عدالت میں نواز شریف سے ملاقات

فیاض محمود

احتساب عدالت میں داخلہ کسی امتحان سے کم نہیں۔ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پہلا ناکہ کراس کیا تو پولیس اہلکار کے استفسار پر اپنی شناخت بتائی۔ چند قدم آگے بڑھا تو آفس کارڈدکھانے کا حکم صادر ہوا۔ خیر یہ مرحلہ مکمل ہوا تو مرکزی گیٹ تک پہنچ گیا۔ جہاں دیگر صحافی بھی کھڑے تھے۔ کچھ فٹ پاتھ پر بیٹھے تھے کیونکہ ایک بار پھر میڈیا پر جوڈیشل کمپلیکس کے دروازے بند کیے جاچکے تھے۔ دھوپ نکلنا شروع ہو ئی تو بعض دوست پریشان ہوئے کہ گرمی میں دن گزارنا مشکل ہوجائے گا۔ پولیس سے مذاکرات کا عمل شروع ہوا تو عقبی گیٹ پر پہنچنے کا کہا گیا۔ اس امید سے وہاں پہنچے کہ اب داخلے کی اجازت دے دی جائے گی۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا اندر جانے کی اجازت نہیں۔ اللہ اللہ کرکے مذاکرات کامیاب ہوئے پندرہ لوگو کو داخلے کی اجازت ملی۔ بعض صحافیوں کی تجویز تھی جانا ہے تو سب جائیں ورنہ بائیکات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اکثریت کی رائے پر عدالتی کارروائی کور کرنے کا فیصلہ ہوا۔ پولیس اہلکار نے انتظامیہ کا پیغام پہنچایا کہ مرکزی گیٹ پر جائیں وہاں پہنچے تو گیٹ پر روک لیا گیا اورفہرست پر دستخط ہونے تک انتظارکرنے کا کہا گیا۔ پولیس اہلکار ساتھ ہی ساتھ ہدایات بھی جاری کرتے رہے۔ موبائل فون باہر ہی جمع کرلیے گئے۔ ایک پن اور پیپر لیجانے کی اجازت دے دی گئی۔ جوڈیشل کمپلیکس کے احاطہ میں روک لیا گیا اور نئے احکامات جاری ہوئے کہ نواز شریف سے کوئی بات نہیں کرے گا جبکہ جوڈیشل کمپلیکس کی عمارت میں عدالت لگنے کے بعد بلایا جائے گا۔ صحن میں وقت گزاری چل رہی تھی کہ شہباز شریف پہنچ گئے۔ بازو پر کالی پٹی باندھے ہماری طرف بڑھے تو ایک دوست نے مذاق میں کہا شکر ہےصدر مسلم لیگ ن یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ چلتے چلتے خیریت دریافت کی اور وہ اندر چلے گئے۔ کچھ پل بعد ہمیں جوڈیشل کمپلیکس کی عمارت میں داخلے کی اجازت دی گئی۔ ایک بار پھر فہرست میں نام دیکھے گئے اور تفصیلی تلاشی کے بعد اندر پہنچ گئے مگر عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ احتساب عدالت کے دروازے پرتعینات سیکورٹی اہلکار نے کہا ابھی آپ کو اجازت نہیں جیسے ہی سماعت شروع ہوگی آپ کو بلا لیا جائے گا۔ سیکورٹی روم میں بیٹھ کر انتظار شروع کردیا اور کان احتساب عدالت کی جانب لگ گئے کہ کب نواز شریف بنام سرکار کی آواز لگے اور ہم وہاں پہنچے۔ ن لیگ کے نو منتخب اراکین اسمبلی بھی پہنچتے رہے۔نواز شریف کو پہنچانے میں تاخیر ہونے لگی تو شہباز شریف اور خواجہ آصف طویل انتظار کے بعد واپس نکلے تو ہمیں مل گئے۔ ہم سے پوچھا میاں صاحب کو لیکر آئیں گے یا نہیں کیونکہ ہم نے اسمبلی میں پہنچنا ہے۔ ہم نے اپنے ذرائع سے معلوم کیا اور انہیں بتایا کہ وہ قریب پہنچ چکے ہیں اور اگلے دس منٹ میں یہاں ہونگے۔ اس طرح وہ واپس عدالت میں لوٹ گئے۔ ہمیں بھی اجازت دے دی گئی۔ شہباز شریف کھڑے ہوکر ہم سے ملے ۔ میں نے کہا بلااخر ہم بھی یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس پر وہ مسکرائے اور کہا شاید آپ لوگوں کی وجہ سے ہم یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ٹھیک دس منٹ میں نواز شریف کو بلیک لینڈ کروزر میں بٹھا کر احتساب عدالت پہنچا دیا گیا۔ کریم کلر کے سوٹ کے اوپر نیلے رنگ کی واسکٹ پہنے ہوئے اور نواز شریف احتساب عدالت کے اندر داخل ہوئے۔ انکا وزن پہلے کی نسبت کافی کم ہوچکا ہے۔ وہاں پر موجود لیگی رہنماوں اور صحافیوں سے ہاتھ ملانا شروع کردیا۔ ساتھ ہلکی مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ شہباز شریف نے مسکرا کر ان سے مصحافہ کیا اور خواجہ آصف جھک کر ان سےملے۔ اگلی نشست پر شہباز شریف اور خواجہ آصف سابق وزیراعظم کیساتھ بیٹھے تھے۔ نواز شریف نے فوری طور پر شہباز شریف کے کان میں گفتگو شروع کردی۔ سیکورٹی اہلکار تعینات تھے اس لیے ہمیں تھوڑا فاصلے پر کھڑا کیا گیا اس لیے باتیں نہیں سن سکتے تھے۔ جو باتیں سمجھ آئیں اس میں قومی اسمبلی میں ن لیگ کے کردار سے متعلق گفتگو ہوئی۔ انہوں نے شہباز شریف کو ہدایات دیں اور مسلسل انہیں سنتے رہے۔ پھر خواجہ آصف بھی گفتگو میں شامل ہوگئے۔ بیس منٹ تک یہ ملاقات جاری رہی۔ نواز شریف کی ہدایت پر شہباز شریف اور خواجہ آصف قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے چلے گئے۔ شہباز شریف کی روانگی کے بعد نواز شریف کافی سنجیدہ موڈ میں دکھائی دیے۔ پھرپرویز رشید نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارروائی سے متعلق انہیں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ نواز شریف کی کرپشن الزامات میں بریت کو نیب نے چیلج نہ کرکے احتساب عدالت فیصلہ تسلیم کرلیا ہے۔ جس پر نواز شریف نے مسکرا کر انہیں جواب دیا۔ سابق وزیراعظم کچھ دیر خاموش رہ کر کچھ سوچتے۔ کبھی دیوار پر لگی قائد اعظم کی تصویر کو دیکھتے تو کبھی سیکورٹی اہلکاروں کو اور کبھی صحافیوں کی طرف دیکھتے اور پھر سوچوں میں گم ہو جاتے۔ پھر پرویز رشید کو مختلف ہدایات دیتے۔ یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک وہ عدالت میں موجود رہے۔ جب وہ عدالت پہنچے تو تھوڑے سنجیدہ دکھائی دیے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ اسی موڈ میں نظر آنے لگے جیسے وہ پہلے احتساب عدالت میں آتے تھے۔ میڈیا کو ان سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی جس وجہ سے ہم خاموش رہ کر آبزرو کرتے رہے۔ نواز شریف کی باڈی لیگنویج بتا رہی تھی وہ کافی حوصلے میں تھے۔ دوران وقفہ جج ارشد ملک سابق وزیراعظم سے مخاطب ہوئے تو نواز شریف کھڑے ہوگئے۔ انہوں پوچھا آپ ابھی جانا چاہتے ہیں یا اپنے وکیل کا انتظار کرنا ہے۔ جس پر نواز شریف نے جواب دیا جیسے آپ کہیں۔ جج صاحب نے کہا ٹھیک ہے اپنے وکیل صاحب کا انتظار کرلیں۔ سماعت ختم ہوئی تو لیگی رہنماوں نے نواز شریف سے ملنا شروع کردیا اور ایک دوسرے سے مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ چلتے چلتے نواز شریف سے پوچھا گیا

سوال، آپ کی طبیعت کیسی ہے؟

جواب، جی الحمد اللہ ٹھیک ہے،

سوال،آپ کو نماز کے لیے مسجد جانے کی اجازت ہے؟

جواب، نماز اپنے سیل میں ہی ادا کرتا ہوں

سوال، کیا قید تنہائی میں ہیں؟

جواب، بس اپنے سیل میں آپ اسے جوبھی سمجھ لیں

سوال، مریم نواز سے ملاقات ہوتی ہے؟

جواب، ہفتے میں ایک روز، صرف ملاقات والے دن ملاقات ہوتی ہے۔

وہ ان چھوٹے چھوٹے سوالوں کا جواب دیتے دیتے باہر نکل گئے۔ اور اگلے لمحے گاڑی میں بیٹھا دیے گئے۔ اب انہیں 20 اگست کو دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین