احتساب عدالت میں نوازشریف کی آمد

احتساب عدالت سے
اویس یوسف زئی

سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے بعد پہلی مرتبہ صحافیوں سے کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کی اور کہا کہ مریم نواز سے جیل میں روز ملاقات نہیں ہوتی بلکہ دیگر ملاقاتیوں کے ساتھ ہفتہ وار ملاقات کا ہی موقع ملتا ہے ۔ جس سیل میں قید ہوں ، نماز پڑھنے کے لیے بھی اس سے باہر جانے کی اجازت نہیں اس لیے اسی سیل میں نماز ادا کرتا ہوں ۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ قید تنہائی میں زندگی گزار رہا ہوں ۔ صحت سے متعلق سوال پر کہا کہ الحمد اللہ ٹھیک ہوں ۔

نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے عدالت لایا گیا تو وہ پہلے کی نسبت کچھ کمزور دکھائی دیے۔ کورٹ روم چھوٹا ہونے کے باعث میڈیا نمائندوں کے احتجاج کے بعد مجھ سمیت صرف 15کورٹ رپورٹرز کو عدالتی کارروائی کی کوریج کی اجازت مل سکی۔ کمرہ عدالت تک پہنچنے کے لیے کئی مراحل طے کرنا پڑے۔ پہلے مرکزی دروازے سے داخلے کی اجازت نہ ملی۔ کافی دیر انتظار کے بعد تلاشی دے کر بغیر موبائل فون احاطہ عدالت میں پہنچے تو نیا آرڈر یہ آیا کہ ابھی کورٹ روم کی طرف نہیں جا سکتے۔ جب جج صاحب کمرہ عدالت میں پہنچیں گے تو اس وقت داخلے کی اجازت ملے گی ۔ پولیس افسران کی مہربانی سے سیکورٹی انچارج آفس کو عارضی طور پر ویٹنگ روم کا درجہ دے کر میڈیا کے نمائندوں کو اگلے احکامات تک وہاں انتظار کرنے کا کہا گیا۔ اس دوران شہباز شریف آئے اور کمرہ عدالت میں داخل ہو گئے۔ دس بجے کے قریب باہر آئے اور خواجہ آصف کے ہمراہ باہر جانے لگے تو میڈیا کے نمائندوں نے غیر رسمی گفتگو کے لیے انہیں گھیر لیا ۔ معلوم ہوا کہ وہ تو مایوس ہو کر یہاں سے واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چینل 24 کے سینئر رپورٹر صغیر چودھری نے بتایا کہ اس کے ذرائع کے مطابق دس منٹ میں میاں صاحب یہاں پہنچنے والے ہیں جس پر شہباز شریف نے دوبارہ کورٹ روم کا رخ کر لیا اور اس طرح دونوں بھائیوں کی پہلی مرتبہ کورٹ روم میں ملاقات ہوئی۔

نواز شریف نے آف وائٹ شلوار قمیض اور ہلکے نیلے رنگ کی واسکٹ پہن رکھی تھی جبکہ ان کی قمیض کی آستین کے کف پر MNS پرنٹ تھا ۔ نواز شریف نے کمرہ عدالت میں داخل ہو کر وہاں موجود لیگی رہ نما سے ہاتھ ملائے اور اپنی نشست پر پہنچے تو پاس کھڑے صحافیوں سے بھی مصافحہ کیا جس کے بعد صحافیوں کو وہاں سے ہٹا کر دوسری سائیڈ پر بھجوا دیا گیا اور نواز شریف سے بات چیت نہ کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ شہباز شریف کچھ وقت کے لیے عدالت میں ٹھہرے اور پھر وہاں سے روانہ ہو گئے جس کے بعد نواز شریف کے ساتھ والی نشست پرویز رشید نے سنبھال لی۔ پیر صابر شاہ، آصف کرمانی، خواجہ آصف مشاہد اللہ، چودھری تنویر اور دانیال چودھری بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے ۔ اگرچہ دوران سماعت میڈیا کے نمائندوں کو نواز شریف سے دور رکھا گیا مگر کورٹ روم سے واپسی پر صحافیوں نے چلتے چلتے نواز شریف سے چند سوالات کیے جن کے انہوں نے مختصر جواب دیے ۔

شہباز شریف نے بھی نواز شریف کی آمد سے قبل صحافیوں سے مختصر غیر رسمی گفتگو کی اور کہا کہ افسوسناک ماحول ہے ، ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ٹرائل کورٹ نے بھی اپنی ججمنٹ میں یہی لکھا۔ تین بار کے وزیراعظم کی خدمات کسی سے چھپی نہیں۔ وطن عزیز کو ایٹمی قوت بنانے کا سہرا بھی نواز شریف کے ہی سر ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button