مشرف غداری کیس کی سماعت

خصوصی عدالت میں پرویز مشرف سنگین غداری کیس کی سماعت جسٹس یاور علی اور جسٹس نزر اکبر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ۔ عدالت نے پوچھا کہ استغاثہ کے وکیل اکرم شیخ کیوں پیش نہیں ہوئے، اگر ان کو پیش نہیں ہونا تھا تو عدالت کو درخواست دے کر آگاہ کرتے ۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اکرم شیخ ناسازی طبیعت کی بنا پر ملک سے باھر ہیں آج نہیں آسکتے، اور وہ اپنا استعفا وزارت داخلہ کو بھیج چکے ہیں۔ جسٹس یاور علی نے پوچھا کہ کیا ملزم پیش ہورہا ہے۔ وکیل اختر شاہ نے کہا کہ میرے موکل پیش ہونا چاھتے ہیں لیکن ان کو صدارتی سیکورٹی ملنا چاہئیے، میرے موکل اس وقت پیش ہونگے جب ان کو تحفظ ملے گا۔

جسٹس یاور علی نے کہا کہ میرے ساتھی جج کا موقف ہے کہ ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہو چکے ہیں ان کو تحفظ دینا حکومت کی زمہ داری ہے۔ جسٹس یاور علی نے کہا کہ وکیل صاحب اپ کہتے ہیں جب تک ملزم کو پراپر سیکیورٹی نہیں دی جاتی وہ پیش نہیں ہونگے۔ سابق فوجی وکیل اختر شاہ نے کیس میں غیر متعلقہ گفتگو شروع کی تو جسٹس یاور علی نے کہا کہ وکیل صاحب آپ وہ دلائل دیں جو ضروری ہے، غیر ضروری دلائل مت دیں۔ جسٹس یاور علی نے کہا کہ ھمیں ضابطہ فوجداری کے سیکشن 342 کے بیانات لینے ہیں۔ جسٹس یاور علی نے وکیل سے پوچھا کہ اختر شاہ کیا آ پ کو اس کیس میں پیش ہونے کی پہلے اجازت دی گئی تھی۔ وکیل نے جواب دیا کہ مجھے اس وقت اجازت دی گئی تھی جب فروغ نسیم اور فیصل چوھدری پیش ہو رہے تھے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر سیکریٹری داخلہ خصوصی عدالت میں پیش ہوں ۔

وکیل نے کہا کہ میں نے مشرف کی والدہ کی طرف سے درخواست دی ہے ان کی پینشن روک دی گئی ہے، والدہ کو ان کے شوھر کی پینشن ملتی ہے جو اب نہیں ملتی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اس درخواست کو بعد مں دیکھ لیں گے۔ سماعت 29 اگست تک ملتوی کر دی گئی ۔

واضح رہے کہ اس کیس میں سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی جانب سے پیش ہونے والے دونوں وکیل اب نئی حکومت میں اہم عہدوں پر آ گئے ہیں ۔ فروغ نسیم وزیر قانون بن گئے ہیں جبکہ انور منصور کا نام اٹارنی جنرل کے عہدے کیلئے فائنل کیا جا چکا ہے ۔

تجزیہ کاروں اور ناقدین کی اس مقدمے پر خصوصی نظر ہے اور اس کیس کو انصافی حکومت کی تبدیلی کے دعوؤں کا پہلا امتحان قرار دیا جا رہا ہے ۔

متعلقہ مضامین