بندوق کے سائے میں پولنگ ناقابل فہم

عام انتِخابات کے حوالے سے یورپی یونین کے مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پولنگ اسٹیشن کے اندر فوجی کو تعینات کرنا ناقابل فہم تھا، یہ عام انتِخابات سنہ2013 میں ہونے والے عام انتخابات سے کسی طور پر بھی بہتر نہیں ہیں۔

مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یورپی یونین کے مبصرین کا کہنا تھا کہ کچھ غیر جمہوری قوتوں نے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ یورپی یونین کے مبصرین کے وفد کے سربراہ مائیکل گالر نے کہا کہ پولنگ کے دوران سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو پولنگ سٹیشنز کے اندر تعینات کرنا ناقابل فہم عمل ہے جبکہ الیکشن کمیشن ایکٹ میں ایسی کوئی تجویز نہیں ہے جس میں سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو پولنگ سٹیشنز کے اندر تعینات کیا جائے۔

مبصرین نے پوسٹل بیلٹنگ پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ عمل کسی طور پر محفوظ نہیں ہے کیونکہ اس عمل سے ووٹ کا تقدس پامال ہونے کے ساتھ دھاندلی کا بھی خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔

یورپی یونین کے مبصرین کے وفد کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے یکساں مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔

اُنھوں نے کہا کہ قومی ٹیلی ویژن اور دیگر نجی ٹی وی چینلز نے بھی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو یکساں مواقع فراہم نہیں کئے گئے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان انتخابی مہم کے دوران کی گئی تقاریر کو 7 گھٹے براہ راست دکھایا گیا جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف کو چار گھنٹے اور بلاول بھٹو زرداری کو تین گھنٹے لائیو کوریج دی گئی۔

مبصرین نے کہا کہ غیر جمہوری طاقتوں نے مختلف ٹی وی چینلز پر فون کرکے نواز شریف کے استقبال کے لیے آنے والے لوگوں کی فوٹیج اور خبریں روکنے کی ہدایات جاری کیں ۔ یورپی یونین مبصرین کے مطابق پاکستان میں انتخابات سے پہلے اور انتخابات کے دوران میڈیا پر غیر ضروری پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور میڈیا کے ارکان کے پاس الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اجازت نامے کے باوجود پولنگ سٹیشن کے اندر ہونے والی کارروائی دکھانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

دوسری طرف انتخابی معاملات کی نگرانی کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فافن کی رپورٹ کے مطابق پولنگ سٹیشنز پر سکیورٹی اہلکار خلاف ضابطہ کارروائیوں میں متحرک رہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پندرہ سو اکہتر پولنگ سٹیشنز کے اندر ووٹرز کو مخصوص امیدوار کیلئے راغب کیا گیا اور غیر مجاز افراد دندناتے رہے۔ اس کے علاوہ 163 پولنگ سٹیشنز پر یہ افراد پولنگ عملہ پر اثرانداز ہوئے۔

فافن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تین سو چوالیس پولیس پولنگ سٹیشنز پر اہل ووٹرز کو سکیورٹی اہلکاروں کی کی طرف سے روکا جاتا رہا اور اس طرح کے سب سے زیادہ واقعات صوبہ پنجاب میں ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے 35 حلقوں کے مسترد ووٹوں کی تعداد جیتنے والے کی لیڈ سے زیادہ ہیں اور ایسے حلقوں کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ پنجاب ہے جو 24بتائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی مری، شیخ رشید راولپنڈی، خواجہ آصف سیالکوٹ، فیصل واوڈا کراچی اور لاہور کی چودہ میں سے آٹھ نشستوں پر ووٹ گننے کے عمل کے دوران پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال کر ہیر پھیر کے الزامات سامنے آئے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے