چیف کا سلیوٹ

اظہر سید

نومنتخب وزیراعظم کی جی ایچ کیو آمد اور ارمی چیف کی طرف سے منتخب جمہوری وزیراعظم کو سلوٹ مارنے کی ویڈیو دیکھی توکنٹرولڈ ڈیموکریسی کنٹرولڈ میڈیا کنٹرولڈ عدلیہ اور کنٹرولڈ اداروں کی اصطلاح پر بے ساختہ پیار آیا اور سابق وزیراعظم نواز شریف پر بے پناہ غصہ بھی یہ سب ان کا کیا دھرا ہے ۔ووٹ کو عزت دو کو صرف نعرے تک محدود رکھتے تو خیر تھی انہوں نے تو لٹیا ہی ڈبو دی اپنی جماعت کی بھی اور جمہوریت کی بھی ۔شہباز شریف کی بنا کر رکھنے والی عادت کے ممکنہ فوائد سے بھی اپنی جماعت کو محروم کر دیا ۔عمران خان اگر وزیراعظم بنے ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی نواز شریف پر ہی عائد ہوتی ہے ۔شہباز شریف کو فری ہینڈ دے دیتے تو وزارت عظمی شہباز شریف کو مل جاتی بھلے ووٹ کو عزت نہ ملتی ۔
اس ملک میں ووٹ کو عزت ملے گی یا نہیں اس کا تو پتہ نہیں لیکن اس کی خبر پوری دنیا کو ہو چلی ہے کہ نومنتخب وزیراعظم نے جی ایچ کیو میں اجلاس کی صدارت کی ہے جس میں کابینہ اراکین تو تھے ہی اعلی فوجی حکام بھی موجود تھے ۔سابق وزیراعظم کا گناہ ناقابل معافی ہے انکی طرف سے مسلسل انکار نے اداروں کی ساکھ کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے ۔سابق وزیراعظم کے انکار نے پوری طاقت سے اداروں کے استمال پر مجبور کیا۔میڈیا پر قابو پانے کی جدوجہد میں بدنامی ہوئی الیکشن نتایج میں تاخیر کا ملبہ بھی اٹھانا پڑا اور بین القوامی میڈیا میں جو کارٹون بنائے گئے جو آرٹیکل انتخابی عمل اور انتخابی نتایج پر جاری اور شائع ہوئے اس کی ذمہ داری بھی سابق وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے ۔نواز شریف انکار نہ کرتے تو یہ سب کچھ نہ ہوتا اور نہ خوامخواہ کی بدنامی گلے پڑھتی اور نہ عمران خان کو وزیراعظم بنانا پڑتا اور نہ ہی اس طرز کا اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہوتا۔
شہباز شریف کے متعلق اعلی سطح پر نرم گوشہ موجود تھا اور یہ نرم گوشہ جنرل مشرف کے دور میں بھی موجود تھا جنرل راحیل شریف اور جنرل باجوہ کے دور میں بھی ۔سابق وزیراعظم عوام کی طاقت پر اعتماد کرنے چلے تھے وہی غلطی کر گئے جو بھٹو نے کی تھی نہ بھٹو کی پھانسی پر ہمالیہ رویا اور نہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کی شکست پر پنجاب میں کوئی ردعمل سامنے آیا اور آئے گا بھی نہیں ۔
سابق وزیراعظم نے صرف ضد کی لیکن درکار اقدامات نہیں کئے ۔گرفتاری کیلئے لاہور آمد پر اگر استبالیہ جلوس ائرپورٹ چلے جاتا پولیس تشدد کا سامنے کر لیتا کچھ نقصان ہو جاتا تو پنجاب کے دل لاہور میں نواز شریف کے استقبال کو روکے جانے پر اور ریاستی طاقت کے استمال پر ایک ردعمل پیدا ہوتا اور عام انتخابات میں ن لیگ کے ساتھ وہ کچھ نہ ہوتا جو ہو گیا ۔
پاکستان میں فوج بار بار اقتدار میں آئی ہے اور فوج کی طرف سے اقتدار میں مداخلت بھی تاریخ کا ایک حصہ ہے ۔فوج کی طرف سے کبھی نواز شریف کو ایجنسیوں کا فخر بنایا گیا تھا اور کبھی بھٹو بھی فوج کے سربراہ اور کمانڈروں کی آنکھ کا تارہ تھے اس ملک میں اگر کسی نے عوام کے زور پر اقتدار لیا ہے تو وہ صرف ایک لیڈر ہے اور وہ محترمہ بینظیر بھٹو ہیں وہ سیکورٹی رسک کہلائی جاتی رہیں کبھی انہیں طاقت کے اصل مرکز کی حمایت حاصل نہیں رہی ۔صرف ایک مرتبہ جنرل کاکڑ کی وجہ سے پیپلز پارٹی کا ووٹ چوری نہیں کیا گیا اور یہ محترمہ بینظیر بھٹو پر اسٹیبلشمنٹ کی واحد نیکی ہے ورنہ بی بی نے ہمیشہ عوام کی طاقت کے زور پر سیاست کی ۔نواز شریف اگر ووٹ کو عزت دینے کے نعرے میں میں سنجیدہ تھے تو انہیں مکمل مذاحمتی کردار کا روپ بھرنا چاہے تھا ۔مولانا فضل الرحمن عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچ جماعتوں کے ساتھ مل کر نتایج تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے حلف نہ اٹھاتے کم از کم جمہوریت کی طرف سفر کا آغاز تو ہوتا اور پیپلز پارٹی کو بھی اپنا جمہوری چہرہ بچانے کیلئے انکی طرف آنا پڑتا ۔
نواز شریف نے الیکشن نتایج کو بھی تسلیم کر لیا ہے اور پارلیمنٹ کو بھی اب جمہوریت مستحکم ہوتی ہے یا نہیں اس کی خبر نہیں لیکن جی ایچ کیو میں ایک اجلاس ضرور ہو گیا ہے یہ ووٹ کی عزت ہے یا نہیں اس کا فیصلہ مستقبل پر چھوڑتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے