چائے فروش یا کروڑ پتی؟

صحافیوں میں رپورٹرز کو بنیادی مرتبہ یا حیثیت حاصل ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر رپورٹر لاتا ہے جس کو بعد ازاں تصاویر، ویڈیوز اور مختلف قسم کے گرافکس کے سرخی پاؤڈر لگائے جاتے ہیں ۔ کاپی ایڈیٹرز خبرنگار کی لائی گئی خام معلومات کو خوبصورت الفاظ کا جامہ پہناتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ صحافی کا مطلب رپورٹر ہی لیا جاتا ہے اور اگر رپورٹر کوئی غلطی کر لے تو اس کو درست کرنے کا وقت شائع یا نشر ہونے سے پہلے ہوتا بعد میں ‘تباہی کو کنٹرول’ کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔

تازہ ترین مثال جیو نیوز پر گزشتہ روز نشر ہونے والی خبر کی ہے ۔ راولپنڈی سے چلنے والی اس خبر کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقے این اے 41 باجوڑ سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے گل ظفر خان دراصل چائے فروش ہیں اور اندرون راولپنڈی ہوٹل پر چائے بناتے تھے ۔

اس کے بعد جیو نیوز کے پشاور کے رپورٹر نے خبر دی کہ ‘چائے فروش’ گل ظفر خان دراصل کروڑ پتی ہیں ۔ اب ان دوںوں خبروں کو لے کر سوشل میڈیا کے تبصرہ و تجزیہ کاروں سے لے کر سوشل میڈیا کے جہادیوں تک ہر کوئی تحریک انصاف کی تبدیلی پر لٹھ لے کر دوڑ پڑا ہے ۔

واٹس ایپ گروپوں میں بعض ‘جید تجزیہ کار’ گل ظفر خان کو سابق طالبانی اور نیا بھگوڑا قرار دے کر کہہ رہے ہیں کہ اس نے دولت طالبان کی مخبری کر کے کمائی ۔

یہ سب لپا ڈگی اس لئے ہے کہ  ابھی تک معلوم نہیں ہے کیا گل ظفر خان واقعی کوئی چائے فروش تھا یا بس اس سے اداکاری کرائی گئی ۔ اگر وہ چائے فروش تھا تو کب تھا؟ اور اگر کروڑ پتی ہے تو کب اور کیسے بنا؟

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے گل ظفر خان نے باجوڑ میں شہاب الدین خان اور اخوانزادہ چٹان کو شکست دے کر نشست حاصل کی ہے ۔

ابن خان

متعلقہ مضامین