مشرف کے ریڈ وارنٹ سے انکار

پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کے مقدمے میں وزارت داخلہ کے سیکرٹری نے خصوصی عدالت کو بتایا ہے کہ انٹرپول نے سابق ڈکٹیٹر کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی پاکستان کی درخواست مسترد کر دی ہے ۔

جسٹس یاور علی اور جسٹس نذر اکبر پر مشتمل خصوصی عدالت نے مقدمے کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ انٹرپول نے پرویز مشرف ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے، انٹر پول کا کہنا ہے سیاسی مقدمات میں ریڈ وارنٹ جاری نہیں کرتے ۔

خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس یاور علی نے کہا کہ آئندہ سماعت پر اگر مشرف نہیں آتے تو بتایا جائے کہ کیس کو کیسے حتمی نتیجے تک پہنچایا جائے، آئندہ سماعت پر ملزم کے 342 کے بیان پر بھی فریقین دلائل دے، بتایا جائے کہ کیا قانون کے مطابق یہ بیان آن لائن  ریکارڈ کیا جا سکتا ہے؟

پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں پراسکیوٹر اکرم شیخ نے خصوصی عدالت میں مقدمے سے علیحدگی کی درخواست دائر کردی اور کہا کہ نئی حکومت آچکی ہے, اکرم شیخ نے کہا کہ کیس چلانے یا نہ چلانے کا فیصلہ اب حکومت نے کرنا ہے، اس مقدمے میں مشرف کے وکلا بھی اب حکومت میں آچکے ہیں، وزارت داخلہ اب اس حوالے سے بہتر فیصلہ کرسکتی ہے ۔ عدالت میری درخواست قبول کرے گی تو وزارت داخلہ میرا مقدمے سے مستعفی ہونے کی درخواست منظور کرے گی ۔

مقدمے کی سماعت دس ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے