مانیکا کی بیٹی کا کسٹوڈین

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد

سپریم کورٹ میں ڈی پی او پاکپتن ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ عدالت میں پنجاب پولیس کے سربراہ کلیم امام پیش ہوئے اور بتایا کہ دیگر پولیس افسران بھی حاضر ہیں ۔ ہم سب نے بیان حلفی بھی جمع کرا دیئے ہیں ۔

آئی جی نے بتایا کہ وزیراعلی کے پرسنل اسٹاف افسر اور چیف سیکورٹی افسر بھی آ چکے ہیں ۔  چیف جسٹس نے پوچھا کہ خاور مانیکا کدھر ہیں؟ اور وہ شخص کہاں ہے جو پراپرٹی ٹائیکون ہے؟ کوٹ پینٹ میں ملبوس ایک شخص نے آگے بڑھ کر بتایا کہ میں احسن اقبال جمیل ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تم وہی ہو نا جو اس دن وزیراعلی کے ساتھ تھے ۔چیف جسٹس نے آئی جی سے کہا کہ آپ کو معلوم ہونا چاہئیے تھا کہ آپ کے افسر کو وزیراعلی نے بلایا ہے ۔ آئی جی نے جواب دیا کہ میں نے بیان حلفی جمع کرایا ہے، اس میں لکھا ہے کہ رضوان گوندل کو آئندہ وزیراعلیٰ کے دفتر نہ جانے کا کہا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسی وقت کیوں نہ روکا؟ آئی جی نے کہا کہ اسلام آباد میں تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملاقات دس بجے تھی اور آپ کو تو ویسے بھی دعوی ہے کہ 24 گھنٹے کام کرتے ہیں تو فون پر احکامات دے دیتے کہ نہ جائیں ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ ہمیں فائل دکھائیں، ڈی پی او کا تبادلہ تحریری آرڈر کے زریعے ہوا یا زبانی احکامات سے؟ وہ فائل دے دیں جس پر نوٹنگ کی ہے، بتائیں پہلا نوٹس کب دیا؟ ۔ آئی جی نے جواب دیا کہ ڈی پی او کے تبادلے کا حکم زبانی دیا گیا، چونکہ یہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے اس لئے میں نے کہا کہ آج چلے جائیں آئندہ نہ جائیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو میرے ساتھ اجلاس یاد نہیں رہا جب میں نے کہا تھا کہ آج سے آزاد ہو جائیں اور ان سیاست دانوں کے محتاج نہ بنیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔ آپ اپنے افسر کو کہہ رہے ہیں کہ آج تو اس حاکم کی تعمیل فرما دیں اگلی دفعہ مت جائیے گا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق آئی جی نے کہا کہ حقائق چھپانے اور غلط بیانی کرنے پر رضوان گوندل کو تبدیل کیا گیا اور یہ بات انکوائری میں بھی سامنے آئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئی جی اگر آپ کی غلط بیانی ثابت ہوئی تو کیا ہوگا؟ ۔ آئی جی نے کہا کہ خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے زبانی حکم کیوں دیا، رات ایک بجے تبادلے کے احکامات کیوں جاری کئے، صبح نہیں چڑھنی تھی؟ ۔ احکامات دکھائیں ۔ آئی جی نے کہا کہ زبانی احکامات پر تبادلہ کے بعد تحریری طور پر ہدایت دی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تبادلے کے بعد جاری کیا گیا تحریری حکم ہی دکھا دیں ۔ آئی جی نے کہا کہ وہ آج بنایا جانا تھا ۔ چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کیا تو آئی جی نے کہا کہ ماضی میں بھی رات کو احکامات جاری کئے جاتے رہے ہیں، جب میں اسلام آباد میں ایس ایس پی تھا تو رات دو بجے معطل کیا گیا تھا ۔

چیف جسٹس نے آئی جی سے کہا کہ آپ کو چیمبر میں بھی کہا تھا کہ عدالت سے سچ بولیں، کیا آپ نے احسن گجر کے خلاف کوئی کارروائی کی؟ اس کی کیا حیثیت ہے؟ یہ ہوتا کون ہے پولیس افسر سے اس طرح بات کرنے والا؟ ۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے احسن گجر کو سخت لہجے میں کہ کہا کھڑے ہو جاؤ (اسٹینڈ اپ) ۔ تم کون ہو، کس حیثیت میں پولیس افسر سے بات کی؟ ۔ احسن گجر نے کہا کہ یہ بچے میرے پاس آتے رہتے ہیں (مانیکا کے بچے) میں ان کا سرپرست (گارڈین) ہوں، ان آفیشل ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ان کے والد نہیں ہیں؟ ۔ تم نے کیوں رابطہ کیا؟

احسن گجر نے کہا کہ جب مجھے واقعہ کا پتہ چلا تو ایک مشترکہ دوست کے ذریعے ڈی پی او سے درخواست کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کون ہے وہ مشترکہ دوست، افریقا والا یا آئی ایس آئی؟ ۔ احسن گجر نے کہا کہ افریقہ میں دوست پولیس افسر ہے، اقوام متحدہ کے مشن پر گیا ہے، اس کے ذریعے درخواست کی تھی ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ طارق صاحب آئے ہوئے ہیں آئی ایس آئی سے؟ ۔ اتنا چھوٹا سا واقعہ ہے اور آئی ایس آئی ملوث ہوگئی، یہ اس ملک میں قانون کی حکمرانی کی بنیاد ڈالی جا رہی ہے، کوئی افریقا جا رہا ہے، کوئی آئی ایس آئی کے پاس جا رہا ہے ۔ چیف جسٹس نے آئی جی سے کہا کہ احسن گجر کے خلاف پرچہ بنتا ہے، کس طرح یہ مداخلت کر سکتے ہیں؟ ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ جو بھی ہے رضوان گوندل بھی بڑے افسر ہیں یا خود کو سمجھتے ہیں، احسن گجر آپ ان سے کیا چاہتے تھے؟ ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کا وزیراعلی سے کیا تعلق ہے؟ ۔ احسن گجر نے کہا کہ میں بھی پاکستان کا شہری ہوں، مجھے بھی ان سے ملنے کا حق ہے ۔ چیف جسٹس نے سخت لہجے میں کہا کہ ہمارے سامنے جھوٹ مت بولیں ۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ سیاسی طور پر با رسوخ ہیں تو اس طرح کریں گے، پولیس کے کام میں مداخلت کی گئی ۔ چیف جسٹس نے احسن گجر سے دوبارہ پوچھا کہ آپ کا ان (خاور مانیکا فیملی) کے ساتھ کیا تعلق ہے ۔

احسن گجر نے بلند آواز میں قدرے تحکم کے ساتھ کہا کہ میں ان کا کسٹوڈین ہوں ۔ چیف جسٹس نے سخت لہجے میں فورا کہا کہ عدالت میں اپنی آواز بلند نہ کریں، آپ ان کے مامے ہیں، چاچے ہیں، ان کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے پولیس افسر رضوان گوندل کو طلب کیا کہ بتائیں اس دن انہوں نے وزیراعلی کے دفتر میں کیا کہا تھا؟ رضوان گوندل نے انگریزی میں بات شروع کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ اردو میں بتائیں ۔

رضوان گوندل نے کہا کہ احسن گجر نے مجھے کہا کہ ہم نے آپ کو دو بار پیغام بھجوایا مگر آپ نے عمل نہ کیا، میں نے جواب دیا کہ اگر اس پیغام کا یہ مطلب تھا کہ کسی کے ڈیرے پر چلا جاؤں تو یہ ممکن نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ وہ بہت بڑا خاندان ہے انگریز دور میں بھی ان کے ڈیرے پر ڈی سی اور پولیس افسر جاتے تھے، میں نے کہا کہ ان سے کہیں میرے دفتر نہیں آتے تو گھر آ جائیں ۔

چیف جسٹس نے آر پی او ساہیوال سے کہا کہ کیا آپ رضوان گوندل کے بیان کی تصدیق کرتے ہیں کیونکہ اس ملاقات میں دوسرے فرد آپ ہی تھے ۔ آر پی او شارق نے کہا کہ میں اس کی تصدیق کرتا ہوں ۔ چیف جسٹس نے آئی جی سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ دونوں افسران نے ملاقات کے بعد میرے علم میں یہ بات نہیں لائی کہ کیا ہوا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی فورس کی کیا عزت رہ گئی؟ ۔ کمال ہے یہ وزیراعلی ایک تیسرے شخص کو بلا کر کہتا ہے ۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ مجھے وزیراعلی نے ہدایات دی ہیں، وزیراعلی نے کہا کہ اگر ان کی داد رسی بنتی ہے تو کر دیں،عدالت سے استدعا ہے کہ ایک موقع دے دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں پولیس کو آزاد کر رہا ہوں ۔ ایڈووکیٹ جنرل آرٹیکل باسٹھ ون ایف (نااہلی) اور نااہلی مقدمات میں دیے گئے دونوں فیصلے پڑھے ہیں؟ ۔ کیا وزیراعلی کو نوٹس جاری کریں ۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وزیراعلی کا قبائلی پس منظر ہے وہاں اس طرح معاملہ حل کرنے کیلئے مل بیٹھا جاتا ہے، انہوں نے اچھی نیت کے ساتھ بلایا، آج کے بعد ایسا نہیں ہوگا ۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ قبائلی معاشرہ نہیں ہے، وزیراعلی کوئی بھی ہو اس کو قانون کا پتہ ہونا چاہئے، یہ ان کو بتا دیں کہ دوسرا چانس نہیں ملتا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بلائیں مانیکا صاحب کو، (وہ کرسی سے اٹھ کر دوبارہ سامنے گئے) چیف جسٹس نے کہا کہ آپ حیات ہیں؟ یہ (احسن گجر) کس چیز کے کسٹوڈین ہیں آپ کے بچوں کے؟ ۔ خاور مانیکا نے کہا کہ دہائیوں سے ان کا اور ہمارا خاندان قریب ہے، یہ روحانی طور پر بھی ہم سے وابستہ ہیں ۔ جن پولیس اہلکاروں نے میرے بیٹی کو بازو سے پکڑا وہ نشے میں تھے، جب میں پہنچا تو میری بیٹی کانپ رہی تھی، بیٹی نے بتایا کہ پاپا یہ لوگ نشے میں ہیں ۔ میں نے پولیس اہلکار کو ڈانٹا کہ تم نشے میں ہو، میری بیٹی کو کیوں روکا؟ اس کا ہاتھ کیوں پکڑا، وہ خاموش رہا ۔ پھر ایک پولیس افسر نے کہا کہ معاف کر دیں، پولیس افسر نے پاؤں پکڑنا شروع کر دیئے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پوچھ رہے ہیں کہ یہ شخص (احسن گجر) اس معاملے میں کہاں سے آ گیا؟ ۔

خاور مانیکا نے کہا کہ ہر کوئی ہمیں برا کہتا رہا مگر ہم نے ایک لفظ نہ بولا ۔ مانیکا نے اپنی بیٹی کو آواز دی کہ مبشرہ، ادھر آؤ ۔ مانیکا نے بیٹی روسٹرم پر پہنچی تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں، ہمیں زیادہ مسئلہ یہ ہے کہ ڈی پی او کا تبادلہ سیاسی دباؤ کے تحت ہوا، یہ ہماری بیٹی ہے اس کے ساتھ جو ہوا اس کو ناقابل برداشت سمجھتے ہیں ۔ خاور مانیکا نے کہا کہ میں نے رضوان گوندل کو فون کیا تھا اور واقعہ کا بتایا، میرا وزیراعلی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم احسن گجر کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں ۔ خاور مانیکا نے جواب دیا کہ میرے بچوں کیلئے جو بھی کچھ کرے گا میں اس کا شکر گزار ہوں گا، آپ ان کو سزا دیں، میں ان کا شکر گزار ہوں گا ۔

عدالت نے ڈی پی او کے تبادلے کا آرڈر لکھنے والے ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر شہزادہ سلطان کو بلا کر پوچھا کہ ہدایات کس وقت جاری کی تھیں؟ شہزادہ سلطان نے بتایا کہ رات بارہ بجنے میں چند منٹ باقی تھے، آئی جی نے دو دفعہ فون کیا تھا ۔ دس بجے فون کر کے پوچھا گیا کہ کیا کوئی افسر ہے جس کو ڈی پی او پاکپتن لگایا جا سکے، پھر میں نے آئی جی اور آر پی او کو واٹس ایپ کیا ۔ آر پی او نے تجویز دی تھی کہ انکوائری رپورٹ آنے تک رضوان گوندل کو نہ ہٹایا جائے لیکن آئی جی نے دوبارہ فون کر کے کہا کہ تبادلے کا آرڈر جاری کیا جائے ۔ چیف جسٹس نے آئی جی سے کہا کہ میں آپ سے مکمل سچ کی توقع کر رہا ہوں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا یہ بات ہوئی تھی کہ آپ کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے۔ وزیراعلی کے پرسنل اسٹاف افسر نے کہا کہ نہیں، میں نے یہ نہیں کہا، نہ ہی وزیراعلی نے ایسی بات کی۔ چیف جسٹس نے اسٹاف افسر سے کہا کہ عدالت سے واپس صاف جانا چاہتے ہو یا پکڑ پکڑا کر؟ ۔ عدالت میں جھوٹ کیوں بول رہے ہو، سچ کیوں نہیں بتاتے، کس کیلئے یہ سب کر رہے ہو؟ کس کو بچا رہے ہو؟ ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں تو بہت سنجیدگی کے ساتھ وزیراعلی کو آرٹیکل باسٹھ ون ایف کا نوٹس دینے کا سوچ رہا ہوں ۔ چیف جسٹس نے وزیراعلی کے اسٹاف افسر اور چیف سیکورٹی افسر کی سخت سرزنش کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ وزیراعلی خود عدالت میں حاضر ہو اور ان سوالوں کے جواب دے، آئی جی کو بہادر ہونا چاہیئے ۔ وزیراعلی خدا ہے؟ یہ بڑے لوگ ہوں گے، یہ خدا ہیں کسی کے؟ ۔ یہ کس طرح کسی کو کہہ سکتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے آئی جی سے کہا کہ پولیس کی عزت بچانے کیلئے کیا کیا ہے؟ ۔ آئی جی نے جواب دیا کہ میں دہراتا ہوں، تین بنیادی باتیں اپنے بیان حلفی میں بھی لکھی ہیں، ایک یہ کہ آئندہ کسی افسر نے وزیراعلی کے دفتر نہیں جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چیف جسٹس نے ٹوکتے ہوئے کہا کہ ہمارا صرف ایک مقصد ہے کہ پولیس آزاد ہو ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم نے بھی پولیس کو آزاد کرنے کا ایک بیان دیا مگر کیا وہ اس پر یقین بھی رکھتے ہیں؟۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کا باپ ایم این اے یا ایم پی اے رہ چکا ہے تو وہ اٹھ کر کہے کہ بلاؤ ڈی پی او کو ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ یہ جمہوری معاشرہ ہے اس کو قانون کے ذریعے چلانا ہے ۔ یہ قبائلی معاشرہ نہیں کہ اس کو روایات کے ذریعے چلایا جائے ۔ چیف جسٹس نے وزیراعلی کے اسٹاف افسر سے کہا کہ حیدر، کیوں جھوٹ بول کر اپنا کیریئر خراب کر رہے ہو۔ آر پی او نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ ملاقات کے دوران ایک موقع پر جب احسن گجر نے کہا کہ مانیکا فیملی کے خلاف سازش ہو رہی ہے، اور آپ کی پولیس کو مانیکا فیملی سے کیا مسئلہ ہے تب میں بولا، باقی اس ملاقات میں ان کے مخاطب رضوان گوندل ہی تھے ۔

اس دوران چیف جسٹس نے پوچھا کہ کدھر ہے وہ آئی ایس آئی صاحب؟ ۔ عدالت میں پیش ہونے والے افسر نے کہا کہ میں کرنل طارق فیصل ہوں میری پوسٹنگ فیصل آباد میں ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے آپ کا نام معلوم ہے، بتائیں اس معاملے سے کیا تعلق ہے؟۔

کرنل طارق نے بتایا کہ مجھے ایک مشترکہ دوست نے کہا کہ رضوان گوندل کے ساتھ یہ معاملہ ہے تو فون کر کے ان سے بات کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئی ایس آئی اس طرح کام کرتی ہے؟ آئی ایس آئی کا ملک کے انتظامی معاملات میں کیا کردار ہے؟ کرنل طارق نے جواب دیا کہ یہ میرا ذاتی رابطہ تھا، میرے محکمے کا اس سے لینا دینا نہیں ، میری دوستی ہے آئی ایس آئی کا تعلق نہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہر شخص عدالت سے جھوٹ بول رہا ہے، آپ کے ادارے سے بھی پوچھ لیتے ہیں ۔ عدالت نے ڈی آئی جی شہزادہ سلطان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پولیس کو دباؤ سے آزاد کرانے کیلئے عدالتی فیصلے موجود ہیں، سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس منیب نے بھی فیصلہ دیا تھا ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ہمیں قانون نہ پڑھائیں، ہمارے علم میں ہے، سوال کا جواب دیں اور اپنے مؤقف سے آگاہ کریں ۔ چیف جسٹس نے خاور مانیکا سے کہا کہ آپ کی بیٹی کے ساتھ جو ہوا اس پر ہم معذرت کرتے ہیں، قوم کی طرف سے معافی چاہتے ہیں، یہ ہماری بیٹی ہے مگر یہ صاحب جو کر رہے ہیں ان کو پوچھنا ہے، میں کون، ماما خا مخوا ۔ ان کی کیا اتھارٹی ہے، ان گجر صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں ۔

خاور مانیکا نے کہا کہ اس بات پر قائم ہوں کہ سازش ہے ۔ مجھے جب پولیس نے روکا تو ڈرائیور سے پوچھنے کی بجائے میری طرف کا شیشہ کھٹکھٹایا، ان کو کس نے بتایا کہ میں خاور مانیکا ہوں؟ ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دوسرے واقعہ میں ہمیں پولیس کی عزت زیادہ پیاری ہے ۔ مانیکا نے کہا کہ یہ ڈیرہ ڈیرہ کر رہے ہیں، میرا کوئی ڈیرہ نہیں، ان لوگوں میں سے نہیں جو ڈیرے چلاتے ہیں، زرعی زمین ہے سبزیاں اگاتا ہوں ۔ مجھے وزیراعلی کے دفتر والے واقعہ کا علم نہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسی لئے اس بارے میں آپ سے نہیں پوچھ رہے، آپ روسٹرم سے ہٹ جائیں ۔ ہم پوچھ رہے ہیں کہ احسن گجر نے کس حیثیت میں یہ سب کیا ۔

احسن گجر نے کہا کہ انہوں نے کسی کو حکم نہیں دیا نہ کوئی غیر قانونی کام کیا ہے، پولیس افسران درست بات نہیں بتا رہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم انکوائری کرا لیتے ہیں، ہمیں بھی بہت سے لوگوں کے بارے میں بہت کچھ پتہ ہے، پولیس میں بھی کوئی اتنے فرشتے نہیں ہوتے ۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ کو یاد ہے ایک بار رات کو آپ کے ٹرانسفر آرڈر کا معلوم ہوا تو میں نے روک دیئے، صبح آپ کو بحال کر دیا گیا تھا ۔ ابوبکر خدا بخش نے کہا کہ آپ نے مجھ سے فون پر کہا تھا کہ ڈان پڑھا ہے؟ تو میں نے اس وقت تک نہیں پڑھا تھا ۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کے ساتھ ہم پولییس کے قانون سے ماورا کاموں کو بھی برداشت نہیں کریں گے، پولیس اہلکاروں کے شراب پی کر بدتمیزی کو بھی برداشت نہیں کیا جائے گا، یہ میں اپنی ذات کی طرف سے بات کر رہا ہوں ۔ چیف جسٹس نے فورا کہا کہ یہ کوئی ذاتی بات نہیں عدالت یہ کہہ رہی ہے ۔ احسن گجر نے کہا کہ غیر جانبدارانہ انکوائری کرا لیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس ہی کرے گا اور کس سے کرائیں، جے آئی ٹی بنا لیتے ہیں ۔ احسن گجر نے کہا کہ عدالتی تحقیقات کرا لی جائیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے کمیشن بنانے چھوڑ دیے ہیں ۔

مقدمے کا آرڈر لکھواتے ہوئے چیف جسٹس نے کرنل سے کہا کہ اور آپ بھی آئندہ سے احتیاط کریں آئی ایس آئی ۔ کتنے سال سے آئی ایس آئی میں ہیں؟ کرنل نے بتایا کہ سولہ سال ہو گئے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے بڑے افسروں کو پتہ بھی نہیں ہوتا اور آپ اس طرح نجی سطح پر کام کرتے ہیں، لوگوں سے رابطے کرتے ہیں ۔ کرنل نے کہا کہ میں نے رضوان گوندل کو ڈیرے پر نہ جانے کیلئے کہا تھا مجھ سے منسوب کر کے غلط بیانی کی گئی ۔

عدالت نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ احسن گجر کے اس معاملے میں کردار کی انکوائری کی جائے اور اگر ان سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو کارروائی کی جائے ۔ اس حوالے سے ایک ہفتے میں رپورٹ دی جائے ۔ سپریم کورٹ نے ایڈیشنل آئی جی کو ہدایت کی کہ پاکپتن میں مانیکا کی بیٹی سے بدتمیزی کی مزید تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ سابق ڈی پی او رضوان گوندل کے خلاف بھی کچھ بنتا ہے تو انضباطی کارروائی کریں ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے