بارہ اکتوبر بغاوت کی چشم دید گواہی

مطیع اللہ جان

دوسرا و آخری حصہ

سب سے خطرناک بات جس نے وہاں موجود ہم سب کے اوسان خطا کر دئیے یہ ہوئی کہ بریگیڈئر نے یہ حکم دیتے ہوئے اپنا پستول میجر نثار کی کنپٹی پر رکھ دیا اور دوسرے ہاتھ سے اسکی مشین گن کھینچنے کی کوشش کی۔ یہ دیکھتے ہی میجر نثار کے ساتھی دو مسلح سپاہیوں نے اپنی رائفلیں سیدھی کر لیں۔ میں نے ڈرتے ڈرتے دونوں آفیسران کو خدا کے واسطے دئیے کہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ صورتحال یہ تھی کہ بریگیڈئر انتہائی غصے میں اپنی انگلی کبھی پستول کے ٹریگر پر رکھ دیتا اور کبھی باہر نکال لیتا تھا۔ اور نالی میجر کی کنپٹی کے قریب جبکہ کہنی میجر کی چھاتی پر رکھی تھی۔ دوسری طرف میجر نثار نے اپنی سب مشین گن سیدھی کر کے بریگیڈئر صاحب کے پیٹ پر رکھی تھی جسے بریگیڈئر صاحب چھیننے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں چلا کر مسلح سپاہیوں کو بھی سمجھا رہا تھا کہ خدارا تحمل کریں۔ کوئی کچھ نہ کرے۔ یہ وہ وقت تھا جب شائستہ زید انگریزی کے سٹوڈیو کے اندر سے کھیلوں کی خبریں پڑھ رہی تھی۔ اسی اثناءمیں وزیراعظم ہا¶س کی سیکیورٹی یعنی سپیشل برانچ کے کالی جیکٹوں اور سفید شلوار قمیض میں ملبوس اہلکار بھی پہنچ گئے اور انہوں نے میجر نثار کو دائیں بائیں سے دبوچ لیا۔ کچھ لمحے اپنی بائیں جانب دیکھا تو سینیٹر پرویز رشید بھی کھڑے تھے جو بریگیڈئر جاوید ملک کی پشت پر تھے۔ بریگیڈئر جاوید ملک کے احکامات کے جواب میں میجر نثار نے واضح طور پر چند باتیں کیں۔ "Sir, I am not under your command”
(سر‘ میں آپ کے زیر کمان نہیں)
"Sir, I am not supposed to be taking instructions from you”
(سر‘ میں آپ سے ہدایت لینے کا مجاز نہیں)
"Sir, please talk to my superior officers, my immediate boss in tripple one brigade”
(سر‘ آپ ٹرپل ون بریگیڈ میں میرے اعلیٰ افسران سے بات کریں)
یہ کہتے ہوتے ہوئے میجر نثار نے اپنا وائرلیس سیٹ کا ریسیور بریگیڈئر کی طرف بڑھا دیا مگر بریگیڈئر جاوید نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی شور شرابے کے دوران سینیٹر پرویز رشید بھی میجر نثار کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ بطور ایک کورٹ رپورٹر آئین کا آرٹیکل چھ فوری طور پر میرے ذہن میں آیا اور سینیٹر پرویز رشید کے گوش گزار کیا جنہوں نے وہی بات میجر نثار کے لئے بھی دوہرائی مگر اس وقت تو سب کو آرٹیکل 9 یعنی زندہ رہنے کے بنیادی حق کی پڑی تھی۔ اچانک وزیراعظم ہاوس کی سیکیورٹی کے عملے کے معروف شخصیت حاجی صدیق نے میجر نثار کے کاندھے سے مشین گن کی پٹی اتار کر گن چھین لی جس پر میجر نثارنے مزاحمت کی تو ان کے مسلح سپاہیوں نے بھی للکار کر گنیں سیدھی کرلیں۔ ”جوانو! گنیں نیچے کرلو“ بریگیڈئر جاوید نے جواباً للکارا۔ میں نے چلا کر کہا کہ میجر نثار نے از خود ہی مشین گن حوالے کی ہے۔ (یقیناً یہ درست نہیں تھا)
بریگیڈئر کے حکم پر وزیراعظم ہاؤس کے سیکیورٹی اہلکاروں نے دونوں مسلح سپاہیوں سے بمشکل بندوقیں لے لیں۔ میجر نثار کو شفٹ انچارج کے کمرے میں نظر بند کیا گیا جبکہ مسلح سپاہیوں کو ساتھ ہی ایک سٹوڈیو میں بھیج دیا گیا۔ کسی نے آواز لگائی کہ میجر صاحب اور جوانوں کو چائے پیش کی جائے۔ بریگیڈئر صاحب نے فوراً بعد میں اس خبر اور ویڈیو فلم کو چلانے کا حکم دیا جو میجر نثار کے حکم پر روک دی گئی تھی۔ خبر تو شاید شائستہ زید نے پڑھ دی مگر اس کے بعد وہ ویڈیو فلم بھی فوراً خصوصی بلیٹن کے طور پر چلائی گئی۔
بظاہر فوجی بغاوت ناکام ہو چکی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ شاید ایک تاریخ بن چکی ہے کہ پہلی بارکوئی بغاوت ناکام ہوگئی ہے۔ مگر یقیناً یہ ایک ”خوش فہمی“ تھی ویڈیو فلم چلائے جانے کے بعد بریگیڈئر صاحب واپس ہوئے تو ان کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس کی سیکورٹی کے عملے کے لوگوں نے راستے میں کھڑے ایس ایس جی کے ایک فوجی کمانڈو سے بھی اس کا ہتھیار چھیننے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ پھر یہ طے ہوا کہ کمانڈو صاحب اپنی جگہ پر رہیں گے اور کوئی کارروائی نہیں کرینگے۔ بریگیڈئر جاوید کے سیڑھیاں اترنے کے کچھ دیر بعد ہی ایس ایس پی پرویز راٹھور اپنے چشمے سیدھے کرتے ہوئے نظر آئے اور پوچھا ”باہر جانے کا راستہ کہاں ہے ؟“ میں نے مرکزی راستے کابتایا تو کہنے لگے کوئی اور راستہ بتائیں جس پر میں نے انہیں راہداری کے اختتام پر ایک کھڑکی کے راستے باہر جانے کا مشورہ دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر کی طرف جانیوالے عقبی راستے سے نکل گئے تھے۔ میں نیوز روم پہنچا اور خبر دی کہ بغاوت ناکام ہو گئی۔ اچانک ہی کھڑکی کے پاس کھڑے پروڈیوسر مجدد شیخ نے ہنستے ہوئے اطلاع دی کہ ”اصلی والے فوجی آ گئے ہیں“ کھڑکی کے باہر سے فوجی پلٹون کے دھمکتے قدموں کی آواز آ رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں ہی میجر نثار مزید فوجیوں کے ساتھ نیوز روم میں داخل ہوئے اور ایک بار پھر سب کو اپنی اپنی جگہ (یعنی اوقات) میں رہنے کا حکم دیا۔ پھرکسی سے ٹرانسمیشن بند کرنے والی جگہ کا پوچھ کر نیوز روم سے روانہ ہو گئے۔ رات آٹھ بجے کے قریب آئی ایس پی آر سے بریگیڈئر صولت عباس اور کرنل منصور پہنچ گئے اور تعلقات عامہ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ ٹی وی ٹرانسمیشن بند کر دی گئی۔ تاریخ میں پہلی بار خبرنامہ نشر نہ ہو سکا اور بعد میں جنرل مشرف کا خطاب ہوا اور صبح چار بجے بروز 13 اکتوبر ہم سب کو پی ٹی وی سے باہر جانے کی اجازت ملی۔ 12 اکتوبر پوری دنیا کیلئے ایک ”پرامن بغاوت“ ہو گی مگر ایک انگلی کی لغزش سے کچھ بھی ہو سکتا تھا اور خدانخواستہ کچھ ہو جاتا تو پھر بھی حقائق شاید کبھی سامنے نہ آ پاتے۔ کیا ہم آج تک پوشیدہ رہنے والے اس واقعے سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ اور کیا آئندہ کوئی فوجی بغاوت (خدانخواستہ اگر ہوئی) پرامن ہو گی؟ یہ وقت ہی بتائے گا۔(ختم شد)

متعلقہ مضامین