امتیازی پالیسی پر یقین نہیں رکھتا

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال نے نیب ہیڈ کوارٹرز میں ایک اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کی ۔ اجلاس میں نیب کی بدعنوانی میں ملوث مبینہ ملزمان کو گرفتاری کیلئے بنائی گئی پالیسی کا جائزہ لیا گیا۔ چئیرمین نیب نے کہا ہے کہ نیب ملزمان کی گرفتاری کیلئے کسی امتیازی پالیسی پر یقین نہیں رکھتا بلکہ بلا امتیاز، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق مبینہ ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیب بدعنوانی میں مبینہ ملزم کی گرفتاری کے وقت نہ صرف الزامات کی سنگین نوعیت، ملزم کا بدعنوانی میں مبینہ کردار، گرفتاری کی وجوہات خصوصاََ ملزم کا ملک سے فرار ہونے کے خدشہ سمیت تمام پہلوؤں کا قانون کے مطابق جائزہ لے کر ملزم کو گرفتار کرتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد اس کو متعلقہ احتساب عدالت میں پیش کرکے نیب ملزم پر لگائے گئے الزامات کی مکمل تفصیلات سے معزز احتساب عدالت کوآگاہ کرتا ہے جس کی بنیاد پر متعلقہ معزز احتساب عدالت ملزم کا مزید تحقیقات کیلئے نیب کو ریمانڈ دیتی ہے۔ نیب ریمانڈ کے دوران ملزم سے سائنسی بنیادوں پر ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق تحقیقات کرتا ہے ۔ تحقیات سے پہلے اور تحقیقات کے دوران نیب ملزم کو اپنی صفائی کا پورا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کم رقومات والے مقدمات پر اپنی توانائیاں صرف کرنے کی بجائے بڑے بڑے میگا سیکنڈلز کی تحقیقات کو ترجیح دے رہا ہے ۔ جس کی بدولت بدعنوانی میں مبینہ طور پر ملوث بڑی مچھلیوں پر قانون کے مطابق ہاتھ ڈالا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مقدمہ میں گرفتار ملزم کے خلاف 90 دنوں میں نیب بدعنوانی کا ریفرنس متعلقہ احتساب عدالت میں قانون کے مطابق دائر کرے گا اور اس سلسلہ میں غفلت برتنے والے نیب افسران کے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے