پنجاب کو تحریک انصاف کا قلعہ بنانے کا کلیہ

25 جولائی 2018 کے یوم انتخاب سے قبل جو منصوبے بنائے گئے تھے ان کے مطابق پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ مخدوم شاہ محمود قریشی کے حصے میں آنا تھی۔صوبائی اسمبلی کے لئے ملتان سے انہوں نے اپنے لئے جو حلقہ چنا وہاں سے تحریک انصاف ہی کے ایک متحرک نوجوان مگر”آزاد“ ہوکر ان کے مقابلے میں ڈٹ گئے۔گیم پلٹ گئی اور اب عمران خان کو اٹک سے رحیم یار خان تک پھیلے پاکستان کے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے میں خیبرپختون نخواہ جیسی ”گڈگورننس“ متعارف کروانے کے لئے کسی دوسرے فرد کی تلاش ہے۔
غالباََ بہت غور کے بعد یہ دریافت کیا ہے کہ ”ایہہ کلے بندے دا کم نئی“چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب اسمبلی کے سپیکر کے عہدے کے لئے نامزد کرتے ہوئے نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی مسلم لیگ میں سے ”محبانِ وطن“ ڈھونڈے جائیں گے۔ ”ملکی استحکام“ کی خاطر ایسا ہی حربہ پیپلز پارٹی کے خلاف 2002کے انتخابات کے بعد آزمایا گیا تھا۔ اطمینان مگر نصیب نہیں ہوا ہے۔ پنجاب میں اپنا کلہ مضبوط بنانے کے لئے اب چودھری سرور کوگورنر ہاﺅس بھیج دیا گیا ہے۔
انتخاب سے قبل بنائے منصوبوں میں چودھری صاحب کو وزارتِ خارجہ کا منصب سونپا گیا تھا۔موصوف کئی برسوں تک برطانوی سیاست میں متحرک رہے ہیں۔وہاں کی پارلیمان کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے۔ ان کے بارے میں فرض کرلیا گیا ہے کہ برطانیہ اور دیگر یورپی ملکوںمیں پاکستان کا کیس بہت بہتر انداز میں پیش کرسکتے ہیں۔ ذاتی طورپر اگرچہ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ یہ دور بسمارک یا ڈاکٹر ہنری کسنجر جیسے نابغوں کے لئے مناسب نہیں ہے۔ پاکستان کو عالمی برادری کے ساتھ ان دنوں جن مسائل کا سامنا ہے اس کا تدارک شاید ذوالفقار علی بھٹو جیسے ذہین وفطین ماہر امورِ خارجہ کے لئے بھی ڈھونڈنا شدید مشکل ہوتا۔ اس ضمن میں ہمارے مسائل کا اصل سبب کسی ”دیدہ ور“ کی عدم موجودگی نہیں چند ٹھوس پالیسیاں ہیں جنہیں تبدیل کرنا ہماری Deep Stateوسیع تر Strategicتناظر میں ضروری تصور نہیں کرتی۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے والا فیصلہ چین بھی نہیں روک پایا۔سعودی عرب بھی اس ضمن میں ہماری مدد نہ کرپایا۔
بہرحال وزارتِ خارجہ کو شاید اب شاہ محمود قریشی کے لئے ”بچا“ لیا گیا ہے۔ ملکی سیاست میں عملی طورپر چودھری سرور کو پنجاب کا گورنر لگاکر شہباز شریف نے متحرک کیا تھا۔ لاہور کے گورنر ہاﺅس میں آئینی اعتبار سے انہیں ویسے ہی بیٹھے رہنا تھا جیسے بکنگھم پیلس میں ملکہ برطانیہ بیٹھتی ہیں۔ چودھری صاحب کو لیکن یہ ”نمائشی عہدہ“ پسند نہیں آیا۔ وطنِ عزیز کو بدلنے کے لئے ان کے ذہن میں بے تحاشہ خیالات ہیں۔ ان کا عملی اطلاق سیاسی اختیار کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ مستعفی ہوکر عمران خان صاحب کے ہوگئے۔
پاکستان کا آئین اب بھی وہی ہے جو شہباز صاحب کی وزارتِ اعلیٰ کے دنوں میں ہوا کرتا تھا۔ گورنر کو اختیارات تفویض کرنے کے لئے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت کی حمایت سے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی۔ اس کا فی الوقت کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ چودھری سرور مگر ”گزرے تھے ہم جہاں سے “ والی جگہ لوٹنے کے لئے تیار ہوگئے۔ اگے تیرے بھاگ لچھیے۔
چودھری سرور کے گورنر پنجاب کے عہدے پر لوٹنے سے مجھے 1974یاد آگیا ۔ مصطفےٰ کھر نے اس سے چند ماہ قبل ”شیر پنجاب“ بن کر ”فخر ایشیا“ کے مقابل آنے کی کوشش کی تھی ۔ بھٹو صاحب نے ان کے پر کاٹنے کا فیصلہ کیا۔ لاہور کے دھیمے مزاج والے ”فلاسفر“ حنیف رامے کو وزارتِ اعلیٰ سونپ دی گئی ۔ چند روز کی ناراضی کے بعد کھر صاحب گورنر ہاﺅس جانے کو تیار ہوگئے ۔ ان کے مداحین کو گماں تھا کہ رامے صاحب پر ”چیک“ رکھیں گے ۔ پنجاب کی بیوروکریسی نے مگر”آئین کا احترام“ جاری رکھا۔ اس احترام نے رامے اور کھر صاحبان کو پریشان کر دیا۔ ان دونوں کے مابین چپقلش کی وجہ سے پنجاب میں مذہبی بنیادوں پر تحریک چل گئی۔
بھٹو صاحب اس کی وجہ سے ”90سالہ مسئلے“ کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے حل کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس مجبوری نے انہیں کھر اور رامے کو فارغ کرنے پر بھی مجبور کردیا۔
اپنے عہدوں سے فراغت کے بعد یہ دونوں صاحبان چودھری ظہور الٰہی کی وساطت سے پیرپگاڑا کی چھتری تلے جابیٹھے۔ پنجاب میں ”مسلم ہے تو مسلم لیگ والا“ ماحول بنانے کی کوشش ہوئی۔ کھر صاحب کے ساتھی ”دلائی کیمپ“ بھیج دئیے گئے۔ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید ہونا پڑا۔ پنجاب نواب صادق قریشی کے حوالے کردیا گیا۔ اس جاگیردار کی تعیناتی سے بھٹو صاحب نے ”انقلاب“سے دوری اختیار کرتے ہوئے روایتی سیاست کی جانب لوٹنے کا سفر شروع کردیا۔
چودھری سرور کا ”حنیف رامے“ جانے کون شخص ہوگا۔ جو بھی ہوا چودھری صاحب کو گورنر ہاﺅس میں ”نمائشی“ حیثیت میں بیٹھے رہنے کو مجبور کردے گا۔ موصوف دِق ہوکر ایک بار پھر استعفیٰ دینا ضروری سمجھیں گے۔ وطن عزیز میں بنیادی تبدیلیاں لانے والے ان کے خیالات کو عملی صورت دینے کے لئے کوئی اور راستہ ڈھونڈنا پڑے گا۔ خیر کی خبر فقط اتنی ہے کہ ان دنوں ”دلائی کیمپ“ نہیں ہے اور شاہی قلعے میں عقوبت خانے باقی نہیں رہے ۔ نیب کے Safe Houses ہیں اور وہ ان دنوں شہباز صاحب کے چہیتے افسران کے لئے وقف ہوئے نظر آ رہے ہیں ۔
چودھری صاحب بہت کائیاں اور گھاگ سیاست دان ہونے کے دعوے دار ہیں۔ پاکستانی سیاست کے لئے بنیادی ٹھہرائے آئین کو مگر اب تک سمجھ نہیں پائے۔ اس آئین کے ہوتے ہوئے حنیف رامے جیسا نرم خو شخص بھی کرشماتی شخصیت والے ”شیر پنجاب“ کو ”نمائشی“ بنادیتا ہے۔ خان صاحب نے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ ویسے بھی کسی متحرک نوجوان کے سپرد کردینے کا وعدہ کیا ہے۔ وسطی پنجاب کے چودھری پرویز الٰہی اور چودھری سرور کے لئے سپیکر اور گورنر کے عہدے مختص کرنے کے بعد اب وزیر اعلیٰ جنوبی پنجاب سے ڈھونڈا جارہا ہے۔ یہ کالم لکھنے تک تین نوجوان شارٹ لسٹ ہوئے نظر آرہے تھے۔ میں جان بوجھ کر ان کے نام نہیں لکھ رہا۔ انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ چودھری سرور کو دوبارہ لاہور کے گورنر ہاﺅس میں نمائشی حیثیت ہی میں بٹھانا اگرچہ طے ہو چکا ہے ۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین