انصاف کا ترازو

یہ اکابرینِ ملّت اوربزرگانِ دین کا عکس ہیں ۔ یہ ہارڈ ورک اور تقوی پر بیلیو کرتے ہیں۔ ان کی ساری لائف اونسٹی، پرہیزگاری، باکرداری اور رزقِ حلال پر بَیس ہے۔ یہ ورلڈ کپ جیت گئے۔ انہوں نے ہسپتال بنا دیا۔ یہ حمید گل سے ملے۔ وہ ایک جوہری تھے۔ انہوں نے پہچان لیا کہ یہی وہ شہسوار ہے جس کا ملّت اسلامیہ کو انتظار ہے۔ یہ سیاست میں آگئے۔ انہوں نے 22 سال سٹرگل کی۔ یہ آخر کار کامیاب ہوگئے۔ ان کی کامیابی کی داستان کسی ہالی ووڈ بلاک بسٹر سے کم نہیں۔ یہ داستان کسی اور وقت بیان کی جائے گی۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ یہ کیسے اپنے وعدے پورے کرتے ہیں۔

کچھ سال پہلے ازلی دشمن انڈیا کا ایک جاسوس کلبھوشن جادھو بلوچستان سے پکڑا گیا۔ یہ بہت ظالم اور مکار تھا۔ یہ وطن پاک میں دہشت گردی کراتا تھا۔ یہ معصوم پاکستانیوں کو قتل کردیتا تھا۔ یہ دھماکے کرکے پُل اور تنصیبات تباہ کردیتا تھا۔ بہت جدوجہد کے بعد اس کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد وہ ہوا جو نہایت دردناک ہے۔ اس وقت کی حکومت اور وزیر اعظم اس کو چھوڑنا چاہتے تھے۔ یہ پاکستانیوں کے خون کو بیچ کر انڈیا سے دوستی کرنا چاہتے تھے۔ یہ انڈیا کے سامنے سرنڈر کرنا چاہتے تھے۔ یہ کسی انٹرنیشنل فورم پر کلبھوشن جادھو کا نام نہیں لیتے تھے۔ یہ چاہتے تھے کہ اس سنگدل ، سفاک اور مکار دشمن کو رہا کردیا جائے۔ یہ سب مودی کے یار تھے۔ یہ پاکستان کے غدّار تھے۔ اس کڑے وقت پر جس نے آواز بلند کی وہ ہمارے موجودہ قائد ہیں۔ انہوں نے اس دشمن کو سنگین ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا لیکن مودی کے یاروں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ یہ جرات مندانہ کام کرسکیں۔ یہ دشمن اتنے سال پاکستانیوں کے پیسوں پر پَلتا رہا۔ یہ جیل میں مفت کی روٹیاں توڑتا رہا۔ یہ خالص غذا کھا کے موٹا بھی ہوگیا۔ اس کے چہرے پر روپ بھی آگیا۔

آخرکار جنرل حمید گل کی پیشگوئی 25 جولائی کو پوری ہوئی۔ وہ شہسوار جس کا انتظار پوری ملّت اسلامیہ کو تھا وہ اسلام کے قلعے کا کماندار بن گیا۔ فرش و عرش پر اس فتح کا جشن منایا گیا۔ قدسی نفوس اس جشن میں پیش پیش تھے۔ قلعے کی کمان سنبھالتے ہی اس رات قائد جیل میں پہنچے۔یہ شام کو جاگنگ کا بہانہ کرکے نکلے۔ پی کیپ الٹی کرکے پہنی، کالی عینک لگائی اور بھیس بدل کر جیلر کے کمرے میں پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے کیپ اور عینک اتاری تو جیلر کو پتہ چلا کہ یہ قائد ہیں۔ وہ آپ کی اس سادگی پر مبہوت رہ گیا۔ اس نے دریافت کیا کہ میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے کلبھوشن کی کوٹھڑی تک لے جاؤ۔ اس وقت تک جیل میں خبر پھیل گئی کہ قائد تشریف لائے ہیں۔ پوری جیل نعرۂ تکبیر سے گونج اٹھی۔ آپ جیل میں جہاں جہاں سے گزرے وہاں قیدیوں نے "مَانَا آیا، مَانَا آیا”کے نعروں سے آپ کا استقبال کیا۔

اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے کلبھوشن کو پتہ چل گیا کہ وہ ہوگیا ہے جس اندیشہ پوری دنیا کے کفّار کو تھا۔قائد اسلامی قلعے کے کماندار بن گئے ہیں۔ یہ ڈر گیا۔ یہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگا۔ اسی اثناء میں قائد، جیلر کے ساتھ کلبھوشن کے کوٹھڑی کے سامنے پہنچ گئے۔ آپ نے جیلر سے کہا کہ کوٹھڑی کا دروازہ کھولو۔ دروازہ کھلا، آپ اندر داخل ہوئے ۔ دروازہ بند کیا اور جیلر کو لاک کرنے کا کہا۔ کلبھوشن جان گیا تھا کہ اب اس کی زندگی چند ثانیوں کی مہمان ہے۔ آپ نے کلبھوشن کو للکارا، "اوئے۔۔۔ دشمنِ اسلام و پاکستان، کھڑا ہوجا، تیری موت کا وقت آگیا ہے۔”

کلبھوشن ایک اعلی تربیت یافتہ جاسوس اور کمانڈو تھا۔ اس نے دیکھا کہ دروازہ لاک ہے اور قائد اکیلے ہیں۔ اس نے ایک دم چھلانگ لگائی۔ ہوا میں 180 ڈگری گھوم کر فلائنگ کِک لگائی۔ قائد نے بائیں ہاتھ کی جنبش سے فلائنگ کِک بلاک کی۔ اوپری جسم کو دائیں طرف جھکایا اور دائیں ہاتھ کی کھڑی ہتھیلی سے کلبھوشن کی ٹانگ پر وار کیا۔ کڑک کی آواز آئی اور کلبھوشن کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ وہ کراہتا ہوا اٹھا اور ایک ٹانگ پر گھوم کربائیں طرف جھکائی دی تاکہ دائیں طرف سے قائد کی پسلیوں پر کھڑی ہتھیلی کا وار کرکے دل کو جانے والی مرکزی شریان کو بلاک کردے۔ یہ مارشل آرٹس کا خطرناک ترین داؤ ہے جسے سنگ ہی سپیشل کہتے ہیں۔ پوری دنیا میں اس داؤ کو لگانے والے صرف تین افراد ہیں۔ کلبھوشن یہ نہیں جانتا تھا کہ قائد بھی اس داؤ سے واقف ہیں۔ قائدتھوڑا سا دائیں طرف جھکے، کلبھوشن کے دائیں ہاتھ کو بلاک کیا اور اس کی بغل کے نیچے ہاتھ دے کر اسے سامنے والی دیوار پر دے مارا۔ کلبھوشن کا چہرہ اور سر دائیں طرف سے پچک گیا۔ مغز کے ٹکڑے اچھل کر دیوار پر چپک گئے۔ کلبھوشن میں ابھی جان باقی تھی۔ قائد نے کلبھوشن کی گردن کے گرد آرم لاک لگاکے جھٹکا دیا۔ کڑک کی آواز آئی اور گردن کی ہڈّی ٹوٹ گئی۔ اس کے ساتھ کلبھوشن جادھو جہنم رسید ہوگیا۔ قائد نے ٹی شرٹ کے دامن سے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔ جیلر نے دروازہ کھولا اور کلبھوشن کو مردہ حالت میں دیکھ کر نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ قائد نے جیلر کو ہدایت کی کہ اس کی نعش یہیں پڑی رہنے دے۔

اگلی صبح قائد، خاتونِ اوّل کے ساتھ دوبارہ جیل آئے۔ کلبھوشن کی کوٹھڑی میں گئے۔ خاتونِ اوّل نے چند عملیات پڑھ کے کلبھوشن جادھو کی طرف پھونک ماری تو وہ کھانستا ہوا اٹھ بیٹھا۔ قائد نے کلبھوشن کو گردن سے پکڑ کر کھڑا کیا۔ اس کے منہ پر الٹے ہاتھ کا تھپّڑ رسید کیا اور کہا، "تم نے سینکڑوں معصوم پاکستانیوں کا خون کیا ہے۔ تمہیں اتنی آسان موت نہیں ملے گی۔ ہر رات میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے جہنم رسید کروں گا اور اگلی صبح خاتونِ اوّل تمہیں زندہ کریں گی۔ پانچ سال تمہیں ہر روز جینا اور ہرروز مرنا پڑے گا۔ یہ میرا انصاف ہے۔ "

متعلقہ مضامین