الیکشن کمیشن کے گندے ترین انتخابات

عمر برنی

تحریک انصاف کے علاوہ ملک کی تمام بڑی جماعتوں نے عام انتخابات 2018 کے نتائج مسترد کر دیئے۔ دھاندلی کا شور بلند ہوا تو حلقے کھولنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کئی حلقے کھولے گئے جن میں نتائج نے ایک سو اسی ڈگری کاٹرن لے لیا۔ جس کے بعد کئی حلقوں میں دو بارہ گنتی کی درخواستیں مسترد ہوگئیں۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوگئی کہ ملک میں کچھ قوتیں قوم پر اپنی مرضی کے نتائج مسلط کرنے کی ضد پر اڑی ہیں۔ عام انتخابات 2018 میں مبینہ دھاندلی کا ذمہ دار صرف اور صرف الیکشن کمیشن ہے۔ الیکشن کمیشن نے جس طرز کا ضابطہ اخلاق جاری کیا وہ میرے مطابق غیر آئینی تھا۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ اسٹیشن میں موبائل فون، کیمرے، مائیک اور تمام ایسی چیزیں بین کردیں۔ آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کی ذمہ داری صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے لیکن الیکشن کمیشن نے وہ تمام چیزیں بین کردیں جن سے انتخابات کی شفافیت یقینی بنائی جا سکتی تھی۔ اس قسم کا ضابطہ اخلاق جاری کرنے پر کسی سیاسی جماعت نے بھی مذاحمت نہ کی۔ الیکشن کمیشن کے بیٹ رپورٹرز نے جب چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان سے پوچھنے کی جسارت کی تو وہ آئیں، بائیں، شائیں کرتے رہے اور کوئی مناسب جواب نہ دے سکے۔ الیکشن کمیشن کی دوسری بڑی غلطی فوج کی نگرانی میں انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ ماننا تھا۔ فوج کو سکیورٹی کیلئے استعمال کیے جانے میں کوئی قباحت نہ تھی لیکن پولنگ اسٹیشن کے اندر فوج کا کوئی کام نہیں تھا۔ ووٹوں کی گنتی کے وقت فوج کا پولنگ اسٹیشن میں ہونا اور گنتی کے عمل کی نگرانی کے بعد ہارنے والوں کا اس پر ردعمل عین ممکن تھا۔ تاریخ بھی گواہ ہے کہ جس کے پاس بندوق ہے اس نے ووٹ کی کبھی عزت نہیں کی۔ جن پر ووٹ کے تقدس کو پامال کرنے کا الزام لگتا رہا ہو، ان سے شفاف الیکشن کرانے کی توقع رکھنا دانش کے خلاف ہے ۔

اب بات کر لیتے ہیں پولنگ کے دن کی۔ پچیس جولائی دو ہزار اٹھارہ کو پولنگ کا عمل شروع ہوا تو شہریوں کی بہت کم تعداد پولنگ اسٹیشن پہنچی اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا، لیکن جیسے جیسے دن آگے بڑھتا گیا، پولنگ اسٹیشن پر رش لگنے لگا کیونکہ پولنگ کا عمل شدید سست روی کا شکار رہا۔ شام تک صورتحال یہ تھی کہ پولنگ اسٹیشن کے باہر نہ ختم ہونے والی لمبی قطاریں لگ چکی تھیں۔ ایسے میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن سے پولنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست کی جار ہی تھی لیکن الیکشن کمیشن نے ایک ضدی بچے کی طرح پولنگ کا وقت بڑھانے سے صاف انکار کردیا، جس کی وجہ سے کئی شہریوں کو اپنے حق رائے دہی کے استعمال کا موقع ہی نہ ملا اور گھر لوٹنا پڑا۔ اگر الیکشن کمیشن کی طرف سے پولنگ کا دورانیہ ایک گھنٹہ بڑھا دیا جاتا تو ٹرن آؤٹ میں واضح فرق نظر آتا اور دیکھا جائے تو اس میں ملک اور قوم کا کوئی نقصان بھی نہ تھا۔ آخر میں ذکر کرنا چاہوں گا اس ایک گھنٹے کی جو الیکشن کمیشن نے نادیدہ قوتوں کیلئے جان بوجھ کر خریدا۔ پولنگ کا عمل 6 بجے اختتام پزیر ہوگیا اور گنتی کا عمل شروع ہوا۔ کئی پولنگ اسٹیشنز پر پندرہ منٹ کے اندر اندر نتائج مرتب ہوچکے تھے لیکن پھر الیکشن کمیشن کی طرف سے تمام ٹی وی چینلز کو نتائج نشر کرنے سے روک دیا گیا اور وجہ یہ بتائی کہ سات بجے پہلا غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ چیف الیکشن کمشنر خود جاری کریں گے۔ چھ بجے سے سات بجے تک نتائج رکے رہے اور پولنگ اسٹیشنز کے باہر بھی چسپاں نہ کیے گئے۔ یہ ایک گھنٹہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا اور اس ایک گھنٹے کے دوران بڑے بڑے برج الٹے گئے۔ اسی ایک گھنٹے کے دوران کئی مخصوص اور چنے گئے پولنگ اسٹیشنز میں سے پولنگ ایجنٹوں کو نکالا گیا۔ کئی پولنگ اسٹیشنز پر کسی بھی سول افسر، بشمول پریزائڈنگ آفیسر کو بھی بیلٹ بکس کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہ تھی۔ باہر نکالے گئے پولنگ ایجنٹس نے بتایا کہ اندرپورا پولنگ عملہ یرغمال بنا بیٹھا تھا۔ عالمی میڈیا تو پہلے ہی پاکستان کے عام انتخابات 2018 کو ملکی تاریخ کے گندے ترین انتخابات بتا چکا ہے، لیکن ان انتخابات کو گندہ کرنے میں وہ ادارہ پیش پیش ہے جس کی آئینی طور پر ذمہ داری ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے