ ایجنٹ مقرر نہیں کئے  ۔

جی سکس کے اس پولنگ اسٹیشن میں پولنگ کے عمل کا جائزہ لینے والی غیر سرکاری تنظیم فافین کا نمائندہ بھی ایک بوتھ میں بیٹھا ہوا ملا ۔ اس نے بتایا کہ کل ایک سو نمائندے ان کی تنظیم کی جانب سے اسلام آباد کے تین حلقوں میں جائزہ لے رہے ہیں ۔ اس پولنگ اسٹیشن پر فوج کے اہلکار پولنگ اسٹاف سے مناسب فاصلے پر کھڑے تھے ۔

اس کے بعد راولپنڈی کے حلقہ این اے 62 کے ایف بلاک میں واقع پولنگ اسٹیشن پر جانا ہوا ۔ دن کے بارہ بجے شدید حبس میں لگ بھگ پچاس ووٹرز کی قطار لگی ہوئی تھی ۔ ہر ایک شکایت کر رہا تھا کہ پولنگ کی رفتار انتہائی سست ہے ۔ راولپنڈی میں دلچسپ اور دیکھنے کا چیز یہ تھی کہ اسلام آباد کی طرح یہاں پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوجیوں کی بھرمار نہیں تھی ۔ ہر طرف پنجاب پولیس کے اہلکار تھے، صرف ایک فوجی اہلکار بوتھ کے دروازے پر کھڑا تھا ۔

اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے ہر طرف آبادی میں ن لیگ کے ووٹرز اور سپورٹرز نظر آ رہے تھے ۔ حکام نے کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کیلئے فوج کے زیادہ جوانوں کو تعینات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہوگا ۔ اس پولنگ اسٹیشن پر تین بوتھ تھے، دو میں معمول کے مطابق پولنگ ہو رہی تھی جبکہ ایک پر ووٹرز پسینے میں شرابور عملے کی سست روی سے شاکی تھی ۔ ایک ووٹر نے کہا کہ دو گھنٹے سے زیادہ ہو گئے لیکن باری نہیں آ رہی ۔ ایک اور ووٹر نے کہا کہ مجھے دوسرے بوتھ میں صرف آدھا گھنٹہ لگا ۔ عملے سے بات کی تو سب نے کہا کہ پوری کوشش کر رہے ہیں صورتحال قابو کر سکیں ۔ وہاں دیکھا کہ ایک ووٹر کو سات منٹ میں ووٹ پول کرنے میں صرف ہو رہے تھے اور عملے کے پاس صرف ایک اسٹامپ تھی ۔

اگلا دورہ ریس کورس روڈ پر واقع پولنگ اسٹیشن کا کیا ۔ پولیس اہلکار نے کسی روک ٹوک کے بغیر اندر جانے دیا، صرف کارڈ پر نظر ڈالی ۔ اندر فوج کے جوان ہر بوتھ پر تعینات تھے ۔ دائیں طرف مردوں کی اور بائیں خواتین کی قطار لگی ہوئی تھی ۔ مردانہ تین میں سے دو بوتھ پر عملہ پرسکون تھا اور ووٹر بھی مگر تیسرے پر بوتھ پر بہت بری حالت تھی ۔ پچاس سے زائد ووٹرز قطار میں لگے تھے اور پولنگ اسٹاف مشکل سے ایک ووٹر کو چھ منٹ میں ووٹ پول کرا رہا تھا ۔

پریذائڈنگ افسران اور اسٹاف کے علاوہ ووٹرز سے بھی بات کی ۔ ایجنٹ مطمئن تھے ۔ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ایجنٹ موجود تھے ۔ خواتین کے بوتھ پر جاکر گفتگو کی تو شکایات کے انبار لگا دیئے ۔ کئی خواتین نے کہا کہ گرمی اور حبس ہے مگر عملہ نہایت سست ہے ۔ ایک خاتون کو چکر آ گئے جس کو دیگر نے سہارا دے کر ایک طرف بٹھا دیا ۔ بوتھ کے اندر پریذائڈنگ افسر کہنے لگیں کہ پندرہ سو ووٹرز ہیں اور تین بوتھ ہیں مگر بیلٹ پیپر جاری کرنے والا عملہ کم ہے شاید اس وجہ سے قطار لگ گئی ہے ۔ اسٹاف میں موجود ایک خاتون نے کہا کہ ہم نے ایک منٹ بھی تاخیر نہیں کی مگر ووٹرز بہت زیادہ ہیں ۔ اسٹاف کے سامنے موجود بزرگ خواتین ووٹرز نے کہا کہ بیٹا کوئی سہولت نہیں ہے، بہت مشکل ہو رہی ہے ۔ باہر پنکھے ہی لگوا دیں ۔

یہاں سے باہر نکلے اور سامنے ایک سپر اسٹور سے پانی کی بوتل لی ۔ دکاندار سے صورتحال پوچھی تو کہنے لگا کہ ن لیگ ہے جی، ہر طرف ۔ پوچھا کیوں؟ تو کہنے لگا کہ جی، پکا ووٹر ہے ان کا ۔

اگلی منزل پشاور روڈ پر ریس کورس گراؤنڈ کے ساتھ این او اے کالج پولنگ اسٹیشن تھی ۔ آرمی کے اہلکار کھڑے تھے، کارڈ دیکھ کر اندر جانے دیا ۔ خواتین کے بوتھ پر مناسب رفتار سے ووٹ کاسٹ کئے جا رہے تھے مگر جیسے ہی اوپر والی منزل پر پہنچے تو سانس رکنے لگی ۔ شدید حبس میں سینکڑوں افراد ایک تنگ سی راہداری میں کھڑے تھے اور مشرق اور مغرب دونوں سمتوں میں تین پولنگ بوتھ پر ووٹنگ جاری تھی ۔ ہمارے کارڈ دیکھتے ہی ووٹرز نے غصہ اتارنا چاہا ۔ بتایا کہ ہمارا کام صرف رپورٹنگ ہے ۔ ہر شخص اپنے پسینے میں ڈوبا ہوا تھا اور اپنی قمیض کی طرف اشارہ کر رہا تھا ۔ تین لوگوں نے کہا کہ ان اسے کہیں اس راہداری میں پنکھا ہی لگا دیں ۔

بوتھ کے اندر جوان پریذائڈنگ افسر نے بتایا کہ یہ پولنگ اسٹیشن ڈیڑھ ہفتہ قبل ہی تبدیل کر کے یہاں لایا گیا ہے اس لئے کوئی انتظامات نہیں ہیں ۔ ہماری حالت دیکھ لیں کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ دروازے پر کھڑے فوج کے سپاہی ووٹرز سے قطاریں بنوا رہے تھے اور شہری ان سے الجھ رہے تھے ۔ جوان کہہ رہے تھے کہ دیکھ لیں اندر بوتھ میں بھی جگہ نہیں ہے، پہلے والے نکیلں گے تو آپ کو جانے دیں گے ۔ ایک ووٹر نے کہا کہ یہ شخص جو مجھ سے آگے کھڑا ہے اس کو اگر ڈی ہائیڈریشن ہوگئی تو ذمہ دار کون ہوگا؟ ۔ ان کو یقین دلایا کہ خبر دیں گے، بولا کہ میں ٹی وی دیکھوں گا اگر نہ دی تو آپ بھی ملے ہوئے ہوں گے ۔

وہاں سے نکل کر چھاؤنی کی حدود میں چلے گئے ۔ چکلالہ گیریژن میں واقع آرمی پبلک اسکول کے پولنگ اسٹیشن کے اندر جانے میں اس کے باوجود دقت نہ ہوئی کہ باہر فوج کی دس گاڑیاں اور سینکڑوں جوان چاروں طرف کھڑے تھے ۔ اندر خواتین کے پولنگ بوتھ میں ابھی پولنگ ایجنٹ خواتین سے گفتگو شروع ہی کی تھی کہ ایک شخص آیا اور کہا کہ پلیز، آپ چلے جائیں ۔ پوچھا کیوں؟ تو کہنے لگا کہ آپ کا وقت ختم ہو گیا ۔ اس کی وجہ سے ن لیگ کی خاتون پولنگ ایجنٹ سخت گھبرا گئی ۔ اسی دوران خاتون پریذائڈنگ افسر آئی اور بات کرنے لگیں ۔ باہر وائرلیس لئے سادہ کپڑوں میں ایک اور شخص آیا اور پوچھا کہ آپ کو تعارف؟ بتایا کہ مبصر ہیں اور الیکشن کمیشن نے کارڈ جاری کیا ہے ۔

اس پولنگ اسٹیشن پر تین مردانہ بوتھ تھے اور کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں تھی سوائے ایک نوجوان ووٹر کے، جس کا کہنا تھا کہ شہر کے تین پولنگ اسٹیشن گھوم کر آ چکا ہوں، ووٹ کا نمبر بھی ہے  مگر پتہ نہیں چل رہا کہ کہاں کاسٹ کرنا ہے ۔ پریذائڈنگ افسر اندر سے باہر آئے اور اس سے بات کرنے لگے، اسے بتایا کہ آپ کا بلاک نمبر اس پولنگ اسٹیشن پر نہیں، کہاں ہے یہ ہمیں بھی نہیں معلوم ۔ پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر ووٹرز کم اور فوج و خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار زیادہ تھے جبکہ عملہ سہما ہوا تھا ۔

پولنگ اسٹیشن کے باہر ن لیگ کے کیمپ میں موجود کارکن سرگوشیوں میں کہہ رہے تھے کہ جہاں ہماری اکثریت ہے اس پولنگ اسٹیشن کو حساس قرار دے کر زیادہ فورس لگا دی گئی ہے ۔ ایک کارکن نے کہا کہ صبح پولنگ ایجنٹس بھی بوتھ کے باہر تھے اندر صرف فوجی اہلکار اور پولنگ عملہ تھا تاہم اس کو بتایا کہ ہم نے ابھی جو اندر دیکھا ہے اس میں سارے ایجنٹس بوتھ کے اندر ہی بیٹھے ہیں ۔ کارکنوں نے یہ بھی شکایت کی کہ چونکہ فوج کا علاقہ ہے تو اس سڑک کو یک طرفہ قرار دے کر ووٹرز کو چار کلومیٹر طویل چکر لگانے پر مجبور کیا گیا ہے ۔

شام کو پانچ بجے راولپنڈی کے گورڈن کالج کے پولنگ اسٹیشن کا وزٹ کیا جہاں خواتین کے بوتھ پر بدستور قطار لگی ہوئی تھی ۔ مردانہ پولنگ اسٹیشن پر اکا دکا ووٹرز نظر آئے ۔

دن بھر میں جو ووٹرز دیکھے اس کے مطابق اسلام آباد میں تحریک انصاف اور راولپنڈی میں مسلم لیگ ن کی اکثریت نظر آئی ۔ اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں مذہبی اور ن لیگ کا ووٹر اکثریت میں نظر آیا ۔ دوسری طرف یہ مشاہدہ بھی کیا کہ عام ووٹر لمبی قطار اور پولنگ کے سست عمل سے نالاں تھا، ہر شخص بس دس سے پندرہ منٹ میں ووٹ پول کر کے جانا چاہتا تھا لیکن اکثریت کو ایک گھنٹے سے زائد کا وقت صرف کرنا پڑ رہا تھا ۔

اسلام آباد/ راولپنڈی سے اے وحید مراد

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button