مانسہرہ میں الیکشن کیسے ہوا؟

ضلع مانسہرہ میں قومی اسمبلی کی دو نشستیں جبکہ صوبائی اسمبلی کی چھ نشستیں ہیں اور حالیہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشتستوں کے نمبر این اے تیرہ اور چودہ تھے ۔ این اے تیرہ سے اہم امیدوار سابق وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کے بیٹے شاہجہان اور این اے چودہ سے کیپٹن صفدر تھے لیکن ان کی نااہلی سے ان کے بھائی سجاد اعوان نے انتخاب لڑا ۔

ان کے مقابلے میں عمران خان کے گرگے اعظم سواتی نے محاذ سنبھالا اور این تیرہ سے آزاد امیدوار صالح محمد کو اتارا جبکہ این اے چودہ سے تحریک انصاف کے زرگل خان کو ٹکٹ دیا گیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صالح محمد گزشتہ الیکشن میں ن لیگ کے ٹکٹ پر پختونخوا اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس سال فروری میں اپنے گھر کے باہر ایک بڑا جلسہ بھی منعقد کیا تھا جس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے تقاریر کی تھیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس جلسے کے بعد طاقتور قوتوں کے کسی معمولی ہرکارے نے ان کا بازو مروڑا تو پکے ہوئے پھل کی طرح شاخ سے ٹوٹ گئے ۔

صالح محمد کو جتوا کر شاہجہان کو ہرانا کہیں اور طے کیا گیا تھا اس لئے پورے ملک کی طرح اس حلقے میں الیکشن بھی سخت نگرانی اور کڑے پہرے میں منعقد ہوا ۔ بعد ازاں حسب توقع نتائج نکالے گئے جس کے خلاف شاہجہان یوسف کے حامیوں نے مانسہرہ شہر اور شاہراہ قراقرم پر احتجاج کیا جس میں سیکورٹی ادارے کے کسی اہلکار کی گولی سے ایک شخص کے مارے جانے کی خبر آئی ۔

این اے چودہ سے ن لیگ کے محمد سجاد اعوان کو 74889 ووٹ حاصل کر کے کامیاب قرار دیا گیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے زرگل خان نے 59638 ووٹ لئے ہیں ۔ اس حلقے سے متحدہ مجلس عمل کے مفتی کفایت اللہ کو 45449 ووٹ ملے ہیں ۔ تحریک لبیک کے قاضی طیب شہزاد کو 6290 اور مسلم لیگ ق کے فخرالزمان خان کو 7182 اور آزاد امیدوار روشن زمان کو 3559 ووٹ حاصل ہوئے ۔

متعلقہ مضامین