خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر میں تلخ کلامی

نواز شریف اور دیگر کیخلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت 3ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ۔ نواز شریف کے وکیل کا آج کی عدالتی کارروائی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ، ریفرنس ملتوی کرنے کی درخواست منظور کر لی گئی ۔ درخواست پر بحث کے دوران کمرہ عدالت میں بدمعاشی اور شٹ اپ جیسے الفاظ استعمال ہوتے رہے ۔
نواز شریف کیخلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی ساتویں سماعت بھی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے کی ، چوتھے روز بھی خواجہ حارث کی استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء پر جرح مکمل نہ ہوسکی ۔
دوران جرح خواجہ حارث نے حسین نواز کی آلٹر کمپنی رپورٹ سے متعلق استفسار کیا، واجد ضیاء نے بتایا کہ حسین نواز کو مطلوبہ ریکارڈ دیکھ کر بتایا کہ آلٹر کمپنی بیورو رپورٹ جے آئی ٹی کے سامنے پیش کی گئی،خواجہ حارث کے دوسرے سوال کے جواب میں گواہ نے بتایا کہ حسین نواز کے پانچ سیشن ہوئے لیکن جے آئی ٹی نے آلٹر بیورو رپورٹ سے متعلق تفتیش نہیں کی، خواجہ حارث نے گواہ کا بیان جاری تھا کہ سماعت وقفے کے بعد شروع ہوئی تو ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل نیب نے فاضل جج سے ریکارڈ شدہ بیان کی تصحیح کرنا چاہی، اعتراض کیا کہ واجد ضیاء سے براہ راست سوال کیا گیا تو اس کا براہ راست جواب لکھیں، وکیل صفائی میرے گواہ کے بیان کو اپنے تجویز کردہ سوال کے مطابق مت لکھوائیں،جج ارشد ملک کی موجودگی میں بیان تبدیل کردیا گیا، خواجہ حارث نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت افسوس ہوا، ابھی تو اونٹ ٹینٹ کے نیچے آنے لگا ہے، میں ریکارڈ خراب ہونے یا اس میں ٹمپرنگ کی اجازت کسی کو نہیں دونگا، جج نے ریمارکس دیئے کہ یہ بھی کوئی بات ہے بھلا، آپ بلا وجہ ناراض ہو رہے ہیں، جیسا عدالت میں ہوا بالکل ویسا ہی لکھا گیا ہے، خواجہ حارث وکالت نامہ واپس لینے کا کہتے ہوئے عدالت چھوڑ کر باہر آگئے ۔
تھوڑی دیر بعد معاون وکلاء کی جانب سے آج کی عدالتی کارروائی اسلام آباد ہائی کورٹ چیلنج کرنے اور کارروائی سوموار تک ملتوی کرنے کی درخواست دائر کی گئی۔
ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل نیب نے درخواست کی مخالفت کرتے کہا کہ خواجہ حارث کو یوں عدالت چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا، نواز شریف کے معاون وکیل کی مداخلت پر سردار مظفر نے کہا کہ مجھے بولنے دیں، آپ اپنی باری پر بولنا، معاون وکیل نے کہا کہ اونچا بولنے سے کچھ نہیں ہوگا، سردار مظفر بولے کہ بدمعاشی نہ کریں، تماشے نہ کریں، معاون وکیل نے جواب میں سردار مظفر کو بدمعاش کہہ دیا، دونوں فریقین کے وکلاء ایک دوسرے کو شٹ اپ شٹ اپ بولنے لگے، عدالت نے نواز شریف کی آج کی عدالتی کارروائی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے کے پیش نظر کیس التوا کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 3 ستمبر تک ملتوی کردی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے