الیکشن کمیشن کا کردار، کچھ مشاہدات

عام انتخابات سوالیہ نشان کیوں ؟

عبدالجبارناصر

قسط(اول)
انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء کے نفاذ کے بعد 25جولائی 2018ءکو ہونے والا پہلا الیکشن ہےاورالیکشن کمیشن آف پاکستان سمیت تقریباً تمام حلقوں کا دعویٰ ہے کہ انتخابی اصلاحاتی ایکٹ2017ء میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پہلے سے بہت زیادہ با اختیاربنایاگیاہے۔امکان تھاکہ ایکٹ 2017 کے نفاذ کے بعد پہلی بارملک میں ہونے والے عام انتخابات ماضی کے مقابلے کافی حدتک غیر متنازعہ ہونگے اورالیکشن کمیشن آف پاکستان کی غیر جانبداری پر ماضی اٹھنے والے سوال شاید نہ اٹھیں مگر بد قسمتی سے 25جولائی 2018 ء کو ہونے والے عام انتخابات کا شمار ملک کے متنازع ترین انتخابات میں ہوتا ہے ۔اسی طرح الیکشن کمیشن پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں بالخصوص انتخابی نتائج میں ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ تاخیر نے اعتراضات کو مزید جواز فراہم کردئے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی باررزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس)استعمال کیا،جس کا بنیادی مقصد جلد سے جلد انتخابی نتائج کی فراہمی کو ممکن بنانا تھا، اس کی تیاری سے لیکر 85ہزار سے زائد افراد کی تربیت تک ایک خطیر رقم قومی خزانے سے خرچ ہوئی جو اربوں روپے میں ہے مگر نتیجہ صفرہی نکلا،بلکہ ملکی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات کوبد ترین سوالیہ نشان بنادیاہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)کے تعاون سے تیار کیاگیاہے اوررزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) کی بدترین دانستہ یا غیر دانستہ ناکامی نے دونوں اداروں کی ساکھ کو سوالیہ نشان بنادیاہے۔
یہاں پر ہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کے کردار کے حوالے سے اپنے مشاہدات پرمبنی چند گزارشات پیش کریں گے جو بالعموم ملک بھر بلخصوص صوبہ سندھ بھر اور صوبائی دارلحکومت کراچی کے حوالے سے ہیں۔
(1)الیکشن کمیشن سے میرا گہرا تعلق 2001ء سے ہے جب سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں پہلی بار ملک میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات ہوئے اورایک یونین کونسل میں غالباً19 کوافراد کے ہونے کی وجہ سے بلا مبالغہ اس انتخابی عمل میں براہ راست لاکھوں افراد شامل ہوئے اور مجموعی طور پر الیکشن کمیشن کی اتھارٹی بر قراراور کردار اس وقت کی مشرف کی حکومت کے شدید دبائو کے باوجود کافی حدتک کافی بہتر رہا۔2002ء میں پرویز مشرف کا ریفرنڈم تو تھا ہی ایک فراڈ جو سب کو نظر آرہا مگر 2002ء کے عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کا کردار کچھ اعتراضات کے باوجود بہتر رہا۔ سندھ میں 2005ء میں ہونے والے سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں ہمیں کم سے کم کراچی کی حد تک الیکشن کمیشن مفلوج نظر آیا اور نتائج کے حوالے سے 3دن تک شہر کی مئوثر جماعت متحدہ قومی موئومنٹ کے رہنماء اپنی پسند کے نتائج تیار کرتے رہےاور عملاً الیکشن کمیشن بے بس نظر آیا۔الیکشن کمیشن کی اس طرح کی بے بسی ہم نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔پھر 2008ء عام انتخابات ہوئے اوراس میں الیکشن کمیشن کا کردار کافی مثبت رہا۔ 2013ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے سنگین اعتراضات اٹھائے بالخصوص ریٹرننگ افسران (آر اوز) کے حوالے سے جو عدالتوں میں سے لیاگیا تھا اورعدالتی کمیشن نے بھی کئی نقائص کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ سفارشات بھی پیش کیں اور ان میں سے بہت سی سفارشات کوانتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء کا حصہ بنایاگیا۔
(2)انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء کی منظوری کے تقریباً فوری بعد ہی ملک میںعام انتخابات کی تیاری شروع کی گئی اورالیکشن کمیشن آف پاکستان بھی سرگرم نظر آیا مگر یہ دیکھنے میں آیا کیاکہ انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ءمیں الیکشن کمیشن کو جو اختیارات ملے تھے اس کے مطابق عمل نہیں ہو سکا اور کئی مواقع پر الیکشن کمیشن کی کمزوری نظر آئی حالانکہ اس میں کسی کا کوئی دبائو نہیں تھا یہ صرف انتظامی کمزوریاں تھیں مثلاًسینیٹ انتخابات میں کاغذات نامزدگی کے فارم کا اردو ترجمہ نہ ہونا اورفارم کی قلت وغیرہ شامل تھے۔
(3)الیکشن کمیشن آف پاکستان پر مشکل اس وقت آئی جب عدالتی فیصلے کے نتیجے میں مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں محمد نوازشریف پارٹی عہدے سے محروم ہوئے اور ن لیگ کے سینیٹ آف پاکستان کے لئے تمام امیدواروں کے ٹکٹ ختم ہوئے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موقع پر الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات تھے کہ وہ امیدواروں کو دوسرا ٹکٹ جمع کرانے کا موقع دیتا یا کم سے کم عدالت سے ریلیف حاصل کرتا کیونکہ سینیٹ آف پاکستان کے الیکشن کے لئے تقریباً 2 ہفتے باقی تھے مگر الیکشن کمیشن نے دوبارہ ٹکٹ جمع کرانے کے عمل مسترد کیا اور امیدواروں کو آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لینے کا موقع دیا۔ ن لیگ کا دعویٰ ہے کہ اس کی وجہ سے ان کو نقصان ہوا اورعدالتی فیصلے کے بعد بلوچستان میں ن لیگ کا ایک امیدوارپارٹی وفاداری تبدیل کرکے دوسرے گروپ سے جاملا اورپارٹی ٹکٹ کی منسوخی کے بعد ن لیگ ایسی پوزیشن میں نہیں تھی کہ وہ اس کے خلاف یا پارٹی پالیسی ہٹکر ووٹ کاسٹ کرنے والے ممبران کے خلاف کوئی کارروائی کرتی۔ مارچ 2017ء میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں یہ محسوس کیاگیاکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کسی مصلحت یادبائو کا شکار ہے۔
(4)سینیٹ آف پاکستان کے الیکشن کے بعد ن لیگ کے عدالتی فیصلے کے نتیجے میں ٹکٹ سے محروم ہوکر آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے15 ممبران سینیٹ نے الیکشن کمیشن درخواست دی کہ ہم ن لیگ میں شامل ہونا چاہتے ہیں مگرن لیگ کے مرکزی رہنماء سینیٹرمصدق ملک کے مطابق الیکشن کمیشن نے ان کی درخواست یہ کہکر مسترد کردی کہ یہ اختیارالیکشن کمیشن آف کے پاس نہیں ہے اور فیصلہ سینیٹ چئیرمین کریں گے اور ن لیگ کے یہ 15اور باقی آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے ممبران سینیٹ آف پاکستان میں آج بھی آزاد شمار ہوتے ہیں۔
(5)اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آگرسینیٹ آف پاکستان کے آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے ممبران کو کسی پارٹی میں شامل ہونے کا اختیار دینا یا اس کی شمولیت کے فیصلے کو قبول کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں تھا تو اب عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے 50سے زائد آزاد ممبران اسمبلی کی شمولیت کو قبول کرنے کا اختیار کہاں سے آیا؟ یہ ایک اہم سوال جو جواب طلب ہے۔
(6)مختلف جماعتوں کے مختلف مقدمات برسوں زیر سماعت رہنے کے باوجود کوئی واضح بات سامنے نہ آنا بھی الیکشن کیمشن کے کردارپرایک سوالیہ نشان ہے۔
(7)الیکشن کمیشن کا ایک امتحان نگراں وزرائے اعلیٰ کا انتخاب تھا اس مرحلے پر بھی بالخصوص پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا فیصلہ زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھا کیونکہ اس میں ایک ایسے فرد کا انتخاب کیا گیا جو متنازعہ تھا اور اس کی جانداری واضح تھی اور الیکشن کمیشن کے فیصلے پر مخالفیبن نے بعد میں شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا۔
(8)نگران حکومتوں کے قیام کے بعد الیکشن کمیشن کی اجازت سے عام انتخابات سے چند روز قبل تک جس طرح تبادلے اور تقرریاں کی گئی وہ بھی سوالیہ نشان تھیں۔ سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور محمد دلشاد کے مطابق اگست 1990میں بے نظیر بھٹو مرحومہ کی حکومت کی برطرفی کے بعد ایک رات میں اس وقت صدر غلام اسحاق خان مرحوم کے حکم سے ایک رات میں 1500سے زائد حکام کے تبادلے اور تقرریاں ہوئی تھیں اس کے بعد 2018ء میں پہلی بار الیکشن کمیشن کی اجازت سے اتنے بڑے پیمانے پراکھاڑ پچھاڑ کی گئی۔ الیکشن کمیشن کا یہ عمل بھی کئی حوالوں سے سوالیہ نشان ہے۔
(جاری ہے)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے