ٹوٹتے عدالتی بنچ اور مقدمہ

بینچ ٹوٹنے کی ہیٹرک ۔ وزارت عظمی یا عدالت عظمی، کس کا پلڑا ہے بھاری؟

نیلم ارشد

عمران خان نا اہلی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کا بنچ تیسری بار ٹوٹ گیا، نامزد وزیراعظم عمران خان کیا اب وزیراعظم پاکستان بننے کے نااہلی کیس کا سامنا کریں گے؟ عید کی تعطیلات کے بعد پتہ چلے گا ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کرنے والے بینچ کے ٹوٹنے کی ہیٹ ٹرک مکمل ہو گئی،
عمران خان صادق اور امین نہیں، عمران خان نے اپنے آثاثے خصوصاً بیٹی ٹیرن کو چھپایا، عمران خان کو نااہل کیا جائے، وزارت عظمی کے حلف سے روکا جائے،یہ میں نہیں بلکہ اسلام آباد کے شہری عبدالوہاب اور حافظ احتشام کی استدعا ہے جو الیکشن ٹربیونل سے جسٹس محسن اختر کیانی نے مسترد کردی، مسترد ہونے کے بعد انٹرا کورٹ اپیل میں ََابتدائی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس عامر فاروق نے کی اور فریقین کو نوٹس جاری کئے،لیکن گرمیوں کی تعطیلات کے باعث بینچ ٹوٹ گیا،دوسرا بینچ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تھا، یہ بینچ تب ٹوٹا جب درخواست گزار کے وکیل شیخ احسن الدین نے بینچ پر عدم اعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے اسے تبدیل کرنے کی استدعا کی، عدالت نے کیس سننے سے خود ہی معذرت کرلی، اس موقع پر عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے بھی بیان دیا کہ اپنی مرضی کے بینچ بنانے کا فورم اور کوئی نہیں، سپریم کورٹ سے ہی رجوع کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد اس دوسرے بینچ نے بھی کیس کی سماعت سے معذرت کرکے معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو بجھوا دیا، گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک بار پھر عمران خان نااہلی درخواست سننے کیلئے نیا بینچ تشکیل دیا، اس بار جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس اطہر اللہ کیس کی سماعت کیلئے بینچ کا حصہ بنے، سماعت آج کیلئے مقرر تھی لیکن آج بھی بینچ ٹوٹ گیا اور ایسے اس عدالتی بینچ ٹوٹنے کی ہیٹرک ہو گئی، اب کنفیوژن یہ ہے کہ یہ بینچ کمزور ہے جو بار بار ٹوٹ جاتا ہے یا جسکے خلاف بینچ بنایا جا رہا وہ زیادہ طاقتور ہے، خیر کل پاکستان کے وزیراعظم کا چناؤ ہونے جا رہا ہے اور اگر نامزد وزیراعظم عمران خان ہی وزارت عظمی کا حلف اٹھاتے ہیں تو عدالت عظمی اپنے وزیر اعظم کیخلاف اس کیس کی سناعت کریں گے، اب کی بار یہ چوتھا بینچ ہوگا، لیکن افسوس کے درخواست گزار کی استدعا سنی نہ گئی، درخواست گزار چاہتا تھا کہ عمران خان کو وزیراعظم کا حلف اٹھانے سے روکا جائے، کیونکہ خان نے کاغذات نامزدگی میں قیمتی اثاثہ اپنی بیٹی ٹیرن کو ظاہر نہیں کیا، لہذا وہ صادق اور امین نہیں رہے، لیکن اب خان تو وزارت عظمی پکی کرنے کے بعد عدالت عظمی کا رخ کریں گے، دیکھتے ہیں اب کی بار وزارت یا عدالت میں سے کس کی عظمی جیتتی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے