ہائیکورٹ میں نیب وکیل کی مشکل

ایون فیلڈ ریفرنس کے تینوں ملزمان عید اڈیالہ جیل میں ہی گزاریں ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزا معطلی کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا، درخواستوں کا فیصلہ موخر کر دیا گیا، موسم گرما کی تعطیلات کے بعد اپیلوں کے ساتھ سنایا جا سکتا ہے ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نواز شریف، مریم نواز اور کپيٹن صفدر کی سزا کیخلاف درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواستوں پر فیصلہ موخر کردیا، حکم دیا کہ درخواستوں پر فیصلہ ملزمان کی اپیلوں پر سماعت کے بعد یا ساتھ سنایا جائے گا، اسلام آباد ہائی کورٹ میں موسم گرما کی تعطیلات 9 ستمبر کو ختم ہوں گی، جسکے بعد ایون فیلڈ ریفرنس کی سزا اور ضمانت سے متعلق اپیلوں کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا، اسلام آباد ہائی کورٹ کے مختصر حکم نامے کے مطابق مناسب ہوا تو آیندہ سماعت پر درخواست سے متعلق بھی فیصلہ سنایا جا سکتا ہے،
ایون فیلڈ ریفرنس کے تینوں ملزمان نواز شریف، مریم نواز اور کپيٹن صفدر کو عید الضحٰی اب اڈیالہ جیل میں گزارنی ہوگی،

اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا کے خلاف نواز شریف کی اپیل کی سماعت کے دوران کئی مواقع پر نیب پراسیکیوٹر کو دلائل کے دوران مشکل پیش آ ئی ۔

جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کی۔ نیب کے ایڈیشنل پراسیکوٹر کے دلائل کے دوران جسٹس گل حسن نے سوال پوچھا کہ کیا التوفیق کیس میں نواز شریف کا نام ہے؟ ۔ پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ نہیں ہے سر ۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ چلیں مان لی آپ کی بات، یہ بتائیں اس کیس میں نواز شریف کہاں سے آیا؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ابھی آرہا ہے سر ۔ اس پر عدالت میں ہنسی کی آواز سنائی دی ۔

ایک موقع پر عدالت کےسوال کے جواب میں ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے حوالہ دیا کہ سپریم کورٹ یہ معاملہ سن چکی ہے ۔ جس پر جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ پھر ٹرائل کورٹ (نیب عدالت) کا کیا کام تھا؟ صرف سزا پر مہر لگانا؟ ۔ ایڈیشینل پراسیکیوٹر نے کہا کہ نہیں سر، لیکن وہ سپریم کورٹ سر ۔ جس پر جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم یہاں صرف ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو دیکھ رہے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے