کنٹینر والا خطاب اور نعرے بازی

وزیراعظم عمران خان کا کنٹینر والا خطاب۔ وزیر اعظم …. ووٹ چور کے نعرے

قومی اسمبلی سے نوشین یوسف

قائد ایوان کے چناؤ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو شور شرابے کا آغاز گیلریوں میں موجود پی ٹی آئی کے مہمانوں نے کر دیا ۔ شہباز شریف جب ن لیگ کے ارکان کے ساتھ ایوان میں پہنچے تو گیلریوں سے پی ٹی آئی کے کارکنان نے نعرے بازی شروع کر دی ۔ اسپیکر نے گیلریوں میں موجود کارکنان کو خاموش کرا دیا ۔ لیکن اس سب عمل نے پھر ن لیگ کے ارکان قومی اسمبلی کو جارحانہ کر دیا ۔ اجلاس کا آغاز ہی عمران خان کے خلاف نعرے بازی سے شروع ہوا ۔ پی ٹی آئی کے کسی ممبر قومی اسمبلی نے نعرے لگایا ‘وزیر اعظم ‘ جواب میں مسلم لیگ کے ڈھیروں ارکان کا جواب آیا ‘ ووٹ چور ‘ ۔ بس پھر عمران خان کی نشست کے سامنے کھڑے کیل داس کوہستانی، خواجہ آصف ، رانا ثنا اللہ ، مہناز عزیز دیر تک نعرے لگاتے رہے ۔ آخر خورشید شاہ اور دیگر ممبران نے اٹھ کر مسلم لیگ ن کے ارکان کو ان کی نشستوں کی جانب لایا ۔ اور کچھ دیر کا سکون ایوان کے نصیب میں آیا ۔
اسپیکر نے وزیراعظم کے چناؤ کے لیے الیکشن عمل شروع کرنے کا آغاز کیا تو سب سے پہلے ہی عمران خان خود کو ووٹ دینے اپنی لابی میں پہنچ گیے ۔ وزیراعظم کے چناؤ کے جمہوری عمل سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی نے ووٹ ڈالنے سے اجتناب کیا ۔ پارلیمان کی بالادستی کے عملبردار آصف علی زرداری ایوان میں تشریف نہ لائے ۔
ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا، اسپیکر نے کامیاب امیدوار عمران خان کے 176 ووٹوں کا اعلان کیا۔ پی ٹی آئی کے ارکان نے ڈیسک بجا کر وزیراعظم عمران خان کے نعرے بلند کیے ۔ اور دوسرے جانب سے مسلم لیگ ن کے ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے آ گئے اور پھر 45 منٹ مسلسل ایوان میں صرف نعرے گونجے ۔ خواجہ آصف ، خرم دستگیر ، رومینہ ، مائزہ حمید ، رانا ثنا اللہ ، کیل داس کوہستانی نے نعرے لگائے۔ عمران خان کے گرد ان کی خواتین ممبران نے حصار باندھ لیا، شہریار آفریدی ساتھ کھڑے ہو گئے ۔ ایوان میں وزیر اعظم نواز شریف، ووٹ کو عزت دو کے نعرے گونجے ۔ ساتھ ایک دلچسپ نعرہ لگا ‘ ‏محمکہ زراعت کا جو مالی ہے۔ وزیر اعظم جعلی ہے ‘ ۔ لیکن اس دوران دلچسپ مشاہدہ یہ سامنے آیا کہ عمران خان کے دفاع میں پی ٹی آئی کے ارکان کی زیادہ تعداد سامنے نہ آئی ۔ جب کہ مسلم لیگ ن کے احتجاج کرنے والے ارکان وہ تھے جن کے احتجاج میں ان کے جذبات شامل تھے ۔ اس کے برعکس حکومتی بنچز پر موجود اکثریت ان ارکان کی تھی جو دوسری جماعتوں سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ۔اس حالت کے پیش نظر اسپیکر نے اجلاس میں پندرہ منٹ کی بریک کر دی ۔ اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو حالات جوں کے توں رہے ۔
قائد ایوان وزیراعظم عمران خان کو دعوت خطاب دیا گیا تو آواز اپوزیشن کے نعروں تلے دبی رہی ۔ عمران خان بھی مسلم لیگ کے ارکان کا اتنا دباو برداشت نہ کر پائے اور کنٹینر پر چڑھ کی جانے والی تقریر کر ڈالی ۔ قائد ایوان نے پلیٹ فارم کو قوم سے خطاب کرنے کی بجائے ، اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لینے کیلئے استعمال کیا ۔ شریف فیملی کو بتایا کہ کوئی این آر او نہیں ملنے والا، وہ کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے ۔ وزیراعظم بن کر بھی عمران خان احتجاجی موڈ میں ہی رہے ۔
شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے نعروں تلے تقریر شروع کی ، جو عمران خان کی تقریر کا جواب تھا ۔ شہباز شریف نے تیس دن کے اندر دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔ اسپیکر نے تقریر ختم ہونے سے قبل ہی ان کا مائیک بند کرا دیا ۔ دوبارہ بات کرنے کی دعوت دی تو شہباز شریف نے بطور احتجاج خطاب نہیں کیا ۔
شہباز شریف کی تقریر کے بعد ماحول میں خاموشی آ گئی اور بلاول بھٹو کی تقریر کی باری آئی ۔
بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں خوب داد سمیٹی ۔ ایک بہت اچھی بلکہ گڈ گڈ تقریر کی ، جس پر اسکول میں فرسٹ پرائیز بھی ملتا ہے ۔ بلاول نے اس تقریر کے زریعے کامیابی کے ساتھ یہ بات دبا دی کہ قائد ایوان کے الیکشن میں جمہوریت کی پیٹھ پر ووٹ نہ ڈال کر کس نے وار کیا ہے ۔ بلاول نے اپنے الفاظ کی شیرینی کے زریعے اپنی جماعت کے اس بھیانک فعل کو چھپا دیا جو انھوں نے اپوزیشن کے اتحاد میں دراڑ ڈال کر کیا ۔ بلاول نے دونوں جماعتوں کو جھاڑ پلا کر جمہوری روایات کا درس پڑھایا ۔ بلاول نے عمران خان کو وزیراعظم سلیکٹ کہا لیکن اس سلیکٹ وزیراعظم کے آسانی کے ساتھ قائد ایوان نے منتخب ہونے میں اپنے کردار پر پردہ ڈال گئے ، جو ان کی جماعت نے ووٹ نہ ڈال کر ادا کیا ۔
‏قائد ایوان کے انتخاب میں ووٹ نہ ڈالنے کے بعد ، بلاول بھٹو نے عمران خان اور شہباز شریف کو جمہوریت پر خوب درس دیا ۔ بلاول کی تقریر ایسی ہے تھی جیسے بینک لوٹنے کے بعد واپس جاتے ڈاکو کی طرف سے واللہ و خیر الرازقین کا نعرہ۔
شاہ محمود قریشی نے اپنی تقریر میں بتایا کہ عمران خان کیا کیا باتیں کرنا چاہتے تھے لیکن اپوزیشن کے دباو میں آکر انھوں نے جو تقریر کی وہ اس میں وہ باتیں کرنا بھول گئے ۔ شاہ محمود نے بہترین انداز میں عمران خان کی اس کمزوری کو بے نقاب کر دیا ۔
قومی اسمبلی میں آج کے دن بہت سی ایسی باتیں ہوئیں جو جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں ۔ کسی بھی قائد ایوان کی پہلی تقریر بے نظمی کا شکار ہو گئی ، ایوان کا ماحول کٹھن رہا ۔ ایک بڑی تعداد میں ممبران نے ووٹ نہ ڈال کر جمہوری عمل پر منفی اثر ڈالا ۔ لیکن ساتھ ہی مسلم لیگ ن کے ارکان نے یہ ثابت کیا کہ وہ نواز شریف سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں ،اور اپنے لیڈر کے پابند سلاسل ہونے نے انھیں کتنا گہرا گھاو دیا ہے ۔
عمران خان اپنا یہ تاثر چھوڑ گئے ہیں کہ زرا سے دباو میں آکر وہ حواس باختہ ہو جاتے ہیں ۔ یہ رویہ ملکی اہم معاملات میں انھیں اور ملک کو بے پناہ نقصان دے سکتا ہے ۔
آج کا اجلاس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آنے والے دن عمران خان اور ان کی حکومت سکون سے نہیں گزار پائے گی ۔ مسلم لیگ ن انھیں ایوان کے اندر بہت ٹف ٹائم دے گی ۔ عمران خان نے پانچ سال جو ن لیگ کا حشر کیا، نواز شریف کی حکومت کیلئے جتنی دشواریاں پیدا کیں ۔ اس سب کا جواب انھیں ملنے کا آغاز ہو گیا ہے ۔ ن لیگ اپنی قیادت کے جیل میں ہونے پر غصے میں ہے، اور وہ عمران خان کو آسانی کے ساتھ حکومت چلانے کی اجازت دیتے دکھائی نہیں دے رہے ۔
تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اپوزیشن لیڈر سے حکمران بن پائیں گے ؟

متعلقہ مضامین