سولہ حلقوں کے نوٹی فیکشن روک دیئے

الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے کامیاب امیدواروں کے نوٹی فیکیشن جاری کر دئیے ہیں، کل 871 امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفیکیشن جاری کئے گئے ہیں ۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے پانچ میں سے دو قومی اسمبلی کے حلقوں سے کامیابی کے نوٹی فیکیشن روکے گئے جبکہ تین حلقوں سے کامیابی کے مشروط نوٹی فیکیشن جاری کئے ہیں ۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ تین حلقوں سے کامیابی عدالتی فیصلوں سے مشروط ہے ۔

قومی اسمبلی کے سولہ حلقوں کے نوٹی فیکیشن روکے گئے ہیں جن میں دو عمران خان کے حلقے ہیں۔ پرویز خٹک اور ایاز صادق کے بھی مشروط نوٹی فیکیشن جاری کئے گئے ہیں ۔

این اے 35 بنوں سے عمران خان، این اے 53 عمران خان، این اے 60 پر الیکشن نہ ہو سکا، این اے 90 سرگودھا نادیہ عزیز کا معاملہ آر او کے پاس ہے، این اے 91 سرگودھا سے چودھری عامر چیمہ کے کیس بھی آر او کے پاس ہے ۔ این اے 95 پر عمران خان کا مشروط نوٹی فیکیشن جاری کیا گیا جبکہ این اے 103 پر الیکشن نہ ہو سکا ۔ این اے 108 کا نوٹی فیکیشن لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر روکا گیا یہاں عابد شیر علی نے تحریک انصاف کے فرخ حبیب کی کامیابی کو چیلنج کیا ہے۔

این اے 112 ٹوبہ ٹیک سنگھ سے محمد اشفاق کا نوٹی فیکیشن روکا گیا ہے ۔ این اے 129 سے ایاز صادق کا مشروط نوٹی فیکیشن جاری کیا گیا جبکہ این اے 131 سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹی فیکیشن ٓروکا  گیا ہے ۔ این اے 140 قصور محمد حیات خان کا نوٹی فیکیشن روکا گیا ہے جبکہ این اے 215 سانگھڑ سے حاجی خدا بخش کی کامیابی کا نوٹی فیکیشن روکا گیا ہے ۔ این اے 243 کراچی سے عمران خان کی کامیابی کا مشروط نوٹی فیکیشن جاری کیا گیا ہے ۔ این اے 271 سے کامیاب امیدوار کا نوٹی فیکیشن اخراجات کی تفصیل جمع نہ کرانے پر روکا گیا ہے ۔

پنجاب اسمبلی کے سات حلقوں، سندھ کے چھ حلقوں اور خیبر پختون خوا کے پانچ حلقوں کے نوٹی فیکیشن روکے گئے ہیں تاہم پرویز خٹک کو صوبائی کے دو حلقوں سے مشروط کامیاب قرار دیا گیا ہے ۔ اسی طرح بلوچستان اسمبلی کے چار حلقوں کے نوٹی فیکیشن روکے گئے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے