قلم کی سولی

الیکشن 2018ء آیا، ہوا اور گزر گیا ۔ یہ 2011ء تھا جب جنرل پاشا نے پی ٹی آئی کی صورت اسٹیبلیشمنٹ کے مفادات کی نگہبانی کا نیا انتظام شروع کیا تھا۔ میری تب سے ہی دیانتدرانہ رائے تھی کہ اس جماعت کی حکومت ہمارے ملک کے مفاد میں نہ ہوگی۔ لیکن 2018ء میں تو یہ رائے مزید پختہ ہوئی کیونکہ ملک بھر کا سیاسی کچرا ’’الیکٹ ایبلز‘‘ کے نام سے اس جماعت میں جمع کردیا گیا۔ یوں وہ کچرا جو مختلف جماعتوں میں تقسیم ہوکر بہت کم نظر آتا تھا ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوکر سیاسی تعفن میں اضافے کا باعث بن گیا۔ جو سیاسی غلاظت کچھ نون لیگ کے دور میں نظر آتی اور کچھ پیپلزپارٹی کے دور میں، وہ آج پی ٹی آئی میں بیک ظرف وزمان جمع ہے اور امکان ہے کہ یہی ہم پر حکومت کریں گے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایسی سیاسی جماعت کے اقتدار میں آنے کی مزاحمت ہونی چاہئے سو آخری لمحے تک یہ جاری رکھی۔ لیکن اب جبکہ اس جماعت کی حکومت بننے جارہی ہے تو اگرچہ اس کی کم از کم تیس سیٹیں ایسی ہیں جو اسے دھاندلی کرکے دی گئی ہیں لیکن سسٹم کو چلانا بھی ہے سو ان تیس سیٹوں کا معاملہ اسی پارلیمنٹ میں جانا چاہئے جس کا ان تیس سیٹوں کے سوا باقی حصہ قانونی ہی ہے۔ حل اس کا واحد یہی ہے کہ دوبارہ گنتی ہو اور اس میں سامنے آنے والی حقیقت کو قبول کرلیا جائے۔ آنے والی پارلیمان پر ایک بڑی ذمداری یہی عائد ہوگئی ہے کہ وہ غور کرے کہ اسے وجود بخشنے والے الیکشن میں وہ شرمناک صورتحال کیوں پیدا ہوئی جس نے الیکشن میں ذمہ داری ادا کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد ختم کرکے رکھدیا۔ اس الیکشن کے نتائج صرف امیدواروں کی کامیابی اور ناکامی کی صورت ہی تو نہیں نکلے بلکہ کچھ اور بھی نکلے ہیں۔ میرا اشارہ انہی نتائج کی جانب ہے جنہیں قوم سے چھپانے کی خاطر الیکشن سے قبل میڈیا پر سینسر شپ عائد کردی گئی۔ بطور پاکستانی قوم ہم ریاست پاکستان کے شہری اس کے ہر ادارے کے مالک ہیں۔ سو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی پارلیمنٹ کے ذریعے پیدا شدہ صورتحال کے اسباب ہی نہیں بلکہ ذمہ داروں کا بھی تعین کریں اور ثابت کریں کہ ادارے افراد پر مقدم ہیں۔ امید ہے اس معاملے میں عمران خان کی غیر لعنتی پارلیمنٹ مایوس نہیں کرے گی۔

ہرچند کہ مرکز اور پنجاب دونوں ہی جگہ حکومت سازی کے لئے جوڑ توڑ جاری ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی ہی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی مگر یہ سیاست ہے یہاں جب تک وزیر اعظم کا انتخاب نہ ہوجائے حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں ہوتا۔ میری رائے میں پی ٹی آئی کو مرکز اور پنجاب دونوں جگہ حکومت بنانے کا موقع دینا چاہئے۔ ایک تو اس لئے کہ متنازع سہی مگر مینڈیٹ اسی کے پاس ہے اور دوسری وجہ یہ کہ الیکشن کے موقع پر ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہ تھی جو اپنے لئے غیر تجربہ کار ڈرائیور تک رکھنے کے قائل نہیں لیکن حکومت جیسی قومی ذمہ داری کے معاملے میں ان کا خیال تھا ’’عمران کو بھی ایک بار آزما لینا چاہئے‘‘ سو چلئے اس بار عمران کو آزما لیتے ہیں تاکہ یہ بھی طے ہو سکے اقتدار کسی کو آزمائشی بنیاد پر دینا درست ہے یا غلط؟ ہرچند کہ میری یہ رائے رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس ملک کے لئے تباہ کن ہوگی مگر جب موقع اسی کو ملنے لگا ہے تو میری دعاء تو بس ایک ہی ہوسکتی ہے کہ اے پروردگار ! اس حکومت کو کامیاب فرما۔ میں اب اس کے سوا کوئی اور دعاء مانگ ہی نہیں سکتا کیونکہ اگر یہ حکومت ناکام ہوئی تو نقصان پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ مجھ سمیت اکیس کروڑ شہریوں کا ہوگا۔ اگر سیاسی اختلاف کی بنیاد پر میں یہ آرزو پالوں کہ جنہیں میں نے ملک کے لئے نقصان دہ بتا رکھا ہے وہ ملک کے لئے نقصان دہ ہی ثابت ہوں تو مجھ سے بڑا اس ملک کا کوئی دشمن اور بدخواہ ہوسکتا ہے ؟

میں آج بھی نون لیگ کا حامی ہوں اور اس جماعت کا حامی 2013ء میں شہباز شریف کی کار کردگی کی بنیاد پر بنا تھا اور اس الیکشن میں پہلی بار نون لیگ کو ووٹ دیا تھا۔ الحمدللہ نہ صرف 2013ء کے بعد کی کارکردگی سے بھی نوے پچانوے فیصد مطمئن ہوں بلکہ حالیہ الیکشن میں بھی ووٹ اسی کو دیا ہے سو اس کی حمایت سے دستبردار ہونے کی فی الحال کوئی وجہ نہیں۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ میں نون لیگ کے کاغذی منشور کی بنیاد پر اس کا حامی نہیں بنا بلکہ ’’کارکردگی‘‘ کی بنیاد پر بنا ہوں ۔ سو اگر عمران خان کار کردگی میں نون لیگ سے بھی آگے نکل جائیں تو میں کیوں نہ ان کی حکومت کا حامی بنوں گا ؟ میرا دعویٰ اب بھی یہی ہے کہ یہ ڈیلیور نہیں کر سکتے، یہ تو نکمے اور ناتجربہ کار لوگ ہیں مگر میرا دیانتدار شہری ہونا مجھ سے یہی تقاضا کرتا ہے کہ حکومت زرداری کی ہی کیوں نہ ہو میں اس کی کامیابی کی دعاء کروں کیونکہ کسی بھی حکومت کی ناکامی اس حکومت کا ہی نہیں میرے وطن کا بھی نقصان ہے۔ یہ کوئی کرکٹ ٹیم کا معاملہ نہیں کہ میں مخالف ٹیم کی شکست کی آرزو پالوں، یہ قومی ترقی اور زوال کا سنجیدہ معاملہ ہے سو آرزو عمران کی ٹیم کے لئے بھی صرف جیت کی ہی کی جاسکتی ہے۔ ہم نے پچھلے ستر سال میں بطور قوم کمایا کم ہے اور نقصان زیادہ کیا ہے سو ہم میں سے ہرشخص کو کمائی میں برکت کے لئے بہت بڑی بیقراری ہونی چاہئے۔ اگر عمران خان کی حکومت نے اپنے مجھ جیسے مخالفین کے اندازے غلط ثابت کردئے اور کچھ کر دکھایا تو خدا علیم ہے اس کی بے اندازہ خوشی ہوگی۔ لیکن اگر خدانخواستہ یہ حکومت ناکام ہوئی تو یہ صدمہ بھی بہت بھاری ہوگا کہ ہم نے سمجھایا بھی تھا کہ حکومت کرنا ان کے بس کا کام نہیں لھذا قوم کے پانچ سال برباد نہ کئے جائیں مگر ہماری نہ سنی گئی اور قیمتی وقت ہی نہیں بلکہ خطیر سرمایہ بھی برباد کردیا گیا۔ تب اگر زندہ رہے تو اس حکومت کو ہی نہیں بلکہ اس کے حامیوں کو بھی قلم کی سولی پر چڑھانے میں غفلت نہ برتیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے