کروڑوں کا قرضہ واپسی پر آمادگی

پندرہ برس قبل معاف کرائے گئے بنکوں کے قرضوں پر لئے گئے ازخود نوٹس کیس سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں مختلف کمپنیوں نے کروڑوں روپے واپس کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ تین ماہ کا وقت دے رہے ہیں، جس نے قرض واپسی کیلئے بنکنگ کورٹ سے رجوع کیا اس کی جائیداد بھی گروی رکھ کر جیل بھیج سکتے ہیں ۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے چیف جسٹس کی سربراہی میں قرضے معافی ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت کو مختلف کمپنیوں اور افراد کے وکیلوں نے بتایا کہ لئے گئے قرض کی واپسی کیلئے عدالتی فارمولا قبول ہے، 75 فیصد رقم واپس کریں گے لیکن اس کے لئے مناسب وقت دیا جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دو ماہ کا وقت دیں گے، پیسے جمع نہ کرانے والے جیل چلا جائے، بیٹھا رہے ۔ ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل نے کہا کہ اثاثے بیچ کر قرض واپس کریں گے اس میں کچھ پیچیدگیاں ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح ہاتھ مار کر بات نہ کریں، احتجاج کرنے نہیں دوں گا، ابھی آپ کے مؤکل کی گرفتاری کا حکم دیتا ہوں، اگر غلط فیصلہ ہوا تو آپ چیلنج کر دیں ۔ کمپنی کے وکیل نے کہا کہ تین ماہ کا وقت دیا جائے اور اثاثے نیلام کرنے کیلئے بھی ماتحت عدالت کو ہدایت کی جائے تاکہ مسئلہ حل ہو سکے ۔ ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ تین ماہ کا وقت دے دیں گے مگر نیگ نیتی نظر آنا چاہئیے، جو لوگ قرض واپسی اور جو لوگ بنکنگ کورٹ جانا چاہتے ہیں ان کو الگ الگ سنیں گے ۔ عدالت نے سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین