نیب کے دونوں ریفرنس ایک ساتھ

احتساب عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنس ٹرائل ایک ساتھ چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ریفرنس کی مزید سماعت کیلئے سپریم کورٹ کو درخواست لکھنے کی بھی ہدایت کردی ہے ۔ نواز شریف نے عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو بھی کی ۔
اڈیالہ جیل سے تیسری بار نواز شریف کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ملک ارشد نے کی۔ سماعت شروع ہوئی تو جج نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا اپ ڈیٹ ہے؟ خواجہ حارث نے استدعا کہ انہیں ایون فیلڈ سزا کیخلاف اپیلوں پر اہم ترین سماعت کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچنا ہے،درخواست ہے کہ جانے دیا جائے اور تفتیشی افسر کی بجائے واجد ضیاء پر جاری جرح مکمل کرنے دی جائے ۔
نیب نے اعتراض کیا، ملزم کی موجودگی ضروری ہے، آپ کی نہیں، آپ چاہیں تو چلے جائیں، تفتیشی افسر کا بیان ہے، جرح نہیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ ریکارڈ نکلوا لیں، اپنی عدم موجودگی میں جرح تو کیا کبھی بیان بھی ریکارڈ نہیں کرایا ۔
نیب پراسکیوٹر نے جج سے مخاطب ہوتے کہا کہ عدالت کو کسی نے ڈکٹیٹ نہیں کرنا، عدالت جو فیصلہ کرے گی قبول ہوگا ۔  خواجہ حارث کی استدعا منظور کرتے ہوئےاحتساب عدالت نے مالعزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنس ٹرائل ساتھ ساتھ چلانے کا فیصلہ کر لیا۔ساتھ ہی تفتیشی افسر کی بجائے اب پہلے واجد ضیاء کا بطور گواہ دونوں ریفرنسز میں بیان اور جرح مکمل کرنے کا بھی حکم دیدیا ۔

سپریم کورٹ کی جانب سے احتساب عدالت کو دی گئی مہلت ختم ہونے پر اب احتساب عدالت سپریم کورٹ سے مزید وقت مانگے گی ۔

سماعت 27 اگست تک ملتوی کر دی گئی ۔آئندہ سماعت پر خواجہ حارث العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء پر جرح جاری رکھیں گے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے