کیا فوج میں دہری شہریت والے ہیں؟

سپریم کورٹ میں سرکاری افسران کی دہری شہریت کےمقدمے کی سماعت ہوئی ہے ۔ عدالت نے سیکرٹری دفاع کو نوٹس جاری کر کے پوچھا ہے کہ کیا افواج پاکستان میں بھی دہری شہریت کے حامل جوان و افسران پائے جاتے ہیں؟ عدالت نے پوچھا ہے کہ کیا فوجی قانون میں دہری شہریت کی پابندی صرف جوانوں کی حد تک ہے؟ یا افسران بھی دہری شہریت کے حامل نہیں ہوسکتے ۔

عدالت کے معاون شہزاد الہی نے بتایا کہ آئین پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ پر دہری شہریت لینے کی پابندی ہے، جج صاحبان پر دہری شہریت رکھنے پر کوئی پابندی نہیں، دہری شہریت قانون کا اطلاق سول سرونٹس پر بھی نہیں ہوتا، گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران پر دہری شہریت کی پابندی کیلئے قانون سازی کی کوشش کی گئی، عدالتی معاون نے بتایا کہ متعلقہ بل سینیٹ نے منظور کیا لیکن قومی اسمبلی نے مسترد کردیا تھا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کئی افسروں نے تاحال دہری شہریت چھپائی ہوئی ہے، شہریت چھپانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ نادرا کے چیئرمین  نے بتایا کہ 1116 افسر غیر ملکی یا دہری شہریت رکھتے ہیں، 1249 افسروں کی بیگمات غیر ملکی یا دہری شہریت کی حامل ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دوہری شہریت رکھنا قانونی طور پر کوئی جرم نہیں، دہری شہریت والے ممبر پارلیمنٹ نہیں بن سکتے، سرکاری افسروں کی دہری شہریت پر قانون خاموش ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا قانون میں ارکان اسمبلی سے تعصب تو نہیں برتا جا رہا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کئی حساس دفاتر میں بھی دہری شہریت کے حامل افسر موجود ہیں، کئی ججز بھی دہری شہریت کے حامل ہیں، اگلے مرحلے میں پاک فوج کے حوالے سے بھی تفصیلات لیں گے، تفصیلات لے کر معاملہ حکومت کو بھجوایا جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کئی سرکاری افسر تو پاکستان کے شہری ہی نہیں، دوہری شہریت کا معاملہ عدالت نے دیکھنا ہے یا حکومت نے؟ عدالتی معاون بتائیں خود فیصلہ کریں یا معاملہ کابینہ کو بھجوائیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آرمڈ فورسز میں بھی دہری شہریت کے حامل لوگ ہوسکتے ہیں، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر فوج میں بھی دہری شہریت یافتہ ہیں تو بہرحال ابھی قانونی صورت حال واضح نہیں، عدلیہ کا کام قانون سازی نہیں، بار بار کہہ چکے ہیں کہ پارلیمنٹ قوانین میں ترمیم کرے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ معاملہ بھی پارلیمنٹ کو بجھوا دیں گے، آگے پارلیمنٹ جانے اور انکا کام، چیف جسٹس نے کہا کہ وطن عزیز کی حفاظت کیلئے لوگ جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں، کارگل کا واقعہ سامنے ہے، بے شمار لوگوں نے جانیں قربان کیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ملک دفاع کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش نہ کیا تو آنے والی نسلیں غیر محفوظ ہوں گی ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ منقسم وفاداری کو قانون میں مفادات کے ٹکراؤ سے موسوم کیا گیا ہے ۔

عدالت نے بہترین معاونت پر معاون شہزاد الہی کا شکریہ ادا کیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شہزاد الہی آپ نے عدالت کی بہترین معاونت کی ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔

سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے