روس نیٹو کشیدگی اور طالبان

روسی اور نیٹو میں ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہو گئی ہے جبکہ روس میں ہونے والے اجلاس میں طالبان کی شرکت کی تصدیق کے بعد افغانستان نے شریک ہونے سے انکار کیا ہے ۔

بی بی سی کے مطابق روسی صدر ولادیمر پوتن نے نیٹو پر روسی سرحد کے قریب فوجی اثاثے تعینات کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کو جواباً اپنے دفاع کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے جبکہ نیٹو کا کہنا ہے کہ اس کا یہ قدم اپنے مینڈیٹ کے مطابق ہے اور فوجی اثاثوں کی تعیناتی دفاعی نوعیت کی ہے اور ضرورت کے مطابق ہے۔

فن لینڈ میں پریس کانفرنس سے خطاب میں صدر پوتن نے نیٹو پر الزام لگایا کہ نیٹو روس کے ساتھ فوجی فلائٹس کے قوانین پر بات چیت سے انکار کر رہا ہے تاہم نیٹو نے صدر پوتن کے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو روس کونسل کے اجلاس میں فوجی فلائٹس کے قوانین پر بات چیت ہوئی تھی ۔

روسی صدر اور نیٹو کے درمیان الزامات کا تبادلہ اس دن ہوا ہے جب برطانیہ نے کہا کہ اس نے رومانیا میں تعینات دو جنگی جہازوں کو اس وقت پرواز بھرنے کا حکم دیا جب مبینہ روسی جیٹ فائٹر بحیرہ اسود پر نیٹو کی فضائی حدود کی جانب جا رہا تھا۔

دوسری جانب افغان طالبان کا کہنا ہے کہ روس میں امن مذاکرات میں ان کے سینیئر رہنما حصہ لیں گے ۔ افغان طالبان کا یہ بیان اس وقت آیا جب چند گھنٹے قبل ہی افغان حکومت نے ان مذاکرات میں حصہ لینے سے انکار کا اعلان کیا ۔ روس نے افغانستان پر بات چیت کے لیے کئی ممالک کو مدعو کیا ہے جس میں امریکہ بھی شامل ہے۔ تاہم امریکہ اور افغانستان دونوں ہی نے اس اجلاس میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے ۔

افغان حکومت نے ماسکو میں چار ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں شرکت سے انکار کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت طالبان کے ساتھ بغیر کسی دوسرے ملک کی مداخلت کے براہ راست بات چیت کرے گی ۔ یاد رہے کہ ایک دن قبل افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر نے روسی سفیر سے کہا تھا کہ روس طالبان پر دباؤ ڈالے کہ وہ حکومت سے مذاکرات کا آغاز کریں ۔

متعلقہ مضامین