والدین کی تلاش کی کہانی

خالدہ شاہین رانا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رہائش پزیر تین بچیوں کی30سالہ ماں ولیڈی ٹیچر مسماة حفصہ ولدیت نامعلوم؟ کی جانب سے سپریم کورٹ میں”سعودی عرب سے بچپن میں اغواکی گئی لڑکی کی شناخت اور اصلی ورثاء کی تلاش ”کے عنوان سے دائر کی گئی ایک اچھوتی آئینی درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان ،مسٹر جسٹس ، میاں ثاقب نثار کی جانب سے لئے گئے از خود نوٹس پر درخواست گزار، مسما ة حفصہ کا اپنی مبینہ جعلی والدہ زاہدہ بی بی کے ساتھ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور میں ڈی این اے ہوگیا ہے ،جس کی رپورٹ عید سے قبل سپریم کورٹ میںآنے کا امکان ہے ، ڈی این اے رپورٹ میں درخواست گزار کی ولدیت ،خمیر اور قومیت کا تعین ہونے کی روشنی میں اس کیس کو آگے بڑھا یا جائے گا،مسماة حفصہ نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی انسانی حقوق کی درخواست میں خود کو بچپن میں سعودی عرب سے اغوا کی گئی لڑکی قرار دیتے ہوئے فاضل چیف جسٹس سے اپنی والدہ ہونے کی دعویدار زاہدہ بی بی کے ساتھ اپنا ڈی این اے کروا کر حقیقت سامنے لانے کے حوالے سے حکم جاری کرنے کی ا ستدعا کی تھی ، ذرائع کے مطابق فاضل چیف جسٹس کے حکم پر 13اگست 2018بروز سوموار اسلام آباد پولیس کی سیکورٹی میں مسماة حفصہ کو اسلام آباد سے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور لے جایا گیا جہاں ضلع ٹانک پولیس اس کی والدہ ہونے کی دعویدار زاہدہ بی بی کو پکڑ کرلائی تھی اور اس موقع پرمبینہ طور پر زاہدہ بی بی اور اس کی بیٹی نے ڈی این اے سے بچنے کے لئے کافی شور و غل کیا اور حفصہ کے پائوں پڑ کر اسے ڈی این اے نہ کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کرتی رہیں ،جس پر حفصہ نے کہا کہ مجھے میرے والدین کا بتا دیں لیکن معاملہ حل نہ ہوا اور زاہدہ بی بی کو لانے والے تھانہ ٹانک کے ایس ایچ او نے بتایا گیا کہ آپ کا یہ ڈی این اے سپریم کورٹ کے حکم پر کیا جارہا ہے ، اس سے کوئی بھی فریق پیچھے نہیں ہٹ سکتا ہے ،جس کے بعد کافی تردد سے ڈی این اے ہوا ۔

یاد رہے کہ مسما ة حفصہ نے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل میں دائر کی گئی درخواست میں(والدہ ہونے کی دعویدار)زاہدہ بی بی، وفاقی سیکرٹری وزارت داخلہ ، وفاقی سیکرٹری وزارت خارجہ،اسلام آباد میں تعینات سعودی ایمبیسیڈر، اسلام آباد ڈائیگناسٹک سنٹرکے سربراہ ،ڈی جی، اورسیزپاکستانیز فائونڈیشن،کے آر ایل ہسپتال کے سربراہ،ڈی جی، ایف آئی اے اورآئی جی پولیس، اسلام آباد کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ درخواست گزار کا نام حفصہ ولدیت(نامعلوم)قومیت سعودی النسل ہے ، جسے بچپن میں پاکستان کے قبائلی علاقہ(فاٹا)سے تعلق رکھنے والے سعودی عرب کے ایک پاکستانی سکول میں تعینات ،ٹیچر، شرابت خان اور ان کی اہلیہ زاہدہ بی بی نے سعودی عرب سے اغوا کر کے ایک جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کے ذریعے بظاہر بیٹی بنا کر ساری زندگی کے لئے کنیزیا نوکرانی بنا کر رکھے رکھا ،جب میری عمر 15سال ہوئی تو میرے سمیت سارا خاندان ہی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ٹانک میںاپنے آبائی گھر آگیا، اور زاہدہ بی بی نے پیسے لیکر میرے جیسی گریجویٹ لڑکی کی شادی ایک ایسے شخص کے ساتھ کردی ،جسے علاقہ بھر کا کوئی بھی شخص ا پنی کسی ان پڑھ لڑکی کا رشتہ دینے کو بھی تیار نہیں تھا ، میرے ہاں تین بیٹیاں پیدا ہو ئیں اور بیٹیاں پیدا کرنے کے جرم میں مجھے خاوند اورسسرالیوں کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ،میں نے اس سے طلاق کا مطالبہ کردیا اور ناراض ہوکر اپنی(جعلی والدہ )زاہدہ بی بی کے گھر پناہ لینے کے لئے چلی گئی ، جس نے میری مدد کرنے کی بجائے ڈراتے ہوئے ایک خوفناک ترین انکشاف کیا کہ میں شرابت خان(نام نہاد والد)اور ا س(زاہدہ بی بی)کی بیٹی نہیں ہوں ،بلکہ سعودی عرب کی شہری ہوں، اس نے کہا کہ اگر تم نے طلا ق لے لی تو تمہیں پورے پاکستان میں رات رہنے کے لئے جگہ تک نہیں ملے گی ، میں اپنی بیٹیوں کولیکر اسلام آباد آگئی اور فیملی کورٹ اسلام آباد میں خلع کا دعوی دائر کردیا ،اور ڈیڈھ سال بعد خلع ہوگئی ، جبکہ میرا سابق خاوند ایک کارحادثہ میں اپنے بھائی سمیت فوت ہوگیا ،میری سعودی حکومت کو دی گئی درخواست پر شرابت خان کو سعودی حکومت نے گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی تو مجبور ہوکر زاہدہ بی بی نے او پی ایف اور اسلام آباد ڈائیگناسٹک سنٹر کی چند کالی بھیڑوں کے ساتھ ساز باز کرکے ایک ڈرامہ رچاتے ہوئے زاہدہ بی بی کے ساتھ میر ا جعلی ڈی این اے کروایا جوکہ میچ کرگیا ، اور اس کی بنیاد پر شرابت خان کی جان چھوٹ گئی اور وہ پاکستان آکر کچھ عرصہ بعد فوت ہوگئے ، بعد ازاں میں نے کے آر ایل ہسپتال سے اپنے طور پراپنا ڈی این اے کروایا، اور متعلقہ ڈاکٹر عبدالحمید نے ڈی این اے رپورٹ دیکھ کر انتہائی حیرت زدہ انداز میں مجھے بتایا کہ آپ کا پروفائل پاکستانی عوام کے سٹینڈرڈ سے نہیں ملتا ہے ،یعنی اس رپورٹ کے مطابق میں پاکستانی شہری نہیں ہوں، ڈاکٹر عبدالحمید نے کہا کہ ہم نے اب تک ہزارہا ڈی این اے سرچ کئے ہیں لیکن آپ کا پروفائل پاکستانی عوام کے پروفائل سے بالکل مختلف ہے ،ڈاکٹر نے اپنی تسلی کے لئے میرے خون کو دوبارہ سرچ کروایا تو بھی یہی نتیجہ آیا ،اس رپورٹ کے ذریعے ہی میرا موقف ثابت ہوتا ہے کہ میں شرابت خان اور ان کی اہلیہ زاہد بی بی کی بیٹی نہیں ہوں اور ان لوگوں نے مجھے سعودی عرب سے اغوا کرکے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کے ذریعے مجھے نام نہاد بیٹی بنایا ہوا تھا،درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری یاکسی عالمی معیار کی لیبارٹری سے زاہد ہ بی بی اور اس کے بچوں کے ساتھ اس کا ڈی این اے کروانے کا حکم جاری کیا جائے ، وزارت خارجہ کو حکم جاری کیا جائے کہ وہ سفارتی سطح پر یہ معاملہ سعودی حکومت کے سامنے اٹھائے اور میری درخواستوں پر (نام نہاد والد )شرابت خان کے خلاف سعودی عرب میں ہونے والی فوجداری کارروائی اور ان کا نام ای سی ایل پر ڈالنے سے متعلق تمام تر ریکارڈ سعودی حکومت سے سفارتی ذرائع سے منگوا کر جائزہ لیا جائے ،ڈی جی ، ایف آئی اے کو زاہدہ بی بی اور اس کے مرحوم شوہر کے خلاف مجھے اغوا کر کے پاکستان لانے اور جعلسازی سے میرا اندراج اپنے خاندان کے ساتھ کرانے کے جرم میں ایف آئی آر درج کرنے جبکہ زاہدہ بی بی اور اسلام آبا د ڈائیگناسٹک سنٹر کی انتظامیہ کے خلاف یہ جعلی ڈی این اے رپورٹ بنانے کے جرم میں ایف آئی آر در ج کر نے کا حکم جاری کیا جائے ، اور آئی جی اسلام آباد کو مجھے تحفظ فراہم کرنے کا حکم جاری کیا جائے،اس حوالے سے سپریم کورٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ آئندہ چند روز میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لاہور سے ڈی این اے کا نتیجہ موصول ہو جائے گا اور ڈی این اے رپورٹ میں درخواست گزار کی ولدیت ،خمیر اور قومیت کا تعین ہونے کی روشنی میں اس کیس کو آگے بڑھا یا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے