فراڈ کا بوجھ

اظہر سید

جھوٹ اور فراد کا بوجھ اٹھانا ممکن نہیں ہوتا یہ پلٹ کر آتا ہے جھوٹ کی بنیادوں پر قائم عمارت گرتی ہے معمار اس کے بوجھ تلے دب مرتے ہیں یہ تاریخ کا سبق ہے اور بار بار دوہرایا جاتا ہے۔ ابھی عشق کی ابتدا ہے مدینہ کی مثالی ریاست کے خدوخال سامنے انے لگے ہیں کچھ وقت گزرے گا سب کچھ صاف صاف سامنے آجائے گا ۔
کہتے ہیں وزیراعظم نے عید کی نماز نہیں پڑھی تو ذاتی فعل ہے دور کی کوڑی لاتے ہیں یہ نماز واجب ہے فرض نہیں ۔ٹھیک ہے یہ جواز عام لوگوں کیلئے ہے منتخب وزیراعظم پیمانے پر پورا نہیں اترتا ،وزیراعظم کی ذندگی اب ذاتی زندگی نہیں وہ عوام کو جوابدہ ہے اور جواب دینا ہوگا ۔ تنقید کرنے والے تنقید کریں گے مدینہ کی کونسی مثالی ریاست ہے جس میں مسلمانوں کا امیر عید کی نماز نہ پڑھے
ہر چیز کا جواب دینا ہو گا تمام دعوے تمام قسمیں اور تمام الزامات انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں محفوظ ہیں ۔آپ کی ٹوٰیٹ محفوظ ہے نواز شریف نے نجم سیٹھی کو کرکٹ بورد کا چیرمین نامزد کیا آپ نے قوم کا درد دل میں سموتے ہوئے کہا ” کرکٹ کی بربادی کی وجہ یہ ہے وزیراعظم بورڈ کا سربراہ مقرر کرتا ہے ”جھوٹ بولا تھا عوام کو گمراہ کیا تھا یا محض سیاسی بیان بازی کی تھی کیونکہ آپ نے پی ایس ایل پاکستان متعارف کرانے بین القوامی کرکٹ کی واپسی اور کرکٹ کی بہترین ٹیم بنانے والے نجم سیٹھی کو استعفی دینے کا پیغام بھیجا اور احسان مانی کو بورڈ کا سربراہ مقرر کر دیا آپ کے پاس بورڈ کے آئین کی رو سے اس کا اختیار نہیں تھا نجم سیٹھی استعفی نہ دیتے تو فراغت ممکن نہیں تھی سوائے سپریم کورٹ کے جو کسی آئنی نکتہ کا سہارا لے کر فارغ کرتی جس بات پر سابق وزیراعظم پر تنقید کی تھی خود وہی کام کیوں کیا ۔
آپ کا بار بار کا یہ اعلان کرنا عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے نہیں لوں گا ۔ قوم کو بھکاری نہیں بنائیں گے ۔ لوگ پاکستان آئیں گے ملازمتوں کیلئے ۔لوگوں نے نوجوانوں نے اعتماد کیا اعتبار کیا ،اب جواب دیں آپ کا وزیرخزانہ کیوں آئی ایم ایف سے قرضے لینے کی بات کر رہا ہے ،آپکی حکومت بھی اگر سابق حکومت کی طرح قوم کو بھکاری بنانے چل پڑھی ہے تو آپ میں اور نواز شریف میں کیا فرق ہے ؟ آپ تو دعوے کرتے تھے ہماری حکومت آنے دیں بیرون ملک پاکستانی اربوں ڈالر بھیجیں گے، عاملی مالیاتی اداروں سے ایک پیسہ لینے کی ضرورت نہیں پڑھے گی ۔کہاں ہیں وہ اربوں ڈالر ؟ ۔پیسے تو ملک میں کیا آنے تھے جو پہلے سے موجود تھے وہ پیسے بھی بھاگنا شروع ہو گئے ۔جی ہاں آپ نے وزیراعظم کا حلف لیا اگلے دن حصص بازار گر گیا سرمایہ فرار ہونے لگا اور جب سے پاکستان کا حصص بازار قائم ہوا ہے تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں حکومت کے نئے سربراہ کے حلف کے اگلے روز حصص بازار میں اضافہ ہوتا ہے لیکن آپ کو سرمایہ کاروں نے اپنے حصص فروخت کر کے فرار ہو کر سلامی دی ہے بیرون ملک سے اربوں دالر کون بھیجے گا ۔
