یہ گجر کون ہے؟ چیف جسٹس

پاکپتن کے ڈی پی او رضوان گوندل کے تبادلے پر لئے گئے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ یہ گجر کون ہے؟ جمیل گجر کدھر ہے؟ ۔

پنجاب پولیس کے سربراہ کلیم امام نے جواب دیا کہ مجھے نہیں پتہ جمیل گجر کا ۔ آئی جی کلیم امام نے بتایا کہ مجھے پولیس سروس میں 31 سال ہو گئے ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ کیا یہ سیکھا آپ نے اس سروس میں، سیاسی دباؤ پر ڈی پی او کو اٹھا کر باہر پھینک دیا، رات ایک بجے ڈی پی او کو ٹرانسفر کر دیا، کیا یہ درست ہے؟ ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پولیس کو سیاسی دباؤ سے نکال رہے ہیں، پولیس ریفارمز کر رہے ہیں، آپ بھی ان اجلاسوں میں شریک تھے، سندھ پولیس کے سربراہ اے ڈی خواجہ کے مقدمے میں فیصلے دے کر پولیس کو با اختیار بنایا، سیاسی اور حکومتی دباؤ سے آزاد کرایا ۔ اب آپ جو کر رہے ہیں وہ پولیس اہلکاروں کو ڈی مورالائز کرے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھتا ہوں کون ہے وہ گجر، وہ کیسے ڈی پی او کا تبادلہ کرا سکتا ہے ۔

آئی جی نے کہا کہ میں قسم اٹھاتا ہوں کہ کسی دباؤ کے تحت تبادلہ نہیں کرایا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی قسم اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔  آئی جی نے بتایا کہ تبادلہ انتظامی ضرورت کے مطابق کیا جاتا ہے سیاسی دباؤ نہیں مانتا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق ڈی پی او رضوان گوندل کو اس لئے ہٹایا کہ ان کی جانب سے بتائی گئی اسٹوری درست نہیں تھی، اپنے ذرائع اور اسپیشل برانچ کے ذریعے معلوم ہوا کہ ان کے علاقے میں دو واقعات ہوئے تھے، یہ براہ راست ذمہ دار نہ تھے مگر ان کو ایکشن لینا چاہئے تھا اور مجھے آگاہ کرتے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر غلط بیانی کریں گے تو عدالت سے نکلتے وقت آئی جی نہیں ہوں گے ۔ رضوان گوندل نے کہا کہ ان کو وزیراعلی کے سیکرٹری نے فون کر کے بلایا، وہاں وزیراعلی کے ساتھ ایک شخص احسن گجر بھی موجود تھا جس نے کہا کہ خاور مانیکا کے ڈیرے پر جا کر معاملات درست کروں ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ پرائیویٹ بندہ تھا اور اس کا پورا نام احسن جمیل اقبال گجر ہے ۔ وزیراعلی کے سامنے اس نے بتایا کہ مانیکا خاندان کے خلاف سازش ہو رہی ہے ۔ احسن گجر کی بیوی اور خاتون اول آپس میں سہیلیاں ہیں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ گجر کی بیوی کا نام کیا ہے؟ پولیس افسر نے بتایا کہ فرح ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ وہی فرح ہے جس کے گھر خاتون اول کا نکاح ہوا تھا ۔

واقعہ کی انکوائری کرنے والے ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش نے بتایا کہ مانیکا فیملی چار بھائی ہیں ۔ احمد رضا مانیکا، فاروق مانیکا، معظم مانیکا اور خاور مانیکا ہیں ۔ بشری بی بی کی عمران خان سے شادی کے بعد چاروں بھائی کی آپس میں بول چال بند ہو چکی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ایک معمولی واقعہ میں وزیراعلی کہاں سے آ گیا؟ وزیراعلی کا یار کہاں سے آ گیا؟ آئی ایس آئی کا کرنل کہاں سے آ گیا؟ ۔ رضوان گوندل نے عدالت کو بتایا کہ ان کو خاور مانیکا کے ڈیرے پر جانے کیلئے آئی ایس آئی کے کرنل طارق نے بھی فیصل آباد سے فون کیا تھا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت نے تمام متعلقہ افراد کو فوری طب کیا تاہم وہ اسلام آباد نہ پہنچ سکے جس پر سماعت پیر 3 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے خاور مانیکا، احسن گجر، وزیراعلی کے سیکرٹری اور سیکورٹی افسر کو طلب کر لیا گیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے