دھاندلی کا اہم ثبوت

الیکشن کمیشن کے اپنے ہی ریکارڈ سے عام انتخابات میں کی گئی دھاندلی کے ثبوت سامنے آ رہے ہیں ۔ مسلم لیگ ن او رپیپلز پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں الیکشن2018 میں بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کے تحت دھاندلی کے الزامات عائد کر رہی ہیں اور الیکشن نتائج میں دھاندلی کا ایک کے بعد ایک ٹھوس ثبوت سامنے آ رہا ہے۔ایک رپورٹ میں انکشاف ہو اہے کہ الیکشن2018 کے90فیصد سے زائد فارم45 پر پولنگ ایجنٹوں کے دستخط نہیں ہیں۔

الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کردہ 90فیصد سے زائد فارم 45پر پولنگ ایجنٹوں کے دستخط نہیں ہیں، انتخابات پر نظر رکھنے والے مبصریں کا کہنا ہے کہ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ 2018کے انتخابات کے نتائج مشتبہ ہوگئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان اس بات کا اقرار کرچکے ہیں کہ پولنگ ایجنٹوں نے بہت سے فارم 45پر دستخط نہیں کیے ہیں، تاہم ان کے مطابق یہ فارم 45کی ضروریات میں شامل نہیں ہے کیوں کہ اس میں پولنگ ایجنٹوں کے دستخطوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔دوسری طرف قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 90(12)کے مطابق یہ واضح ہے کہ پریذائڈنگ افسر فارم پر پولنگ ایجنٹ کےدستخط لے گا ۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھر سے 12ہزار پولنگ اسٹیشنوں کے فارم 45کا تجزیہ کیا ہے، تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جاسکے کہ ان فارمز پر پولنگ ایجنٹوں کے دستخط ہیں یا نہیں۔ اس تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کوئی حلقہ ایسا نہیں ہے جہاں 10فیصد فارم 45پر پولنگ ایجنٹوں نے دستخط کیے ہوں۔

متعلقہ مضامین