ملائشیا نے چینی منصوبے ترک کر دیے

ملائشیا نے چین کے ساتھ دو بڑے منصوبوں کے معاہدے منسوخ کر دیے ہیں ۔ ملائشین وزیراعظم مہاتیر محمد نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں انفراسٹرکچر کے دو بڑے منصوبے ختم کر رہے ہیں جن چینی کمپنیاں کام کر رہی تھیں ۔ وزیراعظم کے مطابق یہ قرضوں میں ڈوبے ملک کیلئے بہت مہنگے ثابت ہو رہے ہیں اور اس سے ملائشیا کا دیوالیہ نکل سکتا ہے ۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جن منصوبوں کو ختم کیا گیا ہے وہ چین کے ‘بیلٹ اینڈ روڈ اقدام’ کا حصہ ہیں ۔ واضح رہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت چین پورے براعظم ایشیا اور دنیا بھر تک اپنی مصنوعات سڑک کے ذریعے پہنچانے اور وہاں سے خام مال لانے کیلئے کوشاں ہے ۔

ملائشیا کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب کہ ایک دن قبل ہی چین کے صدر شی جن پنگ اور مہاتیر محمد نے ایک پرتکلف عشائیے پر ملاقات کی تھی اور کہا گیا تھا کہ ‘باہمی سیاسی اعتماد کو بڑھایا’ جائے گا اور اس کیلئے مثبت سوچ کا اظہار ہوا تھا ۔

مہاتیر محمد نے کہا کہ ‘مجھے یقین ہے کہ چین خود بھی یہ نہیں چاہتا کہ ملائشیا کا دیوالیہ نکل جائے، چین ہمارے مسائل کو سمجھتا ہے اور اس سے متفق ہے’ ۔

ان میں سے ایک منصوبے ‘مشرقی ساحلی ریلوے لنک’ نے جنوبی چین کے سمندر کو ملائشیا کے مغرب میں اہم تجارتی گزرگاہ سے جوڑنا تھا ۔ دوسرا منصوبہ ملائشیا کی ریاست سباح (بورنیو جزیرہ) میں قدرتی گیس کی پائپ لائن کا تھا ۔

متعلقہ مضامین