قومی اسمبلی: خان اور شہباز کی تقاریر

عمران خان کا وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں پہلے خطاب میں اپنے مخالفین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جتنا مرضی شور مچا لیں مجھے بلیک میل نہیں کر سکتے ۔ اگر دھرنا دینا ہے تو ہم کنٹینر دیں گے، کھانا بھی پہنچائیں گے ۔ عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان سے کہتا ہوں کہ ایک مہینہ دھرنا دے کر دکھا دیں ۔

خطاب کے آغاز میں عمران خان نے کہا کہ اللہ کا اور قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں، قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم تبدیلی لائیں گے، سب سے پہلے کڑا احتساب ہوگا، کسی ڈاکو کو این آر او نہیں ملے گا، جن لوگوں نے ملک کو لوٹا، انہیں نہیں چھوڑوں گا، جن لوگوں نے ہمارے بچوں کو مقروض کیا ان کا احتساب ہو گا، پارلیمنٹ کو مضبوط کروں گا ۔

عمران خان نے کہا کہ ہر مہینے دو بار ایوان میں کھڑا ہو کر سوالوں کے جواب دوں گا، اگر اس ملک کے نواجوان باہر نہ نکلتے تو ہم آج یہاں نہ کھڑے ہوتے ۔ عمران خان خطاب کے دوران سخت غصے میں دکھائی دئیے اور اپنے کرکٹ کے بھی حوالے بھی دیتے سنے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی کے خلاف الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ جائیں ۔ ہماری درخواست پر چار حلقے نہ کھولے گئے، یہاں شور مچانے والوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ کس حلقے میں کیا ہوا ہے ۔ 

عمران خان کی تقریر کے دوران ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا ۔ ن لیگ کے ارکان نے سخت نعرے بازی کی اور شور شرابہ ہوتا رہا ۔ عمران خان کے بعد شہباز شریف نے خطاب کیا اور کہا کہ یہ کیسا الیکشن تھا جس میں پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن تاریخ کی بدترین بددیانتی شمار ہوگا ۔ پارلیمانی کمیشن بنایا جائے اور اس بددیانتی کا سراغ لگایا جائے تاکہ آئندہ کوئی ووٹ نہ چرا سکے ۔ دھاندلی کا پتہ لگانا ہوگا ۔ تیس دن کے اندر کمیشن اپنی رپورٹ اس ایوان میں پیش کرے اور اپنی سفارشات دے تاکہ آئندہ دھاندلی کو روکنے کیلئے قوانین میں ترامیم کی جا سکیں ۔

شہباز شریف نے کہا کہ کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ ہم تین چار دن بولیں گے، ہم ان سوالوں کا جواب مانگیں گے اور اگر جواب نہ آیا تو تحریک چلائیں گے ۔ ہم نے دھاندلی کمیشن سے پہلے معاہدہ کیا تھا کہ دھاندلی ثابت ہوگئی تو استعفے دیں گے، کیا خان صاحب، اب آپ ایسے وعدہ کریں گے ۔

ہم دھادندلی زدہ الیکشن کے نتائج کا تحفظ کرنے نہیں آئے بلکہ جموریت کی شمع کا تحفظ کرنے کی قسم کھا کر آئے ہیں ۔ ہم اپنا حق مانگیں گے اس ایوان پر لعنت نہیں بھیجیں گے، اس پارلیمنٹ پر حملہ نہیں کریں گے، سوئی گیس اور بجلی کے بلوں کو آگ نہیں لگائیں گے، سپریم کورٹ کے ججوں کو راستہ بدلنے پر مجبور نہیں کریں گے اور غیر ملکی مہمانوں کے دورے ملتوی نہیں کرائیں گے ۔

شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی پابند سلاسل ہیں ، ان کا کیا قصور ہے ، ان پر کرپشن کا کوئی دعویٰ ثابت نہیں ہو سکا، نواز شریف کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے بل کلنٹن کی مالی پیشکشن کو ٹھکرا کر ایٹمی دھماکے کیے ، وہ ملک میں روشنیاں لائے ، ملک کو سی پیک کا تحفہ دیا ، پانچ سال میں گیارہ ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے لگے، نواز شریف کے دور میں پاکستان میں امن آیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے