نندی پور کرپشن میں وزارت قانون ذمہ دار

قومی احتساب بیورو نیب نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ نندی پور پاور پلانٹ کی تنصیب میں تاخیر سے قومی خزانے کو نقصان اس وقت کے وزارت قاںون کے حکام نے پہنچایا اور کرپشن کے اس کیس میں وزارت قانون کے اعلیٰ حکام اور افسران ملوث ہیں ۔

اس سے قبل جوڈیشل کمیشن نے بھی نندی پور پاور پلانٹ پر اسی طرح کی رپورٹ دی تھی ۔ اب نندی پور پاور پلانٹ کرپشن کیس میں نیب نے سپریم کورٹ میں عبوری رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں سامنے لائے گئے حقائق کا اعادہ کیا گیا ہے ۔

نیب کی عبوری رپورٹ کے مطابق نندی پور منصوبے کا ریکارڈ مل گیا ہے، اس وقت کے وزارت قانون کے اعلیٰ حکام اور افسران کرپشن اور اقدام کرپشن کے مرتکب ہوئے۔ وزارت قانون کی ہی وجہ سے منصوبے پر عملدر آمد میں دو سال کی تاخیر ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق وزارت قانون کے حکام اپنی قانونی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارت پانی و بجلی اور وزارت خزانہ کے بارہا رابطہ کرنے کے باوجود وزارت قانون نے معاملہ پر قانونی رائے نہیں دی،  وزارت قانون نے 4 مارچ کو وزارت خزانہ اور پانی و بجلی کو منصوبے سے متعلق فیصلوں کا اختیار دیا، تاہم بعد ازاں پیچھے ہٹ گئی، ان اختلافات کے سبب منصوبے کی لاگت 27 ارب تیس کروڑ تک بڑھ گئی، اسکینڈل میں ملوث ملزمان اور گواہان کے بیان ریکارڈ کیے جا رہے ہیں ۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما الزام لگاتے رہے ہیں کہ تاخیر کے ذمہ دار اس وقت کے وزیر قانون بابر اعوان تھے اور جوڈیشل کمیشن رپورٹ میں بھی ان کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔

متعلقہ مضامین