چیف جسٹس وکیل پر آگ بگولہ

جعلی بنک اکاؤنٹس کیس میں چیف جسٹس نے پوچھا کہ اومنی گروپ کے مالک انور مجید کدھر ہیں؟ اومنی گروپ کے مالک ذاتی حیثیت میں پیش ہوں ۔ وکیل رضا کاظم نے بتایا کہ انور مجید بیمار ہیں وہ دبئی کے اسپتال میں داخل ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب بھی ایسا مقدمہ آتا ہے لوگ ہسپتال چلے جاتے ہیں، انور مجید سے کہیں آئندہ ہفتے پیش ہوں، عدالت انور مجید کو بلانے کا اختیار رکھتی ہے، اومنی گروپ کی کتنی کمپنیز ہیں، اومنی گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں کون ہیں، انور مجید کو آئندہ سماعت میں کمرہ عدالت میں ہونا چاہئے۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ اومنی گروپ نے 2 ارب 82 لاکھ روپے مختلف بنک اکاؤنٹس میں جمع کرائے ۔ ایڈووکیٹ رضا کاظم نے بتایا کہ 5 سال سے انور مجید کا اومنی گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے، اومنی گروپ کو 19 لوگ چلا رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کروکس (بدمعاش/چور) کو ہر کوئی اس کے نام سے جانتا ہے، انور مجید کو عدالت میں دیکھنا چاہتے ہیں، کب آئیں گے، ابھی معلوم کر کے بتایا جائے، اس کے بیٹے بھائی کون ہیں؟ ۔ ایک وکیل نے عدالت کو بتایا گیا کہ عبدالولی مجید بیٹا ہے او ملک سے باہر ہے، علی کمال، ذوالقرنین مجید، نمر مجید بھی بیٹے ہیں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ جواب ملا کہ معاون وکیل ہوں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کو وکالت نامے کس نے دیئے؟ کس کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں؟ ۔ چیف جسٹس نے اسٹاف کو حکم دیا کہ ان کے وکالت نامے چیک کریں، رضا کاظم کا وکالت نامہ بھی دیکھیں ۔ سخت غصے میں آگ بگولہ چیف جسٹس بولے کہ حد ہو گئی ہے ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ سپریم کورٹ کے وکیل ہیں؟ ۔  پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل نے بتایا کہ میرا نام بیرسٹر جمشید ملک ہے اور سپریم کورٹ کا وکیل ہوں، دو لوگوں نے میرے سامنے وکالت نامے پر دستخط کئے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کا ایڈووکیٹ آن رکارڈ کون ہے، آپ کے پاس کمپنی کی اتھارٹی کہاں ہے؟ آپ امپرسونیٹ (جعل سازی/نقالی/دھوکا) کر رہے ہیں، معلوم ہے قانون میں اس کی کیا سزا ہے؟ وکیل صاحب، کہیں اپنا لائسنس نہ گنوا دینا ۔ بیرسٹر جمشید ملک نے کہا کہ وہ نہیں ہوگا سر ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کون ہے، ارشد چودھری ہے تو اس کو وکالت نامہ کس نے دیا؟ پاور آف اٹارنی کے بغیر کیسے وکالت نامے جمع کرائے، کیا بڑے لوگوں کیلئے قانون مختلف ہے ۔ چیف جسٹس نے اسٹاف سے کہا کہ پولیس کو بلائیں ان کے خلاف پرچہ درج کرائیں، رجسٹرار کو بھی بلا لیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق بیرسٹر جمشید نے کہا کہ میں نے کوئی ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہائر نہیں کیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بغیر کسی عدالتی ایڈوکیٹ آن رکارڈ کے یہاں کیسے آ گئے ۔ وکیل نے بتایا کہ انور مجید اور عبدالحلیم کی طرف سے آیا ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ وہ تو پاکستان سے باہر تھے ۔ جمشید ملک نے بتایا کہ تین دن پہلے ان سے وکالت نامے پر دستخط لئے تھے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اپنا پاسپورٹ لاؤ، ابھی دیکھ لیتے ہیں ۔ جمشید ملک نے جواب دیا کہ وہ ہوٹل کے کمرے میں ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی جا کر لاؤ ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وکیل رضا کاظم اسی کیس میں ایک ماہ قبل پیش ہوئے تھے، اگر موکل سے ملے بھی نہیں تو کیسے وکیل بن کر پیش ہو گئے؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رضا، آپ کو پتہ ہے، آپ ملک کے سینئر ترین وکیل ہیں، کیا گزشتہ سماعت پر بھی بغیر کسی وکالت نامے کے پیش ہو گئے تھے؟ آپ نے عدالت کو بتایا تھا کہ آپ کے پاس کوئی تحریری اتھارٹی نہیں ۔ چیف جسٹس نے بیرسٹر جمشید ملک سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس عدالت میں پیش ہونے کے قانون کا پتہ ہے؟ وکیل نے کہا کہ ای میل کے ذریعے وکالت نامے بھیج دیئے تھے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے خلاف پرچہ کراؤں گا، عدالت کو دھوکا دیا گیا ۔ وکیل نے کہا کہ عدالت اور چیف جسٹس تو کیا میں نے کسی کو بھی دھوکا نہیں دیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رضا کاظم کا ہم احترام کرتے ہیں مگر اس طرح نہیں کرنے دیں گے ۔ وکیل جمشید ملک نے کہا کہ بارہ جولائی عدالت نے نوٹس کیا تھا تو انور مجید نے مجھ سے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کا وکیل کر لوں، میں نے پہلے اعتزاز احسن سے بھی رابطہ کیا تھا، پھر رضا کاظم سے بات کی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو دھوکہ دینے کی اجازت نہیں دیں گے، چیٹنگ برداشت نہیں کریں گے ۔ جمشید ملک نے کہا کہ میں نے صرف اپنے موکل کے پیغام پہنچانے کا کام کیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیس فائل میں بتائیں پاور آف اٹارنی کہاں لگی ہوئی ہے ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ وہ دستاویزات دکھائیں جن پر آپ کی آنکھوں کے سامنے آپ کے موکل نے دستخط کیے، اپنے موکل کے دستخط شدہ دستاویزات دکھائیں جو آپ نے وکیل کے حوالے کیے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایک وقت میں دو مختلف بیانات دے رہے ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے کہہ رہے تھی کہ میرے سامنے دستخط کئے، اب کہہ رہے ہیں کہ ای میل کے ذریعے وکالت نامے آئے، میں ابھی اس کا لائسنس معطل کرتا ہوں، اس کے خلاف کیس درج کرائیں گے ۔

اسی دوران کئی پولیس اہلکار ہتھکڑیاں لٹکائے عدالت میں داخل ہوئے ۔ ایک نے رپورٹر سے پوچھا کہ کس کی گرفتاری ہونی ہے؟۔ اسی دوران سپریم کورٹ کے رجسٹرار ارباب عارف بھی کمرہ عدالت میں داخل ہوگئے ۔ بیرسٹر جمشید ملک نے میں کسی کی طرف سے پیش نہیں ہو رہا، یہاں سینئر وکیل کی معاونت کیلئے آیا ہوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں آپ کا وکالت کا بنیادی لائسنس بھی معطل کر سکتا ہوں، میرے پاس اتھارٹی ہے ۔ عدالت میں ایک اور سینئر وکیل خالد رانجھا کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہم مؤکل اور ایڈووکیٹ آن رکارڈ سے اسی طرح معاملات کرتے ہیں، ہم تو سفید کاغذات پر دستخط کرا لیتے ہیں ۔

سخت غصے کی کیفیت میں چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بات دہرائیں ہم ریکارڈ کر لیتے ہیں، یہ بدقسمتی ہے کہ خالد رانجھا جیسا وکیل یہ کہہ رہا ہے، جب میں وکیل تھا اس وقت تو ایسا نہیں ہوتا تھا، ہو سکتا ہے اب یہ نیا طریقہ آ گیا ہو ۔ ایک وکیل کے پیچھے چھپ جائیں اور دوسرے کیلئے کوئی اور آڑ لے لیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ برخوردار کسی زعم میں نہ رہنا ۔ وکیل جمشید ملک نے کہا کہ مجھے اب تک یہ سمجھ نہیں آرہی کہ میرا قصور کیا ہے، کہاں غلط بیانی کی، ان کو وکیل کرنے کا فیصلہ میری خواہش نہ تھی، بغیر کسی جرم کے مجھے کیوں مائیکرو اسکوپ کے نیچے رکھا گیا؟ ۔

اعتزاز احسن عدالت میں کھڑے ہوئے اور بتایا کہ جمشید ملک درست کہہ رہے ہیں، مجھے بھی ان کا فون آیا تھا کہ انور مجید کی طرف سے وکالت کریں، جمشید ملک کا کام صرف پیغام پہنچانا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وکالت نامے ضروری ہیں، ایڈوکیٹ آن رکارڈ کو جو دستاویز دی اس کی پنجاب فرانزک لیبارٹری سے تصدیق کرا لیں گے ۔ رضاکاظم اور ایڈووکیٹ خالد رانجھا مل بیٹھ کر یہ معاملہ سلجھائیں ۔

متعلقہ مضامین