آپ سادگی کا درس دیتے تھے یا عیاری کا قوم کو خطاب میں آپ نے کفائت شعاری کا بھاشن دیا لیکن اسی رات اسلام آباد کے 5 ستارہ ہوٹل سے 250 لوگوں کو شاندار عشائیہ دیا کیوں ؟ کیا قوم سے آپ کا خطاب محض فراڈ تھا یا اپ بھی قومی خزانے سے لوٹ مار جاری رکھیں گے پہلے والوں کی طرح ۔ ایک ٹی وی اینکر نے اپنے پروگرام میں سابق وزیراعظم کے چیک دیکھا دئے وزیراعظم ہاوس میں کھانے پینے اور مہمانداری کے اخراجات وہ خود اٹھاتے تھے ۔آپ کے وزیرطلاعات نے پریس کانفرنس میں کہا کہ چھ سات سو روپیہ ہونگے یہ بھی کہا کہ 95 کروڑ روپیہ کے وزیراعظم ہاوس کے اخرجات اگر اٹھائے ہیں تو ٹیکس گوشواروں میں کیوں نہیں ۔کیا کوئی سائبر سیل چل رہا ہے بات تو کھانے پینے کے اخراجات کی ہو رہی ہے وزیراطلاعات کس طرح قوم کو گمراہ کر سکتا ہے کہ سابق وزیراعظم کے وزیراعظم ہاوس کے سال کے بجٹ کا دعوی کیا گیا تھا ۔
چار سال تک قوم کو سوئس بینکوں میں لوٹ مار کے 200 ارب ڈالر جمع کرانے کے دعوے کئے گئے لیکن آپ کے وزیرخزانہ کہتے ہیں یہ انکشاف اسحاق ڈار نے کیا تھا ۔کیوں جھوٹ بولتے ہیں صرف ایک جملے کی تردید سے کام نہیں چلے گا آپ کے اور آپکی پارٹی کے راہنماوں کے چار سال کے دعوے محفوظ ہیں آپ اس سے بھاگ نہیں سکتے اور نہ لوگ آپ کو بھاگنے دیں گے ۔
آپ تسلسل سے الزام عائد کرتے تھے 300 ارب روپیہ روپیہ کی منی لانڈرنگ کی ہے نواز شریف اور انکے خاندان نے ۔اب آپ کو ثابت کرنا پڑھے گا یہ 300 ارب روپیہ کن منصوبوں سے کمائے گئے اور کن ملکوں میں بھیجے گے حکومت اب آپکی ہے اور تمام ادارے بھی اپ کے کنٹرول میں ہیں جس طرح آصف علی زرداری پر منی لانڈرنگ کے الزامات کی فرانزک رپورٹیں تیار ہو رہی ہیں نواز شریف اور انکے خاندان پر بھی اپنے الزمات ثابت کرنا ہو نگے دوسری صورت میں ان الزامات کا بوجھ پاکستان نہیں اٹھا سکے گا بدعنوانی اور کرپشن کے الزمات پر ایک منتخب حکومت کو چور کہہ کر فارغ کیا گیا ملکی معیشت برباد کر دی گئی اگر الزمات جھوٹے ثابت ہوئے تو کوئی معاف نہیں کرے گا ۔
تحریک انصاف سے محبت کرنے والے نوجوان آپ سے نہیں کرپشن اور بدعنوانی سے پاک پاکستان سے محبت کرتے ہیں آپ نے مدینہ کی مثالی رہاست کے خواب فروخت کئے ہیں یہ ریاست قائم نہ ہوئی تو یہی نوجوان آپ سے اس کا حساب لیں گے اور نوجوانوں کا احتساب بہت خوفناک ہو گا ۔

متعلقہ مضامین