قومی ترانہ

اظہر سید

دنیا کے ہر ملک کا قومی ترانہ ہوتا ہے ۔ پاکستان کا بھی ہے۔ریاستوں کا قومی ترانہ وہاں بسنے والے لوگوں کی امنگوں کا اظہار بھی ہوتا ہے ۔پاکستان کا قومی ترانہ بھی پاکستانی عوام کی خواہشات اور امنگوں کا سچا مچا اظہار ہے۔پاک سرزمین شاد باد کشور حسین شاد باد کا مطلب ہے پاکستان میں طاقت ظلم جھوٹ اور دھوکہ سے آئین اور قانون کو موم کی ناک بنایا جائے ۔ڈی ایچ اے میں اربوں روپیہ کے فراڈ کے بعد آسٹریلیا میں ایک جزیرہ خرید لیا جائے ۔اس کا مطلب ہے پاکستان میں وہ ہمیشہ شاد باد رہتا ہے جومحترمہ فاطمہ جناح کی بھارت دوستی کی راہ میں دیوار بن کر کھڑا رہتا ہے اور بین القوامی حالات کے تناظر میں سندھ طاس معاہدہ کرتا ہے تین دریا اگر بھارت کو دیتا ہے تو ڈیم بھی بناتا ہے ۔بڈھ بیر میں روسیوں کی جاسوسی کیلئے امریکیوں کو ہوائی اڈہ دیتا ہے تو اس کا مقصد بھی ملک کا بہترین مفاد ہی ہوتا ہے۔
تو نشان عظم عالی شان ارض پاکستان کا مطلب یہ ہے یہاں جسٹس منیر ، جسٹس انوار الحق ، جسٹس مولوی مشتاق ، جسٹس ارشاد جسٹس افتخار چوہدری اور جسٹس ثاقب نثار پیدا ہوتے ہیں جو ملک کے عوام کے بہترین مفاد میں ہمیشہ آئیں اور قانون کا سر بلند رکھتے ہیں خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور ہمیشہ ملک کو ظالم اور بدعنوان سیاستدانوں سے تحفظ دینے کیلئے فوجی سربراہوں کی ملک سے بے پناہ محبت میں انکی دامے درمے سخنے مدد کرتے ہیں۔
پاک سرزمین کا نظام قوت اخوت عوام کا مطلب ہے پاکستان میں تمام فیصلے عوام کرتے ہیں وہ فیلڈ مارشل ایوب خان جنرل یحی مرد مومن مرد حق جنرل ضیا الحق اور سب سے پہلے پاکستان والے جنرل مشرف کو ریفرنڈم میں 99 فیصد ووٹ دیتے ہیں ۔عوام سیاستدانوں کو اپنی طاقت سے کنونشن لیگ مسلم لیگ ق مسلم لیگ فلاں فلاں اور پیپلز پارٹی پٹریاٹ بنانے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔اس کا یہ مطلب یہ بھی ہے پاکستان کے عوام بھٹو ایسے منتخب وزیراعظم کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانے کو پسند کرتے ہیں ۔عوام چاہتے ہیں بینظیر بھٹو کو دہشت گرد شہید کر دیں ۔عوام کی بے پناہ خواہش ہوتی ہے سیاستدانوں کو ایبڈو کر دیا جائے انہیں جلا وطن کیا جائے۔
پاک سرزمین کا نظام کا ایک مطلب یہ بھی ہے یہاں مدارس کی پنیری اگائی جائے انہیں خوب خوب سٹرٹیجک مقاصد کیلئے استمال کیا جائے ۔ایک وقت میں پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کیلئے کراچی میں ایک عفریت پیدا کیا جائے اور ایک وقت میں مسلم لیگ کے خلاف تحریک انصاف کو طاقتور بنانے کیلئے اس عفریت کو غدار بنا کر عبرت کا نشان بنا دیا جائے۔انتہا پسند مذہبی تنظیمیں بنائی جائیں اور انہیں ملک کے بہترین مفاد میں استمال کیا جائے۔
قوم ملک سلطنت پائندہ تابندہ باد شاد باد منزل مراد کا واضح مطلب یہ ہے قوم کو بلوچی عسکریت پسندوں سے منظور پشتین ایسے لوگوں سے اور نواز شریف ایسے باغی ایجنسیوں کے فخر سے نجات دلا دی جائے ۔مولانا فضل الرحمن کو سبق سکھایا جائے اور اسفند یار ولی کی طبعیت صاف کر دی جائے اور پنجابی لیڈر کے خلاف تمام ریاستی اداروں اور میڈیا کو استمال کر کے قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔پائندہ تابندہ باد شاد باد منزل مراد کا مطلب ہے ملک کے تمام اداروں پر مکمل کنٹرول رکھا جائے ۔میڈیا کو قابو کر کے قوم کو اپنی مرضی کا سچ بتایا جائے اور ہر بلند ہونے والی آواز کو لاپتہ کر دیا جائے خاموش کر دیا جائے انہیں غدار بنا دیا جائے۔
پرچم ستارہ و ہلال رہبر ترقی و کمال کا مطلب ہے ملک جب بھی ترقی کی راہ پر چلنے لگے اس کو لگام ڈالی جائے ورنہ بدعنوان سیاستدان طاقتور ہو جائیں گے اور ریاست کے اختیارات چھن جانے سے ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ترجمان ماضی شان حال جان استقبال کا مطلب ہے ماضی میں بھی اصل اختیارات اور طاقت حاصل تھی اب بھی اصل طاقت اور اختیارات حاصل ہیں اور مستقبل میں بھی کسی کو خارجہ اور داخلہ پالیسیوں پر اختیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سایہ خدا ذوالجلال کا مطلب ہے ہم جو کچھ کرتے ہیں اس میں رب کی رضا حاصل ہوتی ہے اور ملک کے بہترین مفاد میں خدا ہمیشہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے