پیاری بنانا ریاست کو خط

اظہر سید
کیسی ہو! ہمارے ہاں سب اچھا نہیں ، وہی ہمیشہ کا پروپیگنڈہ ۔آج زرداری کو دھمکایا تو ہے نواز شریف والی جی آئی ٹی بنانے کی دھمکی دے کر ۔اگر تو مان گیا تو ٹھیک ورنہ محنت کچھ زیادہ کرنا پڑے گی۔ یہ پیٹریاٹ والوں کو بھول گیا ہے شائد اس وقت تو بی بی بھی زندہ تھی ۔دس پندرہ اس کے اور بیس پچیس ن لیگ کے حکومت تو بنوا ہی دیں گے لیکن اس کا کیا بنے گا عقل کو ہاتھ ڈالے حمایت کا اعلان کر دے تاکہ نئی حکومت بن سکے ورنہ بنوا تو ہم لیں گے۔ یہ بھول رہا ہے میڈیائی اثاثوں کو، ان کا کاٹا تو پانی نہیں مانگتا ۔دیکھا نہیں الیکشن سے دو روز پہلے کیسے نواز شریف کے خلاف این آر او اور مودی کا یار کی کامیاب مہم چلائی اور پھر الیکشن کمیشن کا سسٹم کس طرح بند ہوا۔شکر نہیں کرتا احسان فراموش، جی ڈی اے سے بال بال بچا ہے اور بچا بھی کہاں ہے ہم نے رحم کیا ہے ۔
کیوں بھول جاتا ہے کیا سینٹ الیکشن میں بلوچستان، خیبر پختون خواہ اور کراچی سے اضافی سیٹیں لے سکتا تھا ؟ کیا کسی نے نوٹس لیا ،کوئی سو موٹو ہوا ؟ جب تک ہم نہ چاہیں کوئی پتہ نہیں ہل سکتا جتنا جلد سمجھ جائے اس کیلئے بہتر ہے ملکی مفادات کا ہم سے اچھا کوئی محافظ ہو ہی نہیں سکتا ۔ہم ہیں تو پیاری بنانا ریاست تم ہو اور تم میں رہنے والے سکون کی نیند سوتے ہیں ۔
پیاری انہیں خوف کھانا چاہے۔ بھٹو کی پھانسی بھول گئے کیسے ججوں نے حکم دیا تھا۔ زرداری جو خود کو مرد حر کہتا ہے وہ بھی ہمارا احسان ہے ہمارے کہنے پر عدالتوں نے گیارہ سال جیل میں رکھا اور ضمانت نہیں دی اگر ضمانت مل جاتی تو کون مرد حر کہتا۔ابھی کل ہی کی بات ہے الیکشن سے پہلے منی لانڈرنگ پر گرفتاری ہونے والی تھی کیسے عظمی سے کلین چٹ لے کردی تھی آرام سے الیکشن لڑا پچھلے الیکشن سے زیادہ سیٹیں بھی دلا دیں ۔احسان فراموش کہیں کا۔اب نخرے کر رہا ہے اور نئے وزیراعظم کیلئے ہمارے نئے فخر کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے ۔اس کی یہ جرات کیا یہ ہماری بے پناہ طاقت سے واقف نہیں ۔ابھی تو جے آئی ٹی کی صرف دھکمی ملی ہے کل بن بھی جائے گی پھر کیا کرے گا۔
ہم عقل کل ہیں اس ریاست کے سمندر بھی ہمارے اور فضائیں بھی زمین کے اوپر بھی کوئی ہمارا مدمقابل نہیں ۔جسٹس منیر بھی ہمارا تھا اور مولوی مشتاق انوارالحق بھی ہمارا۔جسٹس ارشاد تو اتنا اچھا تھا تین سال آئیں میں ترمیم کا حق بھی دے دیا تھا۔افتخار چوہدری کو دیکھا نہیں کیسے بھاگ کر ہمارے پی سی او کا حلف لیا تھا۔یہ سب ہمارے ہیں آج موقع دیں تو پھر قطار میں کھڑے ہونگے حلف لینے کیلئے۔ جسٹس افتخار نے بغاوت نہیں کی تھی بعد میں اصل میں اندر کا آپسی جھگڑا تھا ورنہ ہے کیسی کی طاقت اور مجال ہمیں آنکھیں دکھا سکے ۔
پیاری کچھ مشکلات بھی ہیں تمہیں پتہ ہے تم سے کبھی کچھ نہیں چھپایا ۔کامیاب تو کرا لیا لیکن بدنامی بھی خوب ہوئی خیر اس سے فرق تو کوئی نہیں پڑتا لیکن پھر بھی بدنامی تو بدنامی ہی ہے۔میڈیائی اثاثوں کے باوجود نگوڑے سوشل میڈیا نے ناک میں دم کر رکھا ہے۔الیکشن کمیشن نے کاغذات جمع کرانے کی تاریخ میں ایک دن کی توسیع کی بہت سارے لوگوں نے ٹکٹ واپس کر کے جیپ کا نشان لے لیا ۔اندر تو اندر باہر والے بھی جان گئے پردے کے پیچھے کون تھا۔حنیف عباسی کا فیصلہ الیکشن سے پہلے کرنے کا حکم کیا دیا سب کی انگلیاں ہماری طرف آٹھ گئیں ۔توہین عدالت میں تین دانے فارغ کرائے سارے مل کر ہماری طرف دیکھنے لگے۔
پیاری ہم تم پر جانیں قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ہمارے ایوب نے اگر فاطمہ جناح کو بھارت کا دوست کہا تھا تو وقت کی ضرورت تھی۔آخر گیارہ سال حکومت میں بھارت کو تین دریا بھی تو دئے اور بدلے میں ڈیم بنائے ۔بھارت چین 1962 جنگ میں چینیوں کے کہنے پر بھی کشمیر نہیں لیا اور 1965 میں کوشش کی ۔امریکیوں کو ملک کے بہترین مفاد میں بڈ بیر کا ہوائی اڈہ بھی تو دیا ۔
ہمارے جنرل یحیی نے کتنے شفاف الیکشن کرائے تھے ۔
ہمارے جنرل ضیا نے کس طرح بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گیارہ سال حکومت کی ۔سوویت یونین کو ختم کر دیا۔ ہمارے جنرل مشرف نے کس طرح 11 سال ملک کی خدمت کی اور امریکیوں کا معاشی بھٹہ بٹھا دیا کوئی دن جاتا ہے امریکی جنرل بھی سوویت جنرلوں کی طرح سڑکوں پر میڈل فروخت کرتے نظر آئیں گے۔ہم اتنے اچھے ہیں تو زرداری ماں کیوں نہیں جاتا۔نواز شریف بھی عجیب نکلا ڈیل ہو جاتی تو شہباز شریف وزیراعظم ہوتا ۔کہتا تھا ووٹ کو عزت دو ۔اس نے ہمیں بہت بدنام کرایا ہے ۔اس کی ضد کی وجہ سے اداروں کا تقدس بھی متاثر ہوا ہے کوئی عدالتوں پر طعن زنی کرتا ہے کوئی الیکشن کمیشن پر اور کوئی خلائی مخلوق کا نام لیتا ہے ہم کوئی احمق ہیں جو جانتےنہیں خلائی مخلوق کون ہے ۔پیاری دل پریشان ہے ایک نواز شریف جیل میں بیٹھ کر مسلہ بن گیا ہے دوسرا زرداری بھاگنے کے چکر میں ہے تم ہی بتاؤ ہم کیا کریں ۔
صرف تمہارا
اظہر سید

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے