الیکشن دھاندلی کے خلاف احتجاج

عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ملک کی سات سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا ہے ۔ اسلام آباد میں یہ احتجاج الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر کے سامنے شاہراہ دستور پر کیا گیا ۔

الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کی قیادت مولانا فضل الرحمان نے کی ۔ ن کے راجا ظفر الحق اور سعد رفیق بھی شامل تھے جبکہ پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی اور شیری رحمان کے علاوہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی بھی احتجاج میں شریک ہوئے ۔ احتجاج میں شرکت کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کے ایک بڑا قافلہ پشاور سے اسلام آباد پہنچا جس کی قیادت غلام احمد بلور اور میاں افتخار حیسن کر رہے تھے ۔

پشاور، مردان، ڈیرہ اسماعیل خان، سکھر اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے سخت لب و لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ احتجاج جاری رکھا جائے گا اور ہم دھاندلی کو اس طرح ہضم نہیں کرنے دیں گے ۔

سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے الیکشن کمیشن پاکستان کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والے انتخابات صاف، شفاف نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن تمام دھاندلی زدہ الیکشنز کی ماں ہیں اور پاکستان کی تمام پارٹیاں ان انتخابات کو نہیں مانتی اور تمام مظاہرین سراپا احتجاج ہیں۔ دنیا کو سمجھ آگئی ہے کہ یہ فری اینڈ فئیر الیکشن نہیں تھے ۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن انتقامی سیاست کو مسترد کرتی ہے اور نیب کے ذریعے ہمارے خلاف جو انتقامی کارروائی جاری ہے ہم اسے بھی مسترد کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم عوام کے ووٹ کی عزت کو بحال کریں گے ۔

متعلقہ مضامین