جنرل راحیل بیرون ملک ملازم کیوں؟

سپریم کورٹ نے اعلی افسران کی دہری شہریت کے مقدمے میں وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد سعودی ملازمت کیلئے جانے کی درخواست اور دیئے گئے این او سی کا مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ عدالت نے سیکرٹری دفاع سے کہا ہے کہ فوجی افسران کی غیرملکی بیگمات کی بھی تفصیل مہیا کی جائے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ قانون کے مطابق ریٹائرمنٹ کے دو سال تک کوئی اور ملازمت نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ جنرل پاشا آئی ایس آئی کے اہم عہدے سے ریٹائرمنٹ کے چند دن بعد دبئی میں ملازمت کرنے گئے، اسی طرح جنرل راحیل شریف نے بھی سعودی عرب میں ملازمت اختیار کی، چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا وفاقی حکومت سے اس کیلئے اجازت لی گئی؟

سیکرٹری دفاع عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ فوج میں دہری شہریت والا شخص بھرتی نہیں ہو سکتا کیونکہ قواعد اس کی اجازت نہیں دیتے ۔ سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ فوج میں کوئی بھی اہلکار یا افسر دہری شہریت کا حامل نہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ ایک پروفارما بنا کر تمام افسران سے معلومات حاصل کر کے عدالت کو آگاہ کریں ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا فوجی افسران کی بیگمات غیر ملکی شہریت رکھ سکتی ہیں؟ سیکرٹری دفاع نے جواب دیا کہ غیر ملکی خاتون سے شادی کیلئے افسران کو آرمی چیف سے اجازت لینا پڑتی ہے ۔

عدالت کو معاون وکیل نے بتایا کہ سابق سرکاری ملازمین کی ملازمت پابندی کے قانون 1966 کا ہے جس کے تحت ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد کسی جگہ نوکری کی جا سکتی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال کے اندر ملازمت نہیں کی جا سکتی، کیا فوجی افسران بھی سرکاری ملازم تصور ہوں گے؟۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ جنرل پاشا ریٹائرمنٹ کے چند دن بعد دبئی میں ملازمت کرنے چلے گئے، وہ آئی ایس آئی کے ڈی جی تھے، ان کے پاس اہم معلومات ہیں، اسی طرح جنرل راحیل شریف بھی سعودی عرب چلے گئے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا قانون میں ایسی ملازمت کیلئے کسی این او سی کی گنجائش ہے؟ ۔ اٹارنی جنرل نے ہاں میں جواب دیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ این او سی وفاقی حکومت نے دینا تھا اور وفاقی حکومت کا مطلب کابینہ ہے ۔ افسران کے پاس اہم معلومات ہوتی ہیں خدانخوستہ بیرون ملک جاتے ہوئے ان کے ساتھ کچھ ہو جائے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ وفاقی حکومت نے جنرل راحیل کو اجازت دی تھی ۔ سیکرٹری دفاع نے کہا کہ حکومت نے این او سی دیا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کس نے، کس طرح اور کس نوعیت کا این او سی دیا ہوگا ۔

عدالت نے غیر ملکی شہریت والے 27 افسران کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا جبکہ جنرل راحیل کو جاری کئے گئے این او سی کا ریکارڈ اور فوجی افسران کی غیرملکی شہریت والی بیگمات کی تفصیل فراہم کرنے کیلئے سیکرٹری دفاع کو ہدایت کرتے ہوئے سماعت 7 اگست تک ملتوی کر دی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے