نقلی نواز شریف کا استقبال

احتساب عدالت میں ن لیگیوں کو ‘دو نمبر نواز شریف’ نے چکما دے دیا، لیگی کارکنان نقلی نواز شریف کو قائد سمجھ کے سلام پیش کرتے رہے ۔

نیلم ارشد

احتساب عدالت میں جیل جانے کے بعد آج نواز شریف کی تیسری پیشی تھی ۔ آج والی کارروائی میں سب سے اہم اور نمایاں شہباز شریف کی فرسٹ انٹری تھی ۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اپنے بھائی سے یک جہتی کیلئے آج پہلی دفعہ احتساب عدالت آئے ۔ اس موقع پر ان کے ساتھ لیگی رہنماؤں کی بڑی تعداد خصوصاً نو منتخب اراکین قومی اسمبلی تھے، ان میں اکثریت خواتین کی مخصوص ممبران اسمبلی تھیں ۔ نواز شریف کی آمد پر لیگی رہنماؤں کو اڈیالہ جیل کے سکیورٹی سکواڈ نے بڑی مہارت سے ماموں بنایا ۔

دو بار جیل سے نواز شریف کو احتساب عدالت لانے کے معمول کو آج بھی صرف دکھاوے تک محدود رکھا گیا ۔ وہی جیل سکواڈ، سخت سکیورٹی، ہارن بجاتی، لائٹیں گھماتی گاڑیاں بکتر بند گاڑی کے آس پاس تھیں ۔ وہی بکتر بند گاڑی، وہی سیٹ، ویسی ہی شلوار قمیض، عموما بیٹھے ہوئے قد و قامت بھی نواز شریف جیسی، اور تو اور ہلکے نیلے رنگ کی شلوار قمیض میں بیٹھے اس شخص نے تو آج نواز شریف سے مشابہت کے فائدے لئے، لیگی کارکنان خصوصاً مریم اورنگزیب جو اس بکتر بند گاڑی کے سامنے دلیری سے ڈٹ کر کھڑی ہوئیں، اپنے قائد سے محبت کا اظہار اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کی چاہ میں سکیورٹی کی سخت حصار کی وجہ سے کئی خواتین رہنما خاردار تاروں پر بھی گر پڑیں، اسی ‘دو نمبر نواز شریف’ پر پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور ہوئیں، جبکہ کئی کارکنان کے ہوائی بھوسے بھی نقلی نواز شریف کے حصے میں آئے۔  سارا کا سارا جذبہ، ساری محنت، بھاگ دوڑ اور نعرے بازی اس وقت ہوا ہوئے جب اچانک اسی ہجوم سے آواز آئی کہ یہ میاں صاحب نہیں، تب پتہ لگا کہ یہ شخص ان کا قائد نہیں بلکہ کوئی اور آدمی ہے، جو محض نواز شریف بننے کا ڈرامہ رچا رہا اور کارکنان کی دیوانہ وار محبت کا مزاق اڑا رہا تھا ۔ سکیورٹی اہلکاروں کا بڑا غول اس تمام تماشے کو دیکھ انجوائے کر رہا تھا ۔

یہ سب ڈرامہ احتساب عدالت کے عقبی دروازے پر جاری تھا اور اچانک سے مرکزی گیٹ سے دو لینڈ کروزر اور ایک سکیورٹی کار نواز شریف کو لے کر احتساب عدالت پہنچ گئیں، دونوں لینڈ کروزر نہ صرف رنگ میں کالی تھیں بلکہ ان کے پچھلے شیشے بھی کالے تھے، جہاں سے ن لیگی رہنماؤں کے قائد ان کو دیکھ تو سکتے تھے لیکن ان کو دیدار کرانے سے قاصر تھے، مرکزی دروازے پر دو چار رہنما جن میں طارق فضل چوہدری، جعفر اقبال اور طارق فاطمی شامل تھے، نواز شریف کی یادداشت میں اپنی حاضری لگا چکے، لیکن دیگر رہنماؤں کو اچھا خاصا صدمہ ہوا، نواز شریف کی احتساب عدالت آنے کے بعد عقبی دروازے پر کھڑے دو درجن سے زائد لیگی رہنما مرکزی گیٹ پر آ گئے اور مرکزی دروازے والوں سے اپنے ساتھ ہونے والی کارروائی سے خوب محظوظ ہوئے، کئی خود کو چونا لگنے پر ہنسے جبکہ کئی سکیورٹی والوں پر جملے بھی کستے رہے ۔ سکیورٹی کے بڑے قافلے کی یہ نئی حکمت عملی کام تو کر گئی اور گرتے، نعرے لگاتے اور چوٹ کھانے والے لیگی رہنماؤں کو مشکل میں ڈال گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے