نئی حکومت سے سفارتی مشنز پر اثرات

جس کا کام اُسی کو ساجھے ۔ دنیا بھر کے پاکستانی سفارتی مشنز میں سیاسی تقرر کے تحت جگہ بنانے والوں کا مستقبل کیا ہوگا؟۔

مونا خان

عام انتخابات کے بعد ملکی سیاست میں بڑی تبدیلی آ گئی ہے اور اب نئی حکومت اپنا اقتدار سنبھالے گی تو وزارت خارجہ میں بھی اہم تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ گزشتہ دور حکومت میں سفارتی محاذ پر کی گئی سیاسی تقرریاں کیا نئی حکومت کے ساتھ تبدیل ہوں گی؟۔ یہ سوال اس وقت سفارتی حلقوں میں زیربحث ہے ۔ دنیا کے اٹھارہ ممالک میں پاکستانی مشنز میں سیاسی تقرریاں کی گئی تھیں ۔ گزشتہ حکومت نے مختلف شعبوں سے منظور نظر افراد کو اٹھا کر اہم سفارتی مشنز پر تعینات کر دیا تھا جس سے سفارت کاری اور پاکستان کو تو فائدہ نہیں ہوا لیکن مشنز پر تعینات لاڈلوں اور ان کے اہل خانہ کی موجیں ضرور ہوئیں ۔

کسی بھی ملک کی سفارت کاری اور خارجہ امور تب باقاعدگی سے چلتے ہیں جب اُن پر متعلقہ لوگوں کا تقرر کیا جائے ۔ مقابلے کا امتحان پاس کر کے فارن سروس گروپ میں منتخب ہونے والوں کی باقاعدہ ٹریننگ کی جاتی ہے ۔ وقت کے ساتھ  مختلف کورسز کروائے جاتے ہیں ۔ سنئیر سفارتکاروں کی سرپرستی میں تجربے میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن جب کسی ایسے شخص کو اُن اعلی مشنز پر تعینات کیا جائے جہاں انھوں نے پاکستان کی نمائندگی سفارتی اصولوں کے اندر رہ کر کرنی ہوتی ہے۔ وہاں ایسا شخص تعینات کیا جائے جو صحافتی کیئریر رکھتے ہوئے چرب زبان ہو یا بینکنگ شعبے سے منسلک ہونے کے باعث نوٹوں کی گنتی میں ماہر ہو۔ یا پھر ملٹری بیک گراؤنڈ ہو۔ بھلا ایک جہاز چلانے والا پائلٹ یا مشین گن چلانے ولا فوجی کیا جانے بسنت کی بہار؟؟ وہ کہتے ہیں ناں جسکا کام اُسی کو ساجھے۔ اکہتر سال ہونے کو آئے ہیں انھی نوازشوں کو وجہ سے پاکستان کی سفارتی پالیسی کو استخکام نہیں مل سکا۔ سابق سینیٹر طارق عظیم جو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کے چھوٹے بھائی ہیں ان کو دو ہزار پندرہ میں کینیڈا میں ہائی کمشنر تعینات کیا گیا۔ ملیحہ لودھی اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ہیں۔ کیئریر ڈپلومیٹ نہیں ہیں لیکن 1993 سے ابتک سفارتکاری کر رہی ہیں اور ہر آنے والی حکومت انھیں کسی اہم سفارتی عہدے پر فائز کر دیتی ہے۔ حال ہی میں جہانگیر صدیقی جے ایس بینک کےمالک جنکی فیملی کو شفٹ کرنے اور رہائش سے لیکر ابتک حکومتی خزانے سے کروڑ سے زائد خرچ ہو چکا ہے یہ صاحب بھی سفارتکاری کا تجربہ نہیں رکھتے لیکن امریکہ جیسے اہم مشن پر تعینات ہیں ۔ حال ہی میں ریٹائر ہونے والے فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف سہیل مارشل کو قطر میں سفارتی کے لیے چُنا گیا۔ کئیں ریٹائرڈ جرنیل چھے ممالک میں سفارتکاری کی کوشش کر رہے ہیں۔ سابق سفیر حسین حقانی کو بھی حکومت نے 1992 میں سری لنکا اور پھر پیپلز پارٹی نے 2008 میں نوازتے ہوئے امریکہ میں سفیر تعینات کیا ۔

گزشتہ دور حکومت میں پاکستانی مشنز میں انیس کنٹریکٹ تقرریاں کی گئیں ۔ کنٹریکٹ تقریوں میں 9 کا تعلق ملٹری جبکہ دس سیاسی تقریاں دیگر شعبوں سے ہیں ۔چین میں سفیر مسعود خالد کنٹریکٹ سفیر جبکہ روس میں تعینات قاضی خلیل اللہ کو ریٹائرمنٹ کے باوجود توسیع دی گئی۔ سعودی عرب میں تعینات ایڈمرل ریٹائرڈ ہشام بن صدیق اور دبئی میں قونصل جنرل بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید حسن کا نام بھی کنٹریکٹ حاصل کرنے والوں میں شامل ہے۔ عمومی طور پر نئی حکومت کے آنے پر سابقہ حکومت کی سفارتی صوابدیدی طور پر تعینات سفراء اور ہائی کمشنرز مستعفی ہو جاتے ہیں ۔ ممنکہ طور پر گیارہ اگست کو تحریک انصاف کی حکومت حلف لے گی۔ تحریک انصاف کے چئیرمین اور ممکنہ وزیراعظم عمران خان نے انتخابات کے نتائج کے بعد اپنے اعلان میں کہا کہ تحریک انصاف سفارتی تقرریوں اور تعیناتیوں کو میرٹ کی بنیاد پر کرے گی۔ ایسا نہیں ہو گا کہ پیٹرولیم کے شعبے والا سفیر بن جائے اور کئیریر ڈپلومیٹ آفس میں بیٹھ کر فائلیں سیدھا کرتا رہ جائے ۔ ملکی ترقی کی بنیاد عمدہ سفارتکاری ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والی حکومت ان تمام سیاسی تقرریوں کے سد باب کے لیے کیا اقدامات کرے گی اور انصاف کے کیا پیمانے استعمال کرے گی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے