بارہ اکتوبر بغاوت کی چشم دید گواہی

مطیع اللہ جان

یقیناً یہ ایسا واقعہ تھا جو 12 اکتوبر1999ء کی نام نہاد ’’پرامن بغاوت‘‘ کو خونی بغاوت میں بدل سکتا تھا۔ ایک انگلی کی لرزش سے پاک فوج کے مسلح افسران و اہلکاروں کے علاوہ راقم سمیت پاکستان ٹیلی ویژن کے اس وقت کے چیئرمین سنیٹر پرویز رشید‘ چند پروڈیوسر حضرات اور تکنیکی عملے کے چند اراکین آج اس دنیا میں نہ ہوتے اور ہمارے سیاسی او رمذہبی علماء کو شہیدوں اور ’’واصل جہنم‘‘ ہونے والوں میں تفریق کرنا مشکل ہو جاتا۔
یہ سارا قصہ تھا ہی اتنا شرمناک کہ فوج کے سابق سربراہ اور 12 اکتوبر 1999ء کی بغاوت کے قائد جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کو بھی اپنی اکلوتی کتاب ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ میں اس کا تفصیلی ذکر کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس 5 منٹ کے دورانیے کے واقعے کے مذکورہ بالا گواہان اپنی اپنی وجوہات کے باعث اس قصے کو منظر عام پر نہیں لائے۔ میں خود بطور پی ٹی وی رپورٹر اس وقت تک کالم نویسوں کے ’’اہم عہدے‘‘ پر فائز نہ ہوا تھا۔ سینیٹر پرویز رشید صاحب اس رات زیر حراست ہو گئے اور بعد میں شاید یہ واقعہ بھول ہی گئے اور میرے سمیت پی ٹی وی کے دوسرے ملازمین صرف نجی گفتگو میں اس واقعے کو دہراتے رہے۔ اب پھر 12 اکتوبر آ رہا ہے اور میں 12 اکتوبر کے نام نہاد ’’پرامن بغاوت‘‘ کا پردہ چاک کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔
12 اکتوبر 1999ء کو شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے ایک اسائنمنٹ سے واپس لوٹا تو نیوز روم کی طرف جاتے ہوئے راہداری میں ہی چند ساتھیوں نے سرگوشی کے انداز میں پوچھنا شروع کر دیا ’’اب کیا ہو گا؟‘‘ میں اپنی لاعلمی پر حیران ہوا اور پوچھا ’’کیا ہوا؟‘‘ مگر کوئی بتانے کو تیار نہیں تھا۔ پھر ایک دوست نے بتایا کہ جنرل مشرف کو برطرف کر دیا گیا ہے اور اس کی خبر چند منٹ پہلے نشر کر دی گئی تھی۔ نیوز روم میں داخل ہوا تو چھ بجے کے انگریزی بلیٹن کی تیاری ہو رہی تھی۔ شائستہ زید خبریں پڑھنے کی ریہرسل کر رہی تھی‘ دھان پان جیسے نازک نیوز ایڈیٹر اویس بٹ گول نیوز ڈیسک کی مرکزی کرسی پر بیٹھے کسی بڑی اور بری خبر کے منتظر تھے۔ حسب عادت مذاق میں پوچھنے کی کوشش کی تو کوئی جواب نہ ملا۔ اتنے میں خبرنامے کے ان داتا اور ڈائریکٹر نیوز شکور طاہر صاحب تیز قدموں کے ساتھ میری ساتھ والی سیٹ پر آ بیٹھے اور اویس بٹ صاحب کو کچھ کاغذ تھما دئیے جو انہوں نے دیکھے بغیر ہی انگریزی بلیٹن کے کاغذوں میں شامل کر دئیے۔ محسوس ہوا کہ شائستہ زید جنہوں نے انگریزی کی خبریں پڑھنا تھیں ان کو بھی وہ خاص خبر ریہرسل کے لئے فوری طور پر نہیں دی گئی۔ نیوز ڈیسک پر کنٹرولر نیوز ایم زیڈ سہیل بھی موجود تھے۔ جو حسب عادت پریشانی کے عالم میں اپنے ڈائریکٹر نیوز کے چہرے پر نظریں جمائے تھے۔ اچانک نیوزروم کا دروازہ کھلا اور سب نے پیچھے مڑ کر یوں دیکھا جیسے چھاپہ پڑ گیا ہو۔ پاک فوج کا ایک باوردی میجر اپنی سب مشین گن تانے خبرنامہ ڈیسک کی جانب گیا اور پھر معلومات لے کر درست ہدف یعنی انگریزی ڈیسک پر آ پہنچا۔
"Who is Incharge”
(آپ کا نگران کون ہے؟) میجر نثار نے پوچھا کوئی جواب آنے سے پہلے ہی نیوز ایڈیٹر نے اپنے ہاتھ میں پکڑا انگریزی بلیٹن ڈیسک پر رکھ دیا۔ ایم زید سہیل صاحب نے کہا کہ یہ ہمارے ڈائریکٹر نیوز شکور طاہر ہیں۔ شکور طاہر صاحب نے حسب عادت انتہائی نرم لہجے میں پوچھا ’’جی فرمائیے‘ ناچیز کو شکور طاہرکہتے ہیں اور آپ کیا چاہتے ہیں؟‘‘ میجر نثار نے جواب
"The news about sacking of our Army cheif will not go on air. Am i clear?”
(ہمارے آرمی چیف کی برطرفی کی خبر نشر نہیں کی جائے گی۔ کیا میں واضح ہوں؟‘‘
’’آپ باقی تمام خبریں معمول کے مطابق چلائیں‘‘ میجر نثار نے تحکمانہ انداز میں کہا۔ ’’نیوز ایڈیٹر اویس بٹ نے ڈائریکٹر نیوز شکور طاہر صاحب کے چہرے کو پڑھ لیا وہ خبر نکال دینے کا کہا اور اویس بٹ نے وہ خبر نکال کر ہوا میں لہرائی اور کوڑا دان میں ڈال دی۔
میجر نثار نے یہ بھی پوچھا کہ یہ خبریں کون سے سٹوڈیو سے نشر کی جاتی ہیں‘ مجھے بتایا جائے؟ جس پر نیوز روم میں سے کوئی میجر نثار کو لے کر کنٹرول روم کی جانب روانہ ہو گیا۔ مگر اس سے پہلے میجر نثار کی سیدھی مشین گن دیکھ کر راقم نے اسے مشورہ دیا کہ یہ اپنا ملک ہے اور اپنے شہری براہ مہربانی گن کی نالی زمین کی جانب کر لیں۔کہیں گولی ہی نہ چل جائے۔ میجر نثار کو یہ بات پسند نہیں آئی اور اس نے نظر انداز کیا۔ اسی دوران ڈائریکٹر نیوز اپنی سیٹ سے اٹھ کر ہمارے پاس آئے اور مجھے کسی قسم کی بحث کرنے سے روک دیا۔ بہرحال میجر نثار کے کنٹرول روم روانہ ہونے کے بعد پی ٹی وی کا ایک ڈرائیور انگریزی نیوز ڈیسک کی طرف آیا اور کہا کہ وزیراعظم ہاؤس سے نئی ویڈیو آئی ہے۔ یہی تھی وہ ویڈیو جس کا سب کو انتظار تھا۔ اسی ویڈیو میں نوازشریف جنرل ضیاء الدین کو نئے آرمی چیف کے عہدے کے پھول لگا رہے تھے اور جنرل ضیاء الدین بطور آرمی چیف نواز شریف کو سیلوٹ کر رہے تھے۔ ڈائریکٹر نیوز نے پوچھا کہ وہ ویڈیو کدھر ہے۔ ڈرائیور نے بھی نیوز روم میں موجود مسلح سپاہی کو دیکھتے ہوئے اشارتاً اپنا ہاتھ اپنی بائیں جیب پر رکھ دیا۔ جس کے بعد ایک ساتھی پروڈیوسر اسے ایک سائڈ پر لے گیا۔ پھر شائستہ زید چھ بجنے سے چند منٹ پہلے نئے آرمی چیف کی خبر کے بغیر ہی سٹوڈیو روانہ ہو گئی۔ ہم سب کو یقین ہو گیا کہ فوج نے حکومت پر قبضہ کر لیا ہے اور فوجی بغاوت کامیاب ہو گئی ہے۔ کچھ دیر بعد جب میں نیوز روم سے باہر ڈائریکٹر نیوز کے کمرے کی جانب جا رہا تھا تو سامنے سیڑھیوں سے ایک انتہائی سمارٹ اور طویل القامت بریگیڈئر (بریگیڈئر جاوید ملک) جو یقینا وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری تھے ہاتھ میں پستول لہراتے اوپر کی جانب آتے دکھائی دئیے۔ مجھے دیکھتے ہی پوچھا کنٹرول روم کہاں ہے۔ مجھے تعجب ہوا مگر پھربات سمجھ میں آنا شروع ہوئی۔ میں نے انہیں صحیح راستے پر ڈالنے میں ہی غنیمت جانی اور ان کے ساتھ چل پڑا۔ کنٹرول روم میں مسلح میجر نثار اپنے دو مسلح سپاہیوں کے ساتھ سکرینوں پر نظر جمائے کھڑے تھے اور پینل پر بیٹھی خاتون  پروڈیوسرکے ہاتھ میں خبروں کے کاغذات چیک کر رہے تھے کہ کہیں جنرل مشرف کی برطرف کی خبر نہ چل جائے۔
بریگیڈئر جاوید ملک نے کنٹرول روم میں داخل ہوتے ہی چلا کر پکارا "Hey Major, I am Brigadier Javed Malik of Pakistan Army and i order you to disarm yourself and consider yourself under arrest”
(میجر ، میں پاک فوج کا بریگیڈئر جاوید ملک تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم ہتھیار پھینک دو اور اپنے آپ کو زیر حراست سمجھو)

(جاری ہے)

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے