عبرت کا نشانہ بنانے پر تُلے پارسا

نواز شریف کو اذیت ناک سزاﺅں کا نشانہ بنانے کو بے چین تحریک انصاف کے پارساﺅں کو جانے کیوں یاد نہیں رہا کہ ان کے رہبر پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ اس ریاست کو متعارف کروانے والی ہستی کو ہم رحمتہ الالعالمینﷺ کہتے ہیں۔ایک بدبخت عورت آپﷺ پر کوڑا پھینکا کرتی تھی۔ بیماری کے سبب ایک بار وہ ایسا نہ کر پائی تو اس کی عیادت ہوئی۔
پاکستان کا کوئی وزیر اعظم نواز شریف کی طرح اپنے منصب پر فائز ہوتے ہوئے بھی ذلت واحتساب کے اذیت ناک مراحل سے نہیں گزرا۔ اس ملک کا نام نہاد چیف ایگزیکٹو منتخب ہونے کے ایک سال بعد ہی موصوف کو 126دنوں تک پھیلے دھرنے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے اختتام کے بعد ذرا فرصت ملی تو پانامہ پیپرز آگئے۔ اس کے بعد گریڈ 18سے 20تک کے افسروں پر مشتمل JITکے روبرو پیشیاں۔ بالآخر پارلیمان کی رکنیت کے لئے تاحیات نااہلی۔ احتساب عدالت کے روبرو سو سے زیادہ پیشیاں جس کا اختتام اڈیالہ جیل میں ہوا۔
نواز شریف یہ سزا پانے اپنی دُختر سمیت لندن کے ایک کلینک میں بے ہوش پڑی اہلیہ کو چھوڑ کر وطن لوٹے تھے۔ مریم نواز اس وقت بھی عام مجرموں کی طرح اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔انہیں کوئی VIPمراعات میسر نہیں۔ نواز شریف کے ساتھ بھی عام قیدیوں جیسا سلوک ہورہا تھا۔ عمراُن کی 68سال ہوچکی ہے۔ دل کے دو آپریشن کی تاریخ بھی ہے۔ ان کی شوگر بھی Regulateکرنا ہوتی ہے۔ اس دوران دل کی تکلیف کو بڑھانے والی چند علامات نمایاں ہوئیں تو انہیں اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
تحریک انصاف کے پارساﺅں نے مگر دہائی مچادی۔ کہانی پھیلائی کہ نواز شریف کو ایک بار پھر کسی Dealکے ذریعے جلاوطن کرنے کے بہانے تراشے جارہے ہیں۔مبینہ Dealکو روکنے کے لئے ڈاکٹر شیریں مزاری جیسی عالم فاضل خاتون بھی ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہوکر ایک ”سزا یافتہ مجرم“ کےساتھ ہوئے ”خصوصی سلوک“ کی مذمت کرنے کو مجبور ہوگئیں۔ تحریک انصاف کے کئی کارکن ہسپتال کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئے۔ شاید ویسے ہی مناظر دہرانے کا ارادہ تھاجو چند ہفتے قبل لندن میں شریف خاندان کے فلیٹوں کے باہر دیکھنے کو ملے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے بروقت اقدامات سے مگر معاملات کو بگڑنے نہیں دیا۔
دریں اثناءعمران خان کے خود ساختہ ترجمانوں نے یہ افواہ بھی پھیلادی کہ تحریک انصاف کے قائد نواز شریف کی عیادت کو پہنچنے والے ہیں۔ یہ کالم لکھنے تک مگر یہ واقعہ نہیں ہواتھا۔ مجھے امید بھی نہیں ہے کیونکہ فی الوقت کپتان کو بنی گالہ بیٹھ کر ان لوگوں کے گلوں میں PTIکے پٹے ڈالنا ہیں جنہیں جہانگیر ترین اپنے طیارے میں لادکر ان کے روبرو پیش کررہے ہیں۔
وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھانے سے قبل خان صاحب کے لئے ضروری ہے کہ وہ 137اراکین قومی اسمبلی کی حمایت شو کریں۔ 25جولائی 2018کے روز تحریک انصاف اپنے طورپر یہ نمبرحاصل نہیں کرپائی تھی۔دیگر چھوٹی جماعتوں اور آزاد اراکین کے نازنخرے اٹھانا ضروری ہورہا ہے۔ ان میں سے اہم ترین MQMہوگی جس کے خلاف کئی برس کی جدوجہد کے بعد تحریک انصاف ”کراچی شہر کی متبادل آواز“ بن کر ابھری ہے۔ MQMکی ”زندہ لاشوں“کے نازنخرے اٹھائے جاسکتے ہیں تو نواز شریف کو پمز ہسپتال میں بھی برداشت کرنا ہوگا۔
آزاد عدلیہ اور بے باک میڈیا کے ہوتے ہوئے نواز شریف بیماری کا ڈھونگ رچاہی نہیں سکتے۔ پمز ایک سرکاری ہسپتال ہے۔ اسکے ڈاکٹروں پر کڑی نگاہ رکھی جارہی ہے۔مختلف النوع ٹیسٹ جدید ترین مشینوں کے ذریعے ہوتے ہیں۔ ان کا ریکارڈموجود ہوتا ہے۔ یقین نہ آئے تو حکومت سنبھالنے کے بعد خان صاحب اپنی پسند کا میڈیکل بورڈ تشکیل دے سکتے ہیں۔ قیدی کے کوائف جاننے کے تمام تر وسائل ان کی گرفت میں ہوں گے۔ نواز شریف کے لئے بہانہ سازی ممکن ہی نہیں۔
اس دوران یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ نواز شریف کے خلاف احتساب بیورو کی جانب سے قائم ہوئے دو مزید مقدمات کی سماعت بھی مکمل ہونا ہے۔ نواز شریف کو شفاف انصاف کی فراہمی کے لئے عدالت میں لانا لازمی ہوگا۔ پیشی سے استثناءصرف اس صورت مل سکتاہے کہ اگر سرکاری ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ انہیں ہسپتال ہی میں رکھنے کی سفارش کرے۔ مریم نواز اس دوران قید ہی میں رہیں گی۔ تحریک انصاف کے پارساﺅں کی مگر ان حقائق کے ہوتے ہوئے بھی تشفی نہیں ہورہی۔ ان کی تسلی کے لئے شاید نواز شریف کو ڈی چوک میں لاکر سرِ عام پھانسی دینا ہوگی۔ پھانسی کا حکم مگر کسی عدالت نے سنایا نہیں ہے۔ قید بامشقت کا حکم البتہ موجود ہے۔
اپنے پارساﺅں کی تسلی کے لئے تحریک انصاف کی حکومت کو جیل میں ایک چکی رکھوا دینا چاہیے۔ نواز شریف جیل لوٹ کر اس میں گندم یا جو پیستے 24/7چینلوں کے ذریعے براہِ راست دکھائے جائیں تو تھوڑا اطمینان ہوجائے گا۔
نواز شریف کو عبرت کا نشان بنانے پر تلے پارساﺅں کو مگر یاد رکھنا ہوگا کہ سیاست بنیادی طورپر سمجھوتوں اور درگزر کا کھیل ہے۔ پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے تحریک انصاف کو صوبائی اسمبلی کے آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے سلمان سے بھی رجوع کرنا پڑرہا ہے۔ ان صاحب نے شاہ محمود قریشی کو صوبائی حلقے میں شکست دے کر بہاﺅالدین ذکریا کے مخدوم کے اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے امکانات کو گہنا دیا ہے۔ شاہ محمود قریشی تلملارہے ہیں۔جہانگیر ترین مگر مذکورہ شخص کی ناز برداری کو مجبور ہیں اور یہ فقط ایک کہانی ہے۔
نام نہاد Big Pictureکو ذہن میں رکھیں تو متوقع وزیر خزانہ اسد عمر صاحب واضح الفاظ میں اعلان کرچکے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کو بچانے کے لئے IMFسے رجوع کرنے کے سوا کوئی راستہ ہی موجود نہیں۔IMFسے Bailout Packageلینے کے لئے پاکستان کو چند اقدامات اٹھانا بھی ضروری ہوں گے۔ ممکنہ اقدامات فقط معاشی میدان تک ہی محدود نہیں رہیں گے۔ اگرچہ ڈالر کا ریٹ IMFطے کرے گا۔ بجلی کی قیمت بڑھانے پر اصرار کرے گا ۔ اصل مشکل مگر اس وقت سامنے آئے گی جب عمران حکومت کو کچھ ایسے فیصلے بھی کرنا ہوں گے جن پر عمل نہ کرنے کے سبب پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)نے گرے لسٹ پر ڈال رکھا ہے۔ وہ اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پاکستان Blackمیں دھکیل دیا جائے گا۔ شمالی کوریا اور ایران کی طرح۔
ملکی معیشت کو رواں رکھنے کے لئے سمجھوتے ناگزیر ہیں۔ نواز شریف کو عبرت کا نشان بناکر دیوار سے لگایا گیا تو ان کے نام سے منسوب جماعت ان سمجھوتوں کے خلاف دہائی مچادے گی۔ اس جماعت کو خدارا کمزور نہ جانیں۔بدترین حالات میں بھی وسطی پنجاب کے شہروں سے اس کے امیدواروں نے لاکھوں ووٹ لئے ہیں۔ بے تحاشہ حلقوں میں Recounting کے لئے جاندار مظاہرے ہورہے ہیں۔ مانسہرہ اور مری میں جو ہوا ہمارے ذمہ دار میڈیا نے دکھایا نہیں ہے ۔ لاہور،گوجرانوالہ،سیالکوٹ، اوکاڑہ یا وزیر آباد میں مظاہرے شدید ہوئے تو میڈیا اپنی آزادی کا بھرم رکھنے کو مجبور ہوگا۔ تحریک انصاف کاحتمی مفاد یہ حقیقت تسلیم کرلینے میں ہے کہ اب وہ ایک اپوزیشن جماعت نہیں رہی ۔ اقتدار سنبھالنے والی ہے اور پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کے لئے اسے عفوودرگزر کی اشد ضرورت ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